مولا فضل الرحمان کا کاروبار شدید مندی کا شکار!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم مولانا فضل الرحمان کی اس حوالے سے تعریف کرنا فرض سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس ملک میں فرقہ واریت کو کبھی ہوا نہیں دی۔

لیکن فاٹا اور دیگر امور کے حوالے سے ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ قبائلی علاقوں پر ہونے والے حملوں پر انھوں نے کبھی بھی احتجاج کی کال نہیں دی۔ آج بھی لاکھوں قبائلی گھرانے بے گھر ہیں۔ ہزاروں افراد قتل ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ آج بھی قبائلی علاقوں کے سکول، ہسپتال اور سڑکیں فلسطین جیسا منظر پیش کر رہے ہیں مگر اس بڑی تباہی و بربادی پر مولانا صاحب نے کبھی دھرنے کی کال نہیں دی۔

اس ملک میں ظلم، زیادتی اور جبر کا بازار گرم ہے۔ لوگ گندگی خرید کر کھا رہے ہیں۔ ملاوٹ اور گندگی عام ہے۔ بچوں کو مدرسوں، مسجدوں اور دیگر مقامات پر زیادتی کے بعد قتل کیا جا رہا ہے مگر اس پر مولانا نے کبھی دھرنے کی کال نہیں دی۔

پنجاب اور سندھ پولیس نے سینکڑوں لوگوں کو غیر قانونی پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔ ان کے یتیم بچوں کی آہ و فریاد پر کبھی مولانا نے دھرنے کی کال نہیں دی۔

لال مسجد میں مولانا کی بات کو پرویز مشرف نے تسلیم نہیں کیا۔ بعد میں مولانا سیدھے لندن چلے گئے۔ لال مسجد میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اس واقعے پر انھوں نے کبھی مشرف کے خلاف دھرنے کی کال نہیں دی۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے مولانا ہر حکومت کا حصہ بنا رہا۔ وزارتیں لیتے رہے۔ مزے کرتے رہے مگر کوئی ایک ٹکے کا کام بھی ملک و قوم کے لئے نہیں کیا۔ مسلسل کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے رہے۔ کشمیر پر ان کے دور میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مگر اس کے باوجود سرکاری مراعات لیتے رہے۔

آج پہلی دفعہ ان کا کاروبار شدید مندی کا شکار ہو چکا ہے۔ کئی دہائیاں بعد وہ بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی نا کسی ذریعے سے حصول اقتدار کے لئے تک و دو تو کریں گے۔ جو اسلام ان کے ہر دور اقتدار میں مسلسل پامال ہوتا رہا تھا، آج اسی اسلام کو زندہ کرنے کا نعرہ لگا کر اس ملک کے نظم ونسق کو برباد کرنے کی مذموم کوشش کرنے میں مصروف ہے۔

پاکستانی قوم کا اولین فرض بنتا ہے کہ مولا کے پیچھلے ادوار کے تمام کارناموں کو مدنظر رکھ کر ان کے مذموم ایجنڈے کو مسترد کر دے اور اپنے ذی شعور ہونے کا ثبوت دیں۔ اب قوم ان کے ملک دشمن عزائم کے بارے میں جان چکی ہے۔ وہ اب ان کے کسی بہکاوے میں نہیں آنے والے ہیں۔ مولانا نے آج تک اپنے اقتدار کے لئے اس ملک کا جتنا بیڑا غرق کیا ہے تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اب یہ قوم اسلام کے نام پر مزید گمراہ نہیں ہوسکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •