غریب ملازماؤں پر ظلم و تشدد

گھر میں صفائی کے دوران اپنی اماں جان سے جو جملے اور ڈانٹ ہمیں اکثر سننے کو ملا کرتی تھی وہ کچھ اس طرح ہوتی تھی۔ ”بستر کے نیچے جوتوں سینڈلوں کا ڈھیر ہے، جوتوں کی الماری کس لیے ہے؟ کیا سلیمہ تمہاری نوکر ہے جو ایک ایک جوتا اٹھا کر صفائی کرے گی؟ “چھٹی والے دن صبح صبح جب باجی سلیمہ پنکھا بند کر کے سپڑ سپڑ کمرے میں جھاڑو شروع کر دیتیں تو ہم جھنجلا کر کہتے باجی سلیمہ آپ تھوڑا دیر سے نہیں آ سکتیں؟ اور سلیمہ سے پہلے اماں کی گرج دار آواز آتی کہ کیوں کیا وہ تمہاری نوکر ہے؟ اس کو کوئی اور جگہ کام نہیں؟ کبھی کبھی تو دل کرتا کہ کہہ دیں نوکر نہیں تو پھر کیا ہے؟ مگر نہیں صاحب ہمیں پیار نہیں واقعی اماں کے تھپڑ سے ڈر لگتا تھا۔

Read more

کم عمری کی شادی کا قانون، محمد علی جناح سے علی محمد خان تک

کینیڈا میں تقریباً دس سال ہونے کو آئے، مگر کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ اس کے لیے ہم اپنے والدین کو دعا دیتے ہیں، جنہوں نے ما شا اللّہ ملکی آبادی میں ٹھیک ٹھاک اضافہ کیا اور جن کے بچوں کی اکثریت کینیڈا میں مقیم ہے۔ دیار غیر میں بہن بھائیوں کا ساتھ ہو، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟کل افطار پر سب اکٹھے ہوئے۔ ساتھ روزہ کھولا گیا۔ ہم بہنوں کی نا ختم ہونے والی باتیں اور بھانجے بھانجیوں کے بے فکری سے لگائے قہقہے اور اٹکھیلیاں۔

Read more
––>