ہماری یادوں کا کمرہ

فلسفہ و دانش، عمرانیات، معاشیات، فلکیات، طبیعات اور بالعموم وہ تمام علوم جن کا اختتام ”ت“ پر ہوتا ہے، ان سب کا اور ہماری گفتگو کا آپس میں اتنا ہی تعلق ہے جتنا مینار پاکستان کا ایفل ٹاور سے بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ ان دو کے بیچ فاصلہ بھی اتنا ہی حائل ہے…

Read more

قصہ ایک گھاؤ کا

دوستو! ہم نا صرف دل سے مانتے ہیں بلکہ سر عام اس بات کا اعلان کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ نابغئہ روزگار ہیں ہم سمیت وہ تمام لوگ جنہیں ایک پھانس بھی چبھ جائے تو اردو کے تمام محاورے انہیں اپنی تمام تر معنویت اور سنگینی کے ساتھ یاد آنا شروع…

Read more

ہم اور ہمارے ابا

چھٹی کادن۔ ہم نے اپنی ہی دھن میں ایک قدم کمرے سے باہر نکالا اور سامنے لاؤنج میں ابا کے ہاتھوں میں سوئی دھاگہ اور شرٹ دیکھ کر اتنی ہی تیزی سے غڑاپ وہی پاؤں اندر واپس کھینچ لیا، حسب عادت فٹافٹ کتاب کھول کر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ دیکھیں بھلا آج کس…

Read more

پرائے دیس میں دیس کی یاد

پرانی عمارتیں، پرانی گلیاں، پرانے مجسمے، پرانے گانے، پرانی کتابیں، پرانے شاعر اور پرانی یادیں، ان سب کا اپنا ہی فسوں ہے۔ اور عمر کے ساتھ ساتھ جیسے ان بیتی یادوں کے رنگ اور بھی شوخ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی کی عمارت تقریباً پچھتر سال اور سول ہسپتال کی اصل…

Read more

غریب ملازماؤں پر ظلم و تشدد

گھر میں صفائی کے دوران اپنی اماں جان سے جو جملے اور ڈانٹ ہمیں اکثر سننے کو ملا کرتی تھی وہ کچھ اس طرح ہوتی تھی۔ ”بستر کے نیچے جوتوں سینڈلوں کا ڈھیر ہے، جوتوں کی الماری کس لیے ہے؟ کیا سلیمہ تمہاری نوکر ہے جو ایک ایک جوتا اٹھا کر صفائی کرے گی؟ “چھٹی والے دن صبح صبح جب باجی سلیمہ پنکھا بند کر کے سپڑ سپڑ کمرے میں جھاڑو شروع کر دیتیں تو ہم جھنجلا کر کہتے باجی سلیمہ آپ تھوڑا دیر سے نہیں آ سکتیں؟ اور سلیمہ سے پہلے اماں کی گرج دار آواز آتی کہ کیوں کیا وہ تمہاری نوکر ہے؟ اس کو کوئی اور جگہ کام نہیں؟ کبھی کبھی تو دل کرتا کہ کہہ دیں نوکر نہیں تو پھر کیا ہے؟ مگر نہیں صاحب ہمیں پیار نہیں واقعی اماں کے تھپڑ سے ڈر لگتا تھا۔

Read more

کم عمری کی شادی کا قانون، محمد علی جناح سے علی محمد خان تک

کینیڈا میں تقریباً دس سال ہونے کو آئے، مگر کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ اس کے لیے ہم اپنے والدین کو دعا دیتے ہیں، جنہوں نے ما شا اللّہ ملکی آبادی میں ٹھیک ٹھاک اضافہ کیا اور جن کے بچوں کی اکثریت کینیڈا میں مقیم ہے۔ دیار غیر میں بہن بھائیوں کا ساتھ ہو، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟کل افطار پر سب اکٹھے ہوئے۔ ساتھ روزہ کھولا گیا۔ ہم بہنوں کی نا ختم ہونے والی باتیں اور بھانجے بھانجیوں کے بے فکری سے لگائے قہقہے اور اٹکھیلیاں۔

Read more