ثاقب نثار نے مجھے دھمکی دی کہ میرے بھائی کو تم سے کم تنخواہ ملتی ہے، میں تمہارے خلاف سوموٹو لوں گا: ڈاکٹر سعید اختر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعید اختر نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے اپنے خلاف سوموٹو اقدام کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ یہ سارا معاملہ ذاتی مفادات کی کشمکش کا تھا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو شکایت تھی کہ مجھے اور پی کے ایل آئی کے ڈاکٹروں کو ان کے بھائی سے زیادہ تنخواہ کیوں ملتی ہے۔

ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا کہ مشترکہ دوستوں کے ذریعے ہونے والی اس ملاقات میں وہ اور ان کی اہلیہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ ثاقب نثار مجھ سے ٹرانسپلاٹ کے بارے میں معلومات لینا چاہتے تھے۔ اس ملاقات میں شیخ امین اور سابق چیف جسسٹس کی اہلیہ بھی موجود تھے۔ اس دوران سابق چیف جسٹس کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ساجد نثار بھی تشریف لے لائے۔

پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات میں جب میں نے پی کے ایل آئی کے بارے میں مزید بتایا شروع کیا تو وہ اچانک غصے میں آ گئے۔ چیف جسٹس کے بھائی نے کہا کہ بھائی جان ان سے پوچھیں کہ ان کو 20 ارب روپے کس بات کے ملے ہیں؟ یہ میرے لیے بہت زیادہ غیر معمولی اور غیر مہذب لب و لہجہ تھا۔ میں نے کہا مجھے توکوئی بیس ارب روپے نہیں ملے، ایک ادارے کے لئے چیف منسٹر نے بیس ارب روپے تفویض کیے ہیں ۔

ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق پھر ڈاکٹر ساجد نثار کہنے لگے کہ بھائی جان آپ کو یاد ہے کہ سروسز ہسپتال میں جب پانی کی تونٹیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں تو ہم نے چندہ جمع کر کے ٹھیک کروائیں کیونکہ یہ بھی ٹھیک کروانے کے پیسے نہیں تھے اور ان کو بیس ارب روپے دیئے گئے ۔ ڈاکٹر سعیدنے کہا کہ میں نے جواب دیا کہ میں نے وزیراعلیٰ کے سامنے یہ شرط رکھی تھی چونکہ سرکاری ہسپتالوں کا بجٹ پہلے ہی بہت کم ہے تو پی کے ایل آئی کیلئے سرکاری ہسپتالوں کے بجٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا جائے گا۔ میں نے ثاقب نثار سے یہ بات کہی تو انہوں نے بھی اس پر اتفاق کیا کہ یہ چیز ریکارڈ پر ہے کہ پی کے ایل آئی کے لئے بجٹ سے ہیلتھ کیئر سے کوئی پیسہ نہیں لیا جائے گا اور ہیلتھ کیئر کے بجٹ کو بھی ڈبل کرنے کی کوشش کروں گا۔

ڈاکٹر سعید کے مطابق پھر ڈاکٹر ساجد نثار نے کہا کہ بھائی جان یہ آٹھ سے دس لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ جن ڈاکٹروں کو میں لے کر آیا ہوں ان میں سے کوئی پانچ لاکھ اور کوئی دس لاکھ ڈالر کماتا تھا۔ یہ دس لاکھ روپے ان کی ایک دن کی تنخواہ ہے۔ یہ لوگ دس لاکھ کیلئے نہیں بلکہ ایک جذبے کے ساتھ پاکستان آئے ہیں تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ میرا بھائی ایک لاکھ 35 ہزار روپے تنخواہ لیتاہے تو آپ نے کیسے انہیں (دوسرے ڈاکٹروں کو) دس لاکھ روپے کی آفر کی۔

ڈاکٹر سعید نے کہا کہ میں نے جواب دیا کہ ضرور ایک لاکھ 35 ہزار روپے تنخواہ لیتے ہوں گے لیکن وہ شام کو پرائیوٹ پریکٹس کرتے ہیں، جس میں وہ اچھے پیسے بنا لیتے ہیں لیکن ہمارے ڈاکٹر ز ادارے کے باہر کوئی پریکٹس نہیں کر سکتے۔ بس وہاں سے وہ بہت غصے میں آ گئے اور کہا کہ میں آپ کے خلاف سو موٹو نوٹس لوں گا اور آپ لوگوں کو دیکھ لوں گا۔ فورا چیف سیکریٹری کو بلاﺅ، ہیلتھ سیکریٹری کو بلایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں معذرت کر لینی چاہیے۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ سے متعلق عبوری تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر سمیت بورڈ کو معطل کر دیا تھا۔ عبوری فیصلے میں پی کے ایل آئی کے معطل کئے گئے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر کو بغیر اجازت بیرون ملک جانے سے بھی روک دیا گیا تاہم فروری 2019ء میں سپریم کورٹ نے انہیں اس کیس سے بری کر دیا نیز پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اور اس کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعید اختر کے بارے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے تمام احکامات کالعدم قرار دے دیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •