جانور راج: روفے جٹ کی دغا بازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسم خزاں میں تھکا دینے والی، سخت مشقت کے بعد ( کیونکہ ساتھ کے ساتھ کٹائی بھی جاری تھی ) پون چکی مکمل ہو ہی گئی۔ مشین ابھی لگنے والی تھی اور جناب نوید مسرت اس کی خرید کے لئے بات چیت کر رہے تھے، مگر عمارت بن چکی تھی۔ ہر مشکل، ناتجربہ کاری، پہلا پہلا کار، بد نصیبی اور سنو بال کی حرمزدگی کے باوجود، کام عین مقررہ دن پہ مکمل ہوا! تھکن سے چور مگر سرخرو، جانور اپنے شاہکار کا طواف پہ طواف کرتے رہے جو کہ ان کی نظروں میں اس سے زیادہ خوبصورت تھا جو انہوں نے پہلے بنایا تھا۔ مزید برآں دیواریں پہلے سے دوگنی موٹی تھیں۔ بم سے ہلکی کوئی شے اس بار ان کی محنت کو مٹی میں نہیں ملا سکتی تھی۔

اور جب انہوں نے سوچا کہ انہوں نے کس طور محنت کی، کس کس نا امیدی پہ قابو پایا، اور وہ عظیم انقلاب جو ان کی زندگیوں میں اس وقت بپا ہو جائے گا جب ( پون چکی کے ) پر گھومیں گے اور ڈائنموز چلیں گے۔ جب انہوں نے یہ سب سوچا تو ان کی تھکن اڑن چھو ہوئی اور وہ فتحمندی کے نعرے مارتے پون چکی کے گرد چوکڑیاں بھرنے لگے۔ نپولین بذات خود، اپنے محافظ کتوں اور نقیب مرغے کے ساتھ تکمیل شدہ کام کا معائنہ کرنے کو آ شامل ہوا؛ اس نے ذاتی طور پہ جانوروں کو ان کی کامیابی کی مبارکباد دی، اور اعلان کیا کہ چکی کو نپولین چکی کا نام دیا جائے گا۔

دو روز بعد جانوروں کو ایک خصوصی اجلاس کے لئے بڑے گودام میں بلایا گیا۔ وہ اس وقت حیرت سے گنگ رہ گئے جب نپولین نے اعلان کیا کہ اس نے لکڑی کا ڈھیر، روفے جٹ کو بیچ دیا ہے۔ کل روفے کا چھکڑا آئے گا اور اسے ڈھونا شروع کر دے گا۔ اللہ دتے سے ظاہری ربط کے تمام دور میں، نپولین درحقیقت روفے جٹ کے ساتھ خفیہ معاہدے میں تھا۔

بوہڑ والا سے تمام تعلقات توڑ لئے گئے ؛ اللہ دتے کو تضحیک آمیز پیغامات دیے گئے۔ کبوتروں کو خالصہ کلاں سے کترانے اور اپنا نعرہ، ”مرگ بر روفا جٹ“ سے ”مرگ بر اللہ دتہ“ کرنے کا حکم دیا گیا۔ عین اسی وقت پہ نپولین نے جانوروں کو یقین دہانی کرائی کہ جانوروں کے مزرعے پہ ایک متوقع حملے کی کہانیاں مکمل طور پہ جھوٹی ہیں، اور روفے کی اپنے جانوروں پہ ظلم و ستم کی کہانیاں بہت ہی بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہیں۔ یہ تمام افواہیں ممکنہ طور پر سنو بال اور اس کے گرگوں سے پھیلی ہیں۔ آخر کار اب ایسا لگنے لگا کہ سنو بال، خالصہ کلاں میں روپوش نہ تھا، بلکہ حقیقت میں وہاں اپنی زندگی میں کبھی نہیں گیا تھا : وہ تو رہ رہا تھا خوب عیش و آرام میں بوہڑ والا میں، اور در حقیقت گئے برسوں سے اللہ دتے کا وظیفہ خوار تھا۔

سور، نپولین کی چالاکی پہ سر خوشی کے عالم میں تھے۔ اللہ دتے سے بظاہر دوستی بڑھا کر اس نے روفے جٹ کو قیمت بارہ پاونڈز بڑھانے پہ مجبور کر دیا تھا۔ مگر نپولین کی اعلی دماغی اس امر سے عیاں تھی، چیخم چاخ نے کہا کہ وہ کسی پہ بھی اعتبار نہیں کرتا تھا، روفے جٹ پہ بھی نہیں۔ روفا جٹ، لکڑی کی قیمت، کسی شے جسے کہ چیک کہا جاتا ہے کہ ذریعے ادا کرنا چاہتا تھا جو کہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نظر آتا تھا جس پہ ادائیگی کا وعدہ تحریر تھا۔ مگر نپولین بھی ایک کائیاں تھا۔ اس نے ادائیگی کے لئے حقیقی پانچ پانچ پاونڈز کے نوٹ مانگے جو کہ لکڑی کی لدائی سے پہلے ادا کیے جانے تھے۔ روفا پہلے ہی ادائیگی کر چکا تھا؛ اور جو رقم اس نے دی تھی وہ پون چکی کی مشینری خریدنے کے لئے کافی تھی۔

اس دوران، لکڑی فٹافٹ بار کر کے لے جائی گئی۔ جب وہ ساری اٹھا لی گئی تو بڑے گودام میں جانوروں کو روفے جٹ کے نوٹوں کا معائنہ کرانے کو ایک اور خصوصی اجلاس ہوا۔ شفقت سے مسکراتے ہوئے، اپنے دونوں تمغے سجائے، اپنے پہلو میں فارم ہاؤس کی ایک چینی مٹی کی تشتری میں رقم کی گڈیاں جمائے، نپولین پیال کے ایک ڈھیر پہ براجمان تھا۔ جانور آہستہ آہستہ ایک قطار کی صورت گزرا کیے اور ہر ایک نے جی بھر کے آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ اور باکسر نے اپنی تھوتھن بڑھا کر نوٹوں کو سونگھا۔ لجلجے سفید کاغذ ہلے اور اس کے سانس سے پھڑ پھڑائے۔

تین روز بعد، ایک بھیانک شور و غوغا مچا۔ جناب نوید مسرت، پیلا زرد منہ لئے سائیکل دوڑاتے آئے، سائیکل احاطے میں پٹخی اور سیدھے فارم ہاؤس کو دڑکی لگائی۔ اگلے ہی لمحے نپولین کے کمرے سے ایک غیض و غضب میں ڈوبی دھاڑ سنائی دی۔ جو پیش آیا تھا اس کی خبر پورے فارم میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ نوٹ جعلی تھے! روفا جٹ، لکڑی مفت میں لے گیا تھا۔ نپولین نے فورا ہی جانوروں کو اکٹھا کیا اور ایک بھیانک آواز میں روفے کے لئے سزائے موت کا اعلان کیا۔ پکڑے جانے پر روفے کو زندہ ابالا جائے گا۔ اسی وقت اس نے ان کو متنبہ کیا کہ اس بد ترین حرکت کے بعد مزید بدی متوقع ہے۔ روفا اور اس کے گرگے کسی بھی لمحے وہ حملہ کر سکتے تھے جس کا مدت سے خدشہ تھا۔ فارم کے تمام داخلی راستوں پہ سنتری کھڑے کر دیے گئے۔ مزید برآں، چار کبوتر خیر سگالی کے پیغام کے ساتھ بوہڑ والا روانہ کیے گئے جو کہ یہ امید کی گئی کہ ممکن ہے اللہ دتے سے پھر سے اچھے تعلقات قائم کر پائیں گے۔

اگلی ہی صبح حملہ ہو گیا۔ جانور ابھی ناشتہ ہی کر رہے تھے کہ سرحدی پہرے دار اس خبر کے ساتھ دوڑے ہوئے آئے کہ روفا اور اس کے آدمی صدر دروازے سے اندر داخل ہو بھی چکے۔ بے حد بہادری سے جانور ان سے نمٹنے کو آگے جھپٹے مگر اس بار انہیں وہ آسان فتح نہ حاصل ہوئی جو کہ انہیں معرکہ ء گاؤ تھان میں ملی تھی۔ وہ پندرہ آدمی تھے، جن کے پاس درجن بھر سے زیادہ بندوقیں تھیں اور انہوں نے پچاس گز کے فاصلے پہ پہنچتے ہی فائر کھول دیا۔ جانور ان بھیانک دھماکوں اور چیرتے ہوئے چھروں کا سامنا نہ کر پائے اور نپولین اور باکسر کی ان کو مجتمع کرنے کی کوششوں کے باوجود وہ جلد ہی پیچھے دھکیل دیے گئے۔

ان میں سے بہت سے زخمی ہو چکے تھے۔ وہ باڑے کی عمارتوں میں جا چھپے اور درزوں اور جھریوں سے چپکے چپکے جھانکا کیے ۔ پوری بڑی چراگاہ، بشمول پون چکی کے، دشمن کے ہاتھ میں تھی۔ ایک لمحے کو نپولین بھی ہمت ہارتا لگا۔ وہ بنا ایک لفظ بولے یہاں سے وہاں ٹہلتا رہا اس کی دم اکڑی ہوئی تھی اور جھٹکے کھا رہی تھی۔ بوہڑ والا کی طرف حسرت آمیز نظروں سے تاکا گیا۔ اگر اللہ دتہ اور اس کے آدمی ان کی مدد کرتے تو اب بھی بازی پلٹی جا سکتی تھی۔ مگر اسی لمحے وہ چاروں کبوتر جو ایک روز پہلے بھیجے گئے تھے واپس پلٹے، ان میں سے ایک کے پاس اللہ دتے کی طرف سے کاغذ کی ایک پرچی تھی۔ اس پہ یہ الفاظ تحریر تھے۔ ”چنگی ہوئی تہاڈے نال“۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج! ”مرگ بر انسان“ سے ”مرگ بر روفا جٹ“ تک
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •