ہم اور ہمارے ابا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھٹی کادن۔ ہم نے اپنی ہی دھن میں ایک قدم کمرے سے باہر نکالا اور سامنے لاؤنج میں ابا کے ہاتھوں میں سوئی دھاگہ اور شرٹ دیکھ کر اتنی ہی تیزی سے غڑاپ وہی پاؤں اندر واپس کھینچ لیا، حسب عادت فٹافٹ کتاب کھول کر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ دیکھیں بھلا آج کس ‏کی باری آتی ہے اور آج کیا یہ کتاب کچھ بچت کروا سکے گی یا نہیں۔

انتظار ختم ہوا۔ اور اپنے کمرے کے باہر قدموں کی چاپ سے اندازہ ہوا کہ قرعہ فال ہمارے ہی نام نکلا ہے۔ ابا نے کمرے میں آکر کتاب کو یکسر نظرانداز کر کے ہمارے ہاتھوں میں شرٹ تھماتے ہوئے کہا ”دیکھو تو مسجد سے واپسی میں کچھ خریدتے ٹھیلے کی کیل میں پھنس کر یہ قمیض ذرا پھٹ گئی ہے، میں نے رفو کرنا شروع کیا ہے، ذرا دیکھیں تو سہی اگر تم اس کو اسی طرح رفو کر سکتی ہو؟ “۔

‏اور ہم نے انتہائی فرمانبرداری سے ”جی پاپا“ کہہ کر سوئی دھاگہ ان کے ہاتھ سے لے کر طبع آزمائی شروع کی۔ وہ درمیان میں بتاتے جاتے کہ ”نا بیٹا چھوٹا ٹانکا لو ورنہ بدنما معلوم ہو گا“۔ ”بیٹا قمیض کے دھاگوں کو نیچے دباتے جاؤ ورنہ اوپر دھاگے نظر آئیں گے اور صفائی سے سلائی نا ہو پائے گی“۔ ”ٹانکے اتنی سختی سے نا لگاؤ ورنہ جھول آ جائے گا“۔

ہماری اماں سلائی، کڑھائی، بُنائی سب میں طاق ہیں مگر سوئی دھاگے سے رفو، ترپائی، بٹن ٹانکنا اور کئی قسم کے ٹانکے اور بخیے ہم نے اپنے ابا سے سیکھے۔ کبھی کبھی تو ہمیں شک گزرتا کہ وہ مختلف کیلوں سے محض اسی لیے بِھڑتے رہتے ہیں کہ ہم ہر رنگ و نسل کے پھٹے کپڑے سینا سیکھ لیں۔ کبھی پرانی بیڈ شیٹ اور تکیہ غلافوں کے سوراخ اور لیر لیر رومال جن کے متعلق ہمیں یقین تھا کہ پھینکے جانے ہیں یا کاٹ کوٹ کر ان کے ڈسٹر بننے والے ہیں، مگر ان سب کو ان کے منتقی انجام تک پہنچانے سے پہلے ہم سے ان سوراخوں کو بھروایا جاتا تھا۔

ایسے موقعوں پر ہمارے ابا ایک مخصوص جملہ بولتے کہ ”بیٹا کل کو کچھ ضرورت پڑے گی تو اتنے چھوٹے سے کام کے لیے کسے ڈھونڈتی پھرو گی؟ “۔ اور ہم دہل کر دل ہی دل میں دعا کرتے کہ اللّہ وہ وقت نا لائے کہ ہم اتنے لیر لیر پرانے کپڑے سیتے پھریں۔ احترام اور کچھ ڈر مانع آ جاتا تھا اس لیے کبھی ببانگ دہل اظہار کی ہمت تو نہ کی لیکن کبھی کسی ادھڑی سلائی سے متعلق ابا سے دبے لفظوں میں کہتے کہ ”پاپا یہ تو امی دو منٹوں میں مشین سے سی دیں گی“ اور پاپا کا متوقع جواب آتا کہ ”کل کو اگر مشین میسر نا ہوئی تو؟ “۔ اور ہم پھر کہہ نا پاتے کہ یا خدا! ہمیں کل کو کس کالے پانی بھیجنے والے ہیں؟

‏شادی کے بعد ہم نے اپنی نند کے انتہائی قیمتی دوپٹہ کو جس کے لیے کسی رفو گر کی ڈھنڈائی پڑ رہی تھی رفو کر کے اس کے ہاتھ میں پکڑایا ‏تو سب کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے اور ہم نے اپنی خوشی چھپاتے اپنے ابا کو یاد کرتے انتہائی تجاہل عارفانہ سے کہا کہ ”ارے یہ تو کچھ مشکل نا تھا“۔

ہمیں بے حد فخر ہے کہ ابا سے ہم بھائی بہنوں نے صرف لکھنا پڑھنا ہی نہیں بلکہ یہ سب بھی سیکھا۔

آج بھی جب سوئی دھاگہ ہاتھ میں پکڑتے ہیں تو اپنے ابا کو یاد کرتے ہیں، ان کے کام سکھانے کے طریقۂ کار پر ہنسی بھی آتی تھی کہ ہم بچوں میں سے کسی کو بلا کر اسے کام دینے کے بجائے وہ خود لاؤنج میں بیٹھ جایا کرتے تھے، مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہم آ کر خود ان سے پوچھیں کہ ”لائیں دکھائیں پاپا آپ کیا کر رہے ہیں ہمیں دیجیے ہم کر دیتے ہیں“۔ ادھر ہم کبھی اچھے بچوں کی طرح ان کی توقع پر پورا اتر جاتے کبھی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے کمرے میں چھپ جاتے، گو کہ راہ فرار وہاں بھی نا ملتی۔

وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ان کاموں کے دوران ہوا کرتیں یاد آتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور سب سے بڑھ کر ان کا بیٹے بیٹیوں سے مساوی سلوک۔ انہوں نے بیٹے بیٹی کی تفریق کبھی نہیں کی یہ سب چھوٹے چھوٹے کام بیٹوں کو بھی سکھائے۔ یہی اقدار ہیں جو اب ہماری کوشش ہے کہ اپنے بچوں کو سکھا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •