ایل او سی کی طرف مارچ: عمران خان کی گمراہ کن حکمت عملی کا شاخسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے چند سو لوگ کاروں اور موٹر سائیکلوں پر لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے اور دو ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کا شکار اور بھارتی فوج کے نرغے میں آئے ہوئے محکوم کشمیریوں کی ’مدد‘ کرنے کے لئے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس ایڈونچر کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی کوئی حرکت بھارتی حکومت کو یہ عذر تراشنے میں مدد دے گی کہ پاکستان سے ’دہشت گرد‘ کشمیر میں تباہ کاری کے لئے آنا چاہتے ہیں ۔ اس طرح عالمی توجہ کشمیریوں کی صورت حال سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی ۔ اسی لئے عمران خان اس مارچ کو دشمن کے جال میں پھنسنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایسے لوگ پاکستان یا کشمیریوں کا مددگار ہونے کی بجائے بھارت کا آلہ کار بنیں گے۔

آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر کی طرف مارچ کا اعلان و اہتمام جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے کیا ہے۔ فرنٹ کے قائد یسیٰن ملک اس وقت بھارت کی قید میں ہیں۔ یہ کشمیری گروہ پاکستان کے اس مؤقف سے متفق نہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر کشمیر میں اس سوال پر استصواب کروایا جائے کہ کشمیری پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جے کے ایل ایف خود مختار کشمیر کا حامی ہے۔ یہ مؤقف  اپنی دھرتی اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے اس اصول پر ہی استوار ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت اس اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس سال 5 اگست کو بھارتی آئین کی شق 370 کو ختم کرکے کشمیریوں کی خودمختاری اور خصوصی حیثیت کو مکمل طور سے ختم کرنے اور کشمیر کو بھارتی علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان بھی گزشتہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ میں 70 برس قبل منظور کی گئی قراردادوں کے مطابق ہی اس تنازعہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

کشمیریوں کی بہت بڑی تعداد کو یہ مؤقف بھی قابل قبول نہیں ۔ پاکستان نے کبھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ حالات کی تبدیلی اور کشمیر میں پیدا ہونے والے نئے رجحانات اور سیاسی مزاج کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے بارے میں اپنے مؤقف میں ترمیم کرے۔ پاکستان بہر صورت یہ چاہتا ہے کہ کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے جس کے تحت کشمیر ی عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیں گے۔

 یہ خوش فہمی دو طرح سے ناقابل عمل ہے۔ ایک تو یہ کہ بھارت کبھی بھی کشمیر میں کوئی ایسا استصواب تسلیم نہیں کرے گا جس میں اس کے زیر قبضہ علاقے کے لوگ پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کرلیں۔ دوسرے یہ کہ 1989 سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جو نئی لہر ابھری ہے اور جس نے بھارتی حکومت کو زچ بھی کیا ہے اور کشمیری عوام میں آزادی کی امنگ کو دوبالا بھی کیا ہے، اس تحریک کے ہوتے کشمیری عوام کی اکثریت کبھی بھی کسی ایسے ریفرنڈم کو قبول نہیں کرے گی جس میں ان کے حق فیصلہ یا آزادی کے استحقاق کو دو ملکوں میں سے ایک کے زیر سایہ رہنے سے مشروط کردیاجائے۔

اگر کشمیر کا معاملہ کسی علاقے کے لوگوں کی آزادی اور اپنی خود مختاری کا فیصلہ کرنے کے بارے میں ہی ہے تو بھی یہ اصول ناکارہ اور بنیادی جمہوری اصول کے برعکس سمجھا جائے گا کہ کشمیریوں کو اگر کبھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے تو وہ اس حد تک محدود ہو کہ وہ اپنے علاقے کا قبضہ ایک ملک سے دوسرے ملک کو منتقل کرنے کا فیصلہ ہی کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ 70 برس قبل جب یہ تجویز منظور کی گئی تھی تو کشمیر میں آباد لوگ پاکستان اور بھارت کے درمیان انتخاب کے بارے میں ہی سوچتے ہوں لیکن اس دوران کشمیریوں کی نئی نسلیں نئے حالات اور تبدیل ہوتے سیاسی شعور کے ساتھ بڑی ہوئی ہیں اور ان کے سوچنے سمجھنے کے طریقہ میں بھی فرق رونما ہؤا ہے۔ پاکستانی حکومت یہ باور کرنے میں ناکام رہی ہے کہ اگر کشمیریوں کے حق کی بات کی جاتی ہے تو انہیں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ خطے کے تیزی سے تبدیل ہوتے حالات اور بھارتی حکومت کے انتہائی اقدامات کے بعد پاکستان کو کشمیریوں کے حق فیصلہ کے بارے میں واضح اور غیر مشروط پالیسی اختیار کرنی چاہئے تھی۔

عمران خان کی سربراہی میں پاکستانی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن یہ حکومت بھی کشمیر کے بارے میں پاکستان کی واضح پالیسی سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ جس طرح پاکستان مقبوضہ کشمیر پر اپنا حق فائق سمجھتا ہے ، اسی طرح بھارت آزاد کشمیر کو بھی اپنے زیر تسلط لانا چاہتا ہے۔ اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کئی مواقع پر اس حوالے سے اعلان بھی کرچکی ہے۔

کشمیر کے حوالے سے دونوں ملکوں کی پالیسی میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ عملی لحاظ سے بھارت مقبوضہ کشمیر کو طاقت کے زور پر اپنے زیر تسلط رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد کی وجہ سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں بھارت کے خلاف غم و غصہ زور پکڑتا رہا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان کسی مرحلے پر پوری وادی پر اپنا قبضہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگیا تو کشمیری عوام اس کے خلاف بھی نارضگی کا ایسا ہی اظہار کریں گے۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانے کا فیصلہ بھی درحقیقت ویسا ہی اقدام ہے جو 5 اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو انڈین فیڈریشن کی اکائیاں بناکر کیا ہے۔

عمران خان اور حکومت پاکستان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران کشمیر کو انسانی حقوق کا معاملہ اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے طور پر ضرور پیش کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے بھارتی وزیر نریندر مودی اور حکمران بی جے پی پارٹی کے خلاف سخت الفاظ بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اگر پاکستانی حکومت گزشتہ دو ماہ کے دوران اتنا شور و غل نہ کرتی اور اس معاملہ کو مسلم کش بھارتی پالیسی کے طور پر نہ بھی پیش کیا جاتا تو بھی دنیا میں انسانی حقوق کے ادارے اور اہم ممالک مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور مواصلت پر بندش کے خلاف ضرور آواز بلند کرتے۔ پاکستانی حکومت کے تند و تیز حملوں نے بھارت کی ضد اور کشمیریوں کی مشکل میں اضافہ کیا ہے۔ جبکہ کشمیریوں کے حق خود مختاری کے بارے میں پاکستان کوئی متوازن، قابل قبول اور جائز تجویز سامنے لانے میں بھی کامیا ب نہیں ہؤا۔

اس کے برعکس پاکستان اور آزاد کشمیر میں لوگوں کے جذبات کو انگیختہ کرنے اور بطور مسلمان آخری دم تک لڑنے کے بے معنی اعلانات سے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ بھی بڑھایا گیا اور کشمیریوں کے ایک گروہ کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی کہ ایل او سی کی طرف مارچ کرنا بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ ماہ کے شروع میں مظفر آباد میں ایک عوامی جلسہ سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کو ان کے اقوام متحدہ کے دورہ تک مؤخر کردیاجائے۔ اس کے بعد وہ خود یہ مارچ کرنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

گویا انہوں نے کشمیریوں کو یہ پیغام دیا تھا کہ وہ تیار رہیں اور ان کے اعلان کا انتظار کریں۔ پھر پاکستانی اور کشمیری مل کر لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کریں گے۔ اب عمران خان جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مارچ کو دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ انہیں بتانا چاہئے کہ حکومت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ اگر ایل او سی کی طرف مارچ کرنا غلط ہے تو اس کی امید کیوں دلوائی گئی تھی۔ اس افسوسناک صورت حال سے عمران خان کو سبق سیکھنا چاہئے کہ حساس موضوع پر سیاسی مقبولیت پسندی کا کھیل کھیلنے سے گریز کیا جائے۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی قیادت کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ چند سو لوگوں کو لائن آف کنٹرول کی طرف لے جاکر ، وہ صرف معصوم لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے گی۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اس مارچ کوروکنے کے لئے تشدد کیا تو بھی بے گناہ لوگ ہی مارے جائیں گے۔ اگر یہ لوگ کسی طرح لائن آف کنٹرول تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارتی فورسز ان کو نشانے پر لے لیں گی ۔ ایل او سی کی طرف مارچ کے منتظمین اگر چند سو کی بجائے چند لاکھ لوگوں کو مارچ پر آمادہ کرنے اور ایک بڑا ہجوم ایل او سی کی طرف جانے کے لئے تیار کرنے میں کامیاب ہوتے تو ضرور اسے نوٹس بھی کیا جاتا اور اس کا سیاسی اثر بھی مرتب ہوتا۔ لیکن جو بھارتی فوج    80 لاکھ کشمیریو ں کو قیدی بنائے ہوئے ہے، وہ پاکستان سے آنے والے چند سو موٹر سائیکل سواروں کو کیوں کر خاطر میں لائے گی۔

کشمیری قیادت کو عمران خان یا حکومت پاکستان کو خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے عوام کی بہبود و زندگی کے لئے اس خطرناک ارادے سے باز رہنا چاہئے۔ اسی طرح عمران خان ٹوئٹر پیغامات میں مارچ کرنے والوں پر بھارت دوستی یا کشمیر دشمنی کا لیبل چسپاں کرنے کی بجائے ، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر کشمیر پر کوئی قابل عمل پالیسی سامنے لاسکیں تو ان کی باتوں کو غور سے سنا جائے گا۔ بصورت دیگر جوں جوں اقوام متحدہ کی تقریر پر تحسین و آفرین کا خود ساختہ طوفان تھمنے لگے گا، اسی کے ساتھ پاکستانی حکومت پر کشمیر کو فروخت کرنے کا الزام شدت سے عائد کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے اعلان کے ساتھ ہی اس کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1342 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali