گلگت بلتستان پر کشمیریوں کا بنیادی دعویٰ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے مگر اس خطے کے عوام کی اکثریت گلگت بلتستان کو ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا ماننا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔

چونکہ ان کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے اور ان کی ثقافت زبان اور رسوم ورواج متنازعہ ریاست جموں وکشمیر سے بالکل علیحدہ اور منفرد ہیں اور اس خطے سے یکم نومبر 1947 کی جنگ آزادی گلگت بلتستان کے نتیجے میں ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ ہوچکی ہے تب سے یہ خطہ کسی طور پر بھی ریاست جموں وکشمیر کے زیر انتظام نہیں ہے بلکہ اس خطے کی اپنی ایک علیحدہ شناخت ہے۔

مگر دوسری طرف جموں وکشمیر پر پہلی جنگ کے بعد گلگت بلتستان پر وقت کے ساتھ دعویٰ داروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ہے اس لئے مقدمہ گلگت بلتستان کو سمجھنے کے لئے لازمی ہے کہ اس تنازعے سے جڑے دیگر فریقین کے موقف سے بھی آگاہی ہو تکہ بدلتی عالمی سیاست اور جنوبی ایشیاء میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے جو اس خطے میں امن اور ترقی کا ضامن بننے کے ساتھ اس خطے میں گزشتہ ستر سالوں سے پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ بھی کرسکے۔

گلگت بلتستان پر آر پار کی تمام کشمیری سیاسی جماعتوں کے نقطہ نظر کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گلگت بلتستان پر آر پار کے تمام کشمیری قیادت کا موقف یکساں ہے اور ان کا متفقہ بیانیہ بالکل واضح ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو ریاست جموں وکشمیر کا قانونی حصہ سمجھتے ہیں اور مقدمہ گلگت بلتستان کے دیگر لازمی فریقین کی طرح وہ بھی خود کو گلگت بلتستان کا قانونی حق دار مانتے ہیں اس لئے اپنے اس دعویٰ کی تائید میں وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ ساتھ 28 اپرئل 1949 کے معاہدہ کراچی کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس بابت مختلف فیصلوں سے بھی جواز حاصل کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ یہ وہ قانونی دستاویزات ہیں جن کی رو سے گلگت بلتستان متنازع ریاست جموں وکشمیر کا حصہ اور تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے، سچ پوچھو تو وہ اسی دعویٰ کی بنیاد پر خود کو گلگت بلتستان کا وکیل سمجھتے ہیں اور گزشتہ ستر سالوں سے مختلف بین الاقوامی فورمز میں وہ گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے بعد اس خطے سے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے اور یہ علاقے تب سے پاکستان کے زیر انتظام ہیں آور اس خطے کے عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں مگر گزشتہ ستر سالوں سے اس خطے کے بیس لاکھ عوام کا مستقبل مسئلہ کشمیر کی وجہ سے لٹکا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس خطے میں سیاسی بے چینی وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی رہی ہے جوکہ باعث تشویش ہے اور ستر سالوں سے اس خطے کے باسی ایک بہتر آئینی نظام اور قومی شناخت کے منتظر ہیں۔

بہرحال یہ سال 1990 کی بات ہے جب گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت سے متعلق ایک اہم رٹ پٹیشن نمبر 61 / 1990 آزاد جموں وکشمیر کے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی جس میں حکومت آزاد جموں وکشمیر کے ایڈوکیٹ جنرل نے ملک مسکین بنام حکومت پاکستان نامی کیس PLD 1993 p۔ 1 میں حکومت آزاد جموں وکشمیر کے موقف کو 10 نومبر 1991 کو لیٹر نمبر MQ/ 3518 / 91 کے تحت آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں جمع کروائی۔

جس کو آزاد ہائی کورٹ نے اپنے 152 صفحات پر مشتمل فیصلے کا حصہ بنایا کر اس تاریخی فیصلے کے صفحہ نمبر 16 میں reproduce کیا ہے جو کہ یہ ہے۔

عنوان: ملک محمد مسکین بنام حکومت پاکستان

متدائرہ عدالت عالیہ مظفرآباد۔

اسلام علیکم:

معاملہ مندرجہ عنوان الصدر میں حسب تحریر خدمت ہے کہ شمالی علاقہ جات کی آئینی حیثیت کے سلسلے میں عدالت عالیہ آزاد جموں وکشمیر میں دائر رٹ پٹیشن متذکرہ بالا میں آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے درج ذیل موقف پیش کرنے کی منظورہ صارد فرمائی ہے :۔

”شمالی علاقہ جات کو وہاں کے باشندوں نے 1947 میں جنگ آزادی کے دوران ڈوگرہ افواج کو شکست دے کر آزاد کروایا۔

1947 کے بعد اس وقت کی آزاد حکومت، مسلم کانفرنس اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے وزیر بے محکمہ حکومت پاکستان ایم۔ اے۔ گورمانی، جناب چودھری غلام عباس مرحوم اور جناب سردار محمد ابراھیم خان نے دستخط کیے اور اس معاہدے کی رو سے ان علاقہ جات کے تمام معاملات جو پولیٹیکل ایجنٹ گلگت کے پاس تھے حکومت پاکستان کو منتقل کر دیے گئے تھے۔ اور تب سے حکومت پاکستان کے پاس ہیں۔

گلگت، بلتستان، لداخ وغیرہ شمالی علاقہ جات کبھی بھی پاکستان کے کسی آئین کے مطابق مملکت پاکستان کا حصہ نہیں رہے اور 1973 کے موجودہ مروجہ آئین کے تحت بھی یہ علاقے پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔

شمالی علاقہ جات تاریخی، جغرافیائی، آئینی اور قانونی اعتبار سے ریاست جموں وکشمیر کا جزو لاینفک رہے ہیں اور آج بھی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں۔

لہذا شمالی علاقہ جات ریاست جموں وکشمیر کا ناقابل تقسیم حصہ ہیں جن کا کنٹرول ایک معاہدہ کے تحت حکومت پاکستان کے پاس ہے اور یہ علاقہ جات پاکستان کا آئینی طور پر حصہ نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل موقف کی بنیاد پر آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم صادر کیا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے اس لئے اس علاقے کی انتظامی کنٹرول فوراً ریاست آزاد جموں وکشمیر کے حوالہ کیا جائے۔

لیکن وفاق پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کی انتظامی کنٹرول کو قانون کے مطابق بالکل درست اور صحیح قرار دیا، اور اہم فیصلہ سے مقدمہ گلگت بلتستان نے ایک نیا رخ اختیار کیا جس کا ذکر آیندہ آرٹیکل میں کیا جائے گا تاکہ قارئین کو مقدمہ گلگت بلتستان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •