ارض ِموعودہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکھڑا اس کا بسانِ آفتاب ِتاباں، کالی گھٹا زلفیں، گیسوے مشک فام، ناگن بل کھاتی ہوئی، پیشانی پر چاند چمکتا۔ رخسار ابھرے ابھرے، گلابی کنول کھلے ہوے۔ ستواں ناک الف حسینی، دہن مانند تنگ غنچہ، لب نازک برگ ِگل سے سوا، یا قوت رمانی یا لعل بدخشانی؟ کچھ بھی مناسب نہیں۔ بس قدرت ِخدا ہی کہنا بجا ہے۔ میرے ہاتھوں کے گھیرے میں یوں سجا، اس کا مکھڑا جیسے پجارن کے برنجی کاسہ میں، صندل پوجا کا رکھا ہوا۔

ہاتھوں پر مہندی کا رنگ ایسا چڑھا ہوا کہ لگتا تھا خوں ہوگئی ہے پس پس کے حنا۔ بازو گول، مکھن میں گندھے ہوے۔ آہستہ آہستہ کھلتی جارہی تھی، بیاض مقدس کی طرح۔ چھاتیاں چھوٹی، نہ بڑی۔ سخت، سنگِ مرر کی بنی، دل کو بھاتیاں تھیں۔ لگتا تھا کہ دو قمقمہ، بت خانہ حسن میں لٹکے ہوے ہیں۔ عجب ماجرہ تھا، فانوس پر فالسہ دھرا تھا۔

لوح سیمیں شکم مقرر تھا، ناف، نافہ مشک پوجا کے لئے۔ ازاربند کا بندھن کھلا تو نقش و نگار کی ایک بیل، زیر ناف زنجیر بنی ڈھلک پیڑو پر یوں نیچے اترتی ہوئی جیسے ماہر نقاش نے گود کربنائی ہو۔ کیا تعجب اگر مردہ دیکھے تو جی اٹھے۔ ہلکے ہلکے نرم و مہین بال، ریشم کے دھاگے، اودی اودی رنگت کے اور کچھ کالے کالے، سنہری ریت کی رنگت جیسی جلد سے پھوٹتے ہوئے۔ دور کہیں پیڑو کے ابھارکے پار، الکثیب الاحمرکے اس کے پار، ارض موعودہ، حد نگاہ سے دور، دھندلی دھندلی۔ اور دور اس سے بھی دور۔

”نہیں، نہیں، صاحب نہیں۔ یہ صحیح نہیں۔ “

”ہم اس بندھن پر حرف نہیں آنے دیں گے، شادی کر لیں گے۔ “

”یہ ممکن نہیں! “

”کیوں؟ “

”آپ کا خاندان نہیں مانے گا۔ کہاں آپ میرے بھگوان، لاکھوں دلوں کی امید، کہاں یہ غریب پجارن۔ “

وہ چلی گئی۔ میں واپس لاہور آگیا۔ آخری سالانہ امتحان تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔ واپس پہنچا تو وہ بیاہی جا چکی تھی۔ لوگ کہتے تھے، وداعی پر بہت روئی تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ میں واپس اپنے ہی شہر میں آگیا۔ کئی برس بیت گئے۔ گردش ایام نے بہت کچھ بھلا دیا۔ لیکن وقت کا سفاک بہاؤزندگی کو نت نئی صورتوں سے دوچار کرتارہتا ہے۔ کبھی کبھی خوشگوار، اکثر تکلیف دہ۔ ایک دن کلینک پر بیٹھا تھا کہ وہ ساس کے ساتھ آئی۔ خاموش طبع بوڑھی ساس اوروہ بھی بجھی بجھی۔ حسن برقرار تھا لیکن خاموشی اور پژمردگی نے گہنا دیا تھا۔ ہاتھ میں کاغذات کا پلندہ۔ رپورٹیں دیکھیں تو پتا چلا کہ جھولی خالی لئے پھر رہی ہے۔ زمیں تو زر خیز تھی لیکن مزارع تخلیقی صلاحیتوں سے عاری تھا۔ سب اسے بھی پتا تھا۔

ایک دن بولی، ڈاکٹر کہتے ہیں، ”تم بالکل ٹھیک ہو۔ “

کہنے لگی ”کوئی مرد ایک رات بھی مجھے دیاکر دے تو لہلہاتا کھیت بن سکتی ہو ں۔ “

حسرت بھرے لہجے میں بولی

”صاحب! تم وہ ایک رات میری جھولی میں ڈال سکتے ہو؟ “

میں ایک مسیحا ہوں، میری خدمات سے کئی گھر بسے، لیکن اس طرح کا سوال پہلی بار ہواتھا۔

کہا، ”طلاق لے کر دوسری شادی کرلو۔ “

”نہیں کر سکتی۔ وہ مجھے بہت پیار کرتا ہے۔ مر جائے گا۔ “

”گھر میں اور کتنے افراد ہیں؟ “ میں نے سوال کیا

”دو، دیور۔ “

مجھے راجندر سنگھ بیدی کے الفاظ یاد آگئے۔

”میری شادی اور ہے، میرا گھونگھٹ اور، میرا بر اور۔ “

میں نے کہا۔

”تو گھر کی بات گھر میں ہی رہنے دو۔ “

”وہ جسمانی لحاظ سے معزور ہیں، دونوں کا نچلا دھڑ بیکار ہے۔ “

پھر تنک کر بولی،

”صاحب اپنی بات کرو۔

خیرات مانگنے آئی ہوں۔

جھولی بھر دو۔ ”

میرا عشق، اس کا حسن مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔

اور میرا عہد، میرا حلف، راستہ کی دیوار تھا۔

وہ چلی گئی۔

دن، مہینے، سال بیت گئے۔

میں الٹرا ساؤنڈ کر رہا تھا۔ نرس ایک پرچی لے کر آئی۔ نام، بیگم کے لاحقہ کے ساتھ میرا ہی تھا۔ برقع پہنا ہوا تھا۔ بارہ ہفتہ کی حاملہ، پیڑو ہلکا سا ابھرا ہوا۔ بولی۔ ”لڑکاہے؟ “ میں نے آواز پہچان لی۔ کوئی جواب نہ دے سکا۔

رات سونے کو پلنگ پر پاؤں پسارے، تو نیند پلکوں سے کو سوں دور۔ دماغ میں مندر کے گھنٹیاں بجنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس کان پھاڑنے والے شور میں ایک نرم سی آواز بھی تھی، اس کی طرف بڑھا تو دیکھا، میرا ہی فون بج رہا تھا۔ چونک گیا۔ وہی تھی۔ سوال بھی وہی۔

”صاحب! لڑکا ہے نا؟ “

”بتاؤ، نا؟ “

”مجھے سہارا چاہیے،

بولو! بیٹا ہی ہے، نا؟ ”

”مجھے ایک سہارا چاہیے!

پورے خاندان کے لئے سہارا چاہیے۔ ”

جواب کیا دیتا، پوچھا میرا نام کیوں لکھوایا تھا۔

جواب ملا۔ ”صاحب! زمین۔ زمین۔ تو لٹ گئی۔ قبضہ کوئی اور جما بیٹھا ہے۔ تو کیا؟ نام تو مالک کا ہی رہے گا۔ “

سوتے جاگتے نیم خوابیدہ حالت میں، پتا نہیں کتنا وقت گزر گیا۔ آنکھ لگی تو دیکھا۔ ریت کا سرخی مائل ٹیلہ ابھرتا جا رہا ہے۔ بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑھتے بڑھتے بنجر بے آب وگیاہ پہاڑ بن گیا۔ بڑی مشکل سے اس پر چڑھتے ہوے اس پار دیکھا۔ دور کہیں دور، ارض موعودہ میں نرم ریشمی اودی اودی گھاس بھی رنگ بدلتے ہوے، سیاہ کالی ہو کر، کانٹے دار جھاڑیوں اور خزاں زدہ صحرائی درختوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ دور سے آتی ہوئے سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کی آواز، اندھیرے، گھپ اندھیرے میں ان کے سم پتھروں سے ٹکرا کر چنگاریاں جھاڑتے، بھاگتے، دوڑتے آرہے۔ شور بڑھتا گیا۔ یوں محسوس ہوا کہ کوئی فوج دھول آڑاتی آکر ’ارض موعودہ‘ پر قابض ہو گئی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •