فادرز ڈے

اماں ابا کی شادی پچاس کی دہائی کے آخر میں ہوئی۔ ابا گریجویٹ تھے اور اماں کبھی سکول بھی نہیں گئی تھیں۔ قرآن پڑھنا جانتی تھیں اور اسی توسط سے اردو کی بھی معمولی شد بد تھی۔ لکھ نہیں سکتی تھیں اور دستخط کی جگہ انگوٹھا لگاتی تھیں۔ ابا نے انہیں اردو لکھنا سکھایا انگریزی کے حروف تہجی کی پہچان کروائی اور ساتھ ہی اردو اور انگریزی میں ان کا نام لکھنے کی مشق بھی کروائی تاکہ وہ کاغذات پر

Read more

ڈاکٹر صاحب اور پطرس کی سائیکل

ڈاکٹر صاحب سے دوستی یوں تو میڈیکل کالج کے دوسرے سال ہوئی مگر قلبی لگاؤ، انڈر سٹینڈنگ، ابے تبے والی بے تکلفی بلکہ ایک دوسرے کی سر عام بے عزتی کے حوالے سے سوچیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے گویا ایک دوسرے کی انگلی پکڑ کر ہی ساتھ ساتھ چلنا سیکھا۔ کورس کی کتابوں کے علاوہ کچھ دوسری فالتو کتابیں پڑھنے کا شوق مشترک تھا اور یہی شوق دوستی کا سبب بنا۔ ہم اپنے آپ کو تو ادب

Read more

نائن الیون

چار بہنوں سے چھوٹی اوپر تلے دو بھائیوں کے بعد آئیں اور اللہ میاں معلوم نہیں کیوں لڑکوں کی ہیٹ ٹرک کرتے کرتے رک گئے تھے۔ تمام عادتیں، لباس اور پسند وہ، جن کا لڑکیوں میں ہونا بلاوجہ اچنبھا سمجھا جاتا ہے۔ بھائیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہر وقت ان کا آؤں گا، کھاؤں گا، جاؤں گا چلتا رہتا تھا۔ سات سال گھر میں راج کیا، سب سے چھوٹے ہونے کے مزے لوٹے اور اس کے بعد بلاوجہ ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے ہم چلے آئے۔

Read more

وہ لوگ جن سے خدا محبت کرتا ہے

سمیرا کے والدین ستر کی دہائی میں ہجرت کر کے کینیڈا آباد ہو گئے تھے۔ سمیرا کی پیدائش، پرورش، شادی کینیڈا میں ہی ہوئی۔ شوہر کا خاندان بھی کینیڈا میں ہی آباد تھا۔ دونوں کی اچھی نوکری تھی اور اچھی زندگی گزر رہی تھی۔ اس دوران شادی کے پانچ سال گزر گئے مگر وہ اولاد کی خوشی نہیں پا سکے تو دونوں میاں بیوی نے پاکستان سے بچہ گود لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایدھی سینٹر سے رابطہ

Read more

اقبال کا اقبال بلند ہو

‏بچپن سے ابا کو اپنے آئیڈیل کے روپ میں دیکھا۔ وہ کیسے بات کرتے ہیں، کیسے اٹھتے بیٹھتے ہیں، کیا پڑھتے ہیں کیا دیکھتے ہیں۔ سب گھر والے یہاں وہاں اور ہم ابا کے ساتھ کبھی دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں طارق عزیز کا سلام لے رہے ہیں تو کبھی تجارتی خبروں میں کپاس کے نرخ اور دس گرام سونے کا بھاؤ ذہن نشین کر رہے ہیں۔ کبھی ابا کو حبیب ولی محمد، مہدی حسن اور استاد امانت علی خان کی

Read more

ہم تو معتوبِ زمانہ ٹھہرے، آنے والوں کا سوچیے

خوف، ڈراوا، ہنسی، ٹھٹول، تمسخر، بس ان سے متعلق یہی کچھ دیکھا تھا بچپن سے۔ گھر میں تو جیسے اس موضوع پر گفتگو شجر ممنوعہ تھی۔ کئی سوال اٹھتے ذہن میں مگر کس سے پوچھتے؟ یہ کون ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتے؟ عجیب سی سرخی پاؤڈر کیوں لگائی ہوتی ہے؟ آواز کچھ الگ سی کیوں ہوتی ہے؟ کس سے پوچھیں؟ بہن سے تھوڑی بے تکلفی مگر وہ بھی اپنی سمجھ کے مطابق مطمئن کرنے میں

Read more

مارچ اور عورت مارچ

کبھی دل کرتا ہے کوئی تمہید نہ باندھی جائے، سیدھی سادی بات کی جائے۔ کوئی لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں کوئی طلسماتی جادوگری بھی نہیں۔ عورتوں کے حقوق کی علمبردار خاتون نے جذبات میں آ کر ایک نام نہاد ادیب کی بات کیا کاٹ دی، اس شخص نے شدید بدزبانی سے اپنی ساری تہذیب و تربیت کی اور اس کی حمایت کرتے خواتین و حضرات نے جہاں پورے معاشرے کی اخلاقیات کی قلعی کھول کر رکھ دی، وہیں مخالفین بھی

Read more

وہ ہماری دوست نہیں تھی

‏وہ ہماری دوست نہیں تھی۔ دوستی تو دور کی بات ہم تو اس سے بات تک نہ کرتے تھے۔ کہاں ہم! کلاس کے سب سے لائق فائق، ٹیچرز کی آنکھ کا تارا اور کہاں وہ سب سے پیچھے کونے کی بنچ پر بیٹھنے والی، شاید میٹرک تک پہنچنے کے لیے کچھ جماعتیں بھی اس نے دو دفعہ پڑھی تھیں۔ ایسی لڑکیوں سے بھلا ہم کیوں دوستی کرتے؟ ہماری تو اکڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ اور پھر وہ تو بولتی ہی

Read more

ہماری یادوں کا کمرہ

فلسفہ و دانش، عمرانیات، معاشیات، فلکیات، طبیعات اور بالعموم وہ تمام علوم جن کا اختتام ”ت“ پر ہوتا ہے، ان سب کا اور ہماری گفتگو کا آپس میں اتنا ہی تعلق ہے جتنا مینار پاکستان کا ایفل ٹاور سے بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ ان دو کے بیچ فاصلہ بھی اتنا ہی حائل ہے تو کچھ غلط نا ہو گا۔ اگر خدانخواستہ کبھی ہم سے بہت دانشمندانہ گفتگو سرزد ہو جائے تو ناصرف اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا

Read more

قصہ ایک گھاؤ کا

دوستو! ہم نا صرف دل سے مانتے ہیں بلکہ سر عام اس بات کا اعلان کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ نابغئہ روزگار ہیں ہم سمیت وہ تمام لوگ جنہیں ایک پھانس بھی چبھ جائے تو اردو کے تمام محاورے انہیں اپنی تمام تر معنویت اور سنگینی کے ساتھ یاد آنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے کہ ”دن میں تارے نظر آنا“، ”آنکھوں تلے اندھیرا چھا جانا“، ”آسمان ٹوٹ پڑنا“، ”ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جانا“،

Read more

ہم اور ہمارے ابا

چھٹی کادن۔ ہم نے اپنی ہی دھن میں ایک قدم کمرے سے باہر نکالا اور سامنے لاؤنج میں ابا کے ہاتھوں میں سوئی دھاگہ اور شرٹ دیکھ کر اتنی ہی تیزی سے غڑاپ وہی پاؤں اندر واپس کھینچ لیا، حسب عادت فٹافٹ کتاب کھول کر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ دیکھیں بھلا آج کس ‏کی باری آتی ہے اور آج کیا یہ کتاب کچھ بچت کروا سکے گی یا نہیں۔ انتظار ختم ہوا۔ اور اپنے کمرے کے باہر قدموں

Read more

پرائے دیس میں دیس کی یاد

پرانی عمارتیں، پرانی گلیاں، پرانے مجسمے، پرانے گانے، پرانی کتابیں، پرانے شاعر اور پرانی یادیں، ان سب کا اپنا ہی فسوں ہے۔ اور عمر کے ساتھ ساتھ جیسے ان بیتی یادوں کے رنگ اور بھی شوخ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی کی عمارت تقریباً پچھتر سال اور سول ہسپتال کی اصل عمارت تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔ پیلی اینٹوں کی بنی، اونچی چھتیں، بڑے بڑے برآمدے، کھڑکیاں بڑی اور ایسے رخ پر کہ شدید گرمیوں

Read more

غریب ملازماؤں پر ظلم و تشدد

گھر میں صفائی کے دوران اپنی اماں جان سے جو جملے اور ڈانٹ ہمیں اکثر سننے کو ملا کرتی تھی وہ کچھ اس طرح ہوتی تھی۔ ”بستر کے نیچے جوتوں سینڈلوں کا ڈھیر ہے، جوتوں کی الماری کس لیے ہے؟ کیا سلیمہ تمہاری نوکر ہے جو ایک ایک جوتا اٹھا کر صفائی کرے گی؟ “چھٹی والے دن صبح صبح جب باجی سلیمہ پنکھا بند کر کے سپڑ سپڑ کمرے میں جھاڑو شروع کر دیتیں تو ہم جھنجلا کر کہتے باجی سلیمہ آپ تھوڑا دیر سے نہیں آ سکتیں؟ اور سلیمہ سے پہلے اماں کی گرج دار آواز آتی کہ کیوں کیا وہ تمہاری نوکر ہے؟ اس کو کوئی اور جگہ کام نہیں؟ کبھی کبھی تو دل کرتا کہ کہہ دیں نوکر نہیں تو پھر کیا ہے؟ مگر نہیں صاحب ہمیں پیار نہیں واقعی اماں کے تھپڑ سے ڈر لگتا تھا۔

Read more

کم عمری کی شادی کا قانون، محمد علی جناح سے علی محمد خان تک

کینیڈا میں تقریباً دس سال ہونے کو آئے، مگر کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ اس کے لیے ہم اپنے والدین کو دعا دیتے ہیں، جنہوں نے ما شا اللّہ ملکی آبادی میں ٹھیک ٹھاک اضافہ کیا اور جن کے بچوں کی اکثریت کینیڈا میں مقیم ہے۔ دیار غیر میں بہن بھائیوں کا ساتھ ہو، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟کل افطار پر سب اکٹھے ہوئے۔ ساتھ روزہ کھولا گیا۔ ہم بہنوں کی نا ختم ہونے والی باتیں اور بھانجے بھانجیوں کے بے فکری سے لگائے قہقہے اور اٹکھیلیاں۔

Read more