جمہوریت ہماری حتمی منزل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی معلوم تاریخ کے پانچ ہزار برس کے دوران میں دنیا بھر میں تقریباً چودہ ہزار سے زائد جنگیں لڑی گئیں، جن میں چار بلین انسانی جانیں تلف ہوئیں، کروڑوں لوگ زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں۔ بیسویں صدی میں دو بڑی عالمی جنگیں لڑی گئیں جن میں ساٹھ ملین لوگ لقمہ اجل بنے اور ایک سو دس ملین معذور ہوئے۔ بے گھری اور بربادی کا عذاب سہنے والے بھی کروڑوں میں ہیں۔ انسانی تاریخ کی عظیم و مشہور شخصیات میں بھی زیادہ تر فاتحین اور جنگجو شامل ہیں۔ ان میں ایسے سفاک اور سنگ دل بھی ہیں جنہوں نے خوں ریزی اور قتل و غارت گری کی عبرت انگیز تاریخ رقم کرتے ہوئے انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے ہیں۔ یعنی جس نے جتنے زیادہ بندے قتل کیے، جتنا زیادہ انسانی خون بہایا اور جس قدر سفاکیت کا مظاہرہ کیا وہ اتنا ہی بڑا فاتح اور مشہور ٹھہرا۔ ان فاتحین میں سکندر عظم، دارا، اشوک اعظم، چنگیز خان، ہلاکوخان، تیمور لنگ، نپولین بونا پارٹ، ہٹلر، سٹالن، بش وغیرہ نمایاں ہیں۔

ان خون ریز جنگوں کی بنیادی وجہ اقتدار کا حصول اور بادشاہت کا شوق رہا ہے۔ فتوحات کے زمانے میں با اثر، بہادر اور طاقتور لوگ اپنے مسلح جتھے اور لشکر جمع کرکے کمزوروں کی سر زمین او وسائل پرقابض ہوجاتے تھے اور اقتدارو اختیار کی ہوس پوری کرتے تھے۔ سکندر جییسے جنگجو نے محض تیس سال کی عمرمیں ایران، مصر اور ہندوستان کی بڑی بڑی سلطنتوں کو تاراج کر کے آدھی سے زیادہ دنیا کو فتح کر لیا تھا۔ اقتدار و اختیار کا حصول اس قدر اندھا شوق ہے کہ جس میں صرف بدن ہی بریدہ نہیں ہوتے بلکہ زمینوں اور وسائل کی بربادی کے ساتھ ساتھ رشتوں کا تقدس بھی بری طرح تاراج ہوتا ہے اور انسانیت کی قبا بھی تار تار ہوتی ہے۔ باپ نے بیٹوں کو سفاکی سے تہ تیغ کر دیا اور بیٹے نے پسر بزرگوار کو جیل میں ڈال کر اس کی آنکھیں نکلوا دیں۔

پھر آہستہ آہستہ تمدن نے ترقی کی۔ تہذیب آگے بڑھی۔ شعور نے کروٹ لی۔ فہم و فراست اورسوجھ بوجھ کا آغاز ہوا۔ علم و آگہی کے سوتے پھوٹے۔ فتوحات کے دور سے دنیا قومی ریاستوں کے عہد میں داخل ہوئی۔ بادشاہی نظام کی چیرہ دستیوں کے خلاف بھرپور احتجاج ہوئے۔ انقلابات کا ظہور ہوا۔ انسانی حقوق کا نعرہ بلند ہوا اور امن و جمہوریت کے علمبرداروں نے بے پناہ قربانیوں کے بعد جمہوریت کے اصول متعین کیے۔ وہ اقتدار جس کے لیے ایک ایک حملے میں لاکھوں لوگ جان سے گزر جاتے تھے، اس کے پر امن انتقال کے مرحلوں کا آغاز ہوا۔

مہذب دنیا نے جمہوری سیاسی اصول بنائے۔ جدید ریاستیں وجود میں آئیں۔ ملکوں کی سرحدیں متعین ہوئیں۔ آئین و قوانین بنے۔ مسلح جتھوں کی جگہ سیاسی پارٹیاں بنیں۔ اقتدار و حکومت کے لیے کشتوں کے پشتے لگانے کے بجائے آزاد، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جمہوریت کا ننھا پودا وقت گزرنے کے ساتھ تناور درخت بنتا گیا اور جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہوئے۔

مہذب دنیا میں آج ایسے خوش قسمت ممالک بھی موجود ہیں کہ جہاں اقتدار کے لیے کروڑوں لوگ قتل کر دیے جاتے تھے وہاں آج انتقال اقتدار کے تمام مراحل نہ صرف ایک بھی انسانی جان ضائع کیے بغیر طے کر لیے جاتے ہیں بلکہ معمولات زندگی کی روانی میں بھی ذرا برابر رکاوٹ نہیں آتی۔ یہ سب جمہوریت اور جمہوری قدروں کی پاسداری کے ثمرات ہیں۔ دنیا بھر کے مہذب ممالک میں جمہوریت کا یہی ماڈل کامیابی سے اپنا سفر طے کررہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور کی بنیاد پر میدان میں آتی ہیں۔ منصفانہ الیکشن ہوتے ہیں۔ اور جیتنے والی پارٹی کو حکومت بنانے کا اختیار مل جاتا ہے۔ حکومت بغیر کسی ادارے کے دباٶ کے پا لیسیاں بناتی ہے۔ تمام ایشوز پارلمنٹ میں زیر بحث آتے ہیں۔ کھل کر داخلہ اور خارجہ ایشوز پر مباحثہ ہوتا ہے اور پھر کسی پالیسی کو عملی طور پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ یہ تمام امور انجام دینے والے اول و آخر سیاست دان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے فیصلہ سازی میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں مگر کوئی طاقتور ادارہ اپنی طاقت کے زور پر ملک کا ٹھیکیدار بن کر سامنے نہیں آتا اور نہ ہی جمہوری سفر میں رکاوٹ آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایتھوپیا، صومالیہ، روانڈا، بنگلہ دیش، انڈونیشا اور ملائشیا جیسے ملک بھی ترقی کی دوڑ میں ہم سے کوسوں آگے نکل جاتے ہیں۔

اھر ہماری بد قسمتی ملاحظہ کیجیے۔ ہم ستر سال سے نام نہاد جمہوریت کو ڈنڈے کے زور سے ہانکے جارہے ہیں۔ ہماری تمام پالیسیاں ڈنڈے کے بل پر بنتی ہیں۔ ہمارے ہاں طاقت کا سرچشمہ جمہوریت نہیں، کوئی اور ٹھکانہ ہے۔ ہم آج بھی حقیقی تبدیلی کے لیے طاقت کے انہیں سرچشموں کی طرف دیکھتے ہیں جنہوں نے ستر سال سے ہماری منزل کھوٹی کر رکھی ہے۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ آج ہمارا کاروباری طبقہ زبوں حال معیشت کا نوحہ سنانے آرمی چیف کے دربار میں پہنچ جاتا ہے۔ انہیں بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ دکھاوے والی حکومت کے بس میں کچھ بھی نہیں۔ سپہ سالار صاحب بھی معیشت پر لیکچر دیتے اور جلد ہی حالات کے درست ہونے کی خوشخبر ی سنا کر کاروباری حضرات کو واپس بھیجتے ہیں۔ ہماری حکومت کے قائم رہنے کا واحد سہارا یہ ہے کہ ملک کے مقتدر ادارے ہمارے ساتھ ہیں۔ سپہ سالار بھی برملا اعلان فرماتے ہیں کہ جب تک آرمی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

آج ہم داخلہ و خارجہ محاذ پر سخت ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ معیشت کی تباہی، مہنگائی اور بے روزگاری کا عذاب اس پر مستزاد ہے۔ سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری اس تباہی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے سیاستدانوں سے پارلیمنٹ کے اندر فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے۔ ہم نے حقیقی جمہوریت اور جمہوری رویوں سے منہ موڑ لیا ہے۔ آئین و قانون کی پاسداری کوچھوڑ دیا ہے۔ اگر ہم نے دنیا کی اقوام میں باعزت مقام حاصل کرنا ہے تو فیصلہ سازی کا اختیار سیاستدانوں اور منتخب حکومتوں کے ہاتھ میں دینا ہوگا۔ مغربی اور یورپی ملکوں میں رائج حقیقی جمہوریت کے ماڈل کو اپنانا ہوگا۔ جنگ و جدل اور خون ریزی کے کاروبار سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنی حتمی منزل قرار دینا ہو گا۔ اسی صورت میں ہم جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •