سوشل میڈیا ٹرینڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت:

عورت کی آزادی، عورت کا لباس، چادر، چاردیواری، حیا، حیا داری، کردار، بد کرداری، ورجینٹی، جہیز، شادی عورت، عورت، عورت۔ کھانا ہضم کرنے کا نسخہ ہے آج کل۔ صنف نازک ہے، انسان نہی۔ اور اب تو عورت کو بھی یہی لگتا ہے، سو کوئی عورت کے لیے آواز اُٹھاے تو اب اتنی ٹریند ہے کے خود برا بھلا بھی کہ لیتی ہے۔ آدھا کلو گوشت کو سینے پہ لیے پھرنے کا نتیجہ صنف نازک کا لقب مل گیا۔

مذہب:

میرا فرقہ، تیرا فرقہ، میرا مذہب، تیرا مذہب، مگر یہ لوگ اُن شمع کے پتنگوں کی طرح کے ہوتے ہیں، جیسے برسات میں بارش کے بعد پتنگے نکلتے ہیں شمع سے ٹکراتے ہیں اور مر جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی یہ سیزنل ہوتے ہیں، محرم کے الگ، ربیع الاول کے الگ، حج کے الگ، پھر آتے ہیں جو مکہ مدینہ جاتے تو حج عمرہ کے لیے ہیں پر قبولیت کی درخواست سوشل میڈیا پہ کرتے ہین فوٹو شوٹ کے ساتھ۔ پھر آتے ہیں جو آج کل کسی بھی مذہبی انسان سے زیادہ تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں اتھیسٹ۔ باقی مذاہب کے جتنے لوگوں سے میرا انٹریکشن ہے فی الحال اُنکا مذہب مجھے خطرہ میں زیادہ نظر نہی آیا، نا ہی سوشل میڈیا قبولیت کیلے سٹیٹس کی ضرورت کچھ خاص نظر آئی۔

سیاست:

ماہریں کا کہنا ہے کھانا کھا کر بدہضمی ہو تو سیاست پہ گالیاں دینے سے کافی افاقہ ہوتا ہے، بلیڈ پریشر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ پر ضروری نہی کے بد ہضمی کی صورت میں ہی گالیاں دی جائیں، یوں ہی شوقیہ بھی دی جا سکتی ہیں۔ گندی سیاسیت، سیاست کسی ایک شخص کا نام نہی ہے، اسمبلی میں بیٹھے سب لوگوں کو ایک ہی دفعہ میں مار دیں، پھر سب نئے آیں گے نیک؟ کیا ایسا ہے، نہی معاشرہ ایسا ہے نئے بھی ویسے ہی آیں گے، کیوں کے گالیاں دینے سے کھانا ہضم ہو بھی جائے، پر اصلاح نہی ہوگی۔

ڈپریشن:

ایک عظیم فیشن، جس کا شکار سوشل میڈیا کا ہر دوسرا بندہ نظر آتا ہے، گھر کے کسی فرد کو پتہ ہو نا ہو سوشل میڈیا پہ دوہزار لوگوں کو پتہ ہوتا ہے اور حل کوئی نہی۔ حل مسئلہ کا ہوتا ہے فیشن کا نہی، فیشن کی تقلید ہوتی ہے

ڈگری پروو:

آپ نے میٹرک کیا ہے یا پی ایچ ڈی، اگر آپ نے ڈگری اپلوڈ نہی کی سوشل میڈیا پہ تو آپ پڑھے لکھے نہی۔ پر کیا کاغذ کے ٹکرے کافی ہوتے ہیں انسان بننے کے لیے۔

ڈیلی بریکیگ نیوز:

یہ بھی ایک فیرضہ ہے، جس پہ بات نا کرو تو گناہ ہوتا ہے۔ نیوز کوئی بھی ہو، ملالہ، قندیل، جنید، آسیہ، عافیہ، اقرا یاسر، محسن عباس حیدر، مہوش حیات، بہودہ فیشن، پردہ، داڑھی، مہنگائی، ریپ، زلزلہ، لیک ویڈیوز، کشمیر اور انھی جیسی نیوز جن پہ سٹیٹس نا ہو تو مطلب آپ نے سوشل میڈیا پہ وقت ضائع کیا ہے۔

ہم سب اپنے اپنے دائرے کے پرائیم منسٹر ہیں، تقریر UNO میں ہو، آفس، گھر یا سوشل میڈیا پہ بنا پرچی کے بھی اچھی کرتے ہیں، پر صرف تقریر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •