ماشٹر جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں سنا ہے کہ ”اساتذہ کا دن“ منایا گیا ہے۔ چونکہ میں بھی پیشے کے اعتبار سے بظاہر استاد ہی تھا اور محو حیرت ہوں کہ ابھی تک اسی خوش فہمی میں مبتلا ہوں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اُس وقت میں اپنے استاد ہونے پر پکا ہوجاتا ہوں جب جب کوئی بھولا بھٹکا، ناسمجھ و ناھنجار شاگرد، میرے تمام جسمانی و علمی تشدّد کے باوجود راہ چلتے پہچان کر سلام کربیٹھتا ہے یا سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کربیٹھتا ہے تو وقتی طور سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے اور د ل خوشی سے پکار اٹھتا ہے کہ ”کچھ بھی ہو مگر ابھی بھی کچھ نہ کچھ بطور استاد عزت باقی ہے“۔ مگر جب اپنا علم ٹٹولتا ہوں تو وہ کسی گاؤں کے کھڑے تالاب کے پانی کی طرح تعفن زدہ دکھائی دیتا ہے۔

اور یہ تو ہم نے سن ہی رکھا ہے کہ استاد کی کسی زمانے میں عزت تھی مگر آج کے استاد نے وہ عزت گنوا دی ہے۔ مگر میرا اس بات سے سخت اختلاف ہے جیسی استاد کی عزت پچھلے دور میں تھی اب بھی ویسی ہی ہے بشرطیکہ وہ استاد ہو، تاجر نہ ہو، اپنے پیشے سے مخلص ہو، اور اسے اپنے مضمون پر کچھ نہ کچھ عبور حاصل ہو۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ اس استاد کو کوئی شاگرد عزت نہ دے یا یاد نہ رکھے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ بحثیت مجموعی استاد کی معاشرے میں سی ایس پی آفیسر یا فوجی آفیسر کی طرح عزت نہیں ہے حالانکہ یہ استاد ہی ہے جو معاشرے میں ایک طرف جہاں بڑے بڑے آفیسر، ڈاکٹر، جج پیدا کرتا ہے وہاں سیاستدان سے لے کر بدمعاش، اٹھائی گیرے بشمول ڈاکو اور پولیس والے بھی انہی کے کھاتے ڈال دیے جارے ہیں۔

اور دیکھنے کو تو ایسا بھی ملا ہے کہ ڈاکو تو استاد کو پہچان کر لوٹنے کی بجائے عزت سے جانے دیتے ہیں جبکہ پولیس والے جب موقع ملتا ہے اپنے استاتذہ پر لاٹھی چارج کرکے اپنی پرانی سزاؤں کا بدلہ اتارنے کی قابل مذمت کوشش کرتے رہتے ہیں اور ساتھ بہانہ بھی لگاتے ہیں کہ ”قانون کے ہاتھوں مجبور ہیں“ مگر یہی پولیس والے سڑکوں پر آنے والے اساتذہ کو اندر سے جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ کہ آخر یہ سفید پوش بے ضرر اساتذہ آخرکس مجبوری کے تحت سڑکوں پر آتے ہیں۔

استاد معاشرے کو کیا دیتا ہے اور معاشرہ استاد کو کیا دیتا ہے؟ یہ وہ دوطرفہ سوال ہے جس کے جواب سے استاد مطمعن نہیں ہوتا اور ان کی کارکردگی سے ان کے نگران ادارے مطمعن نہیں ہورہے۔ وجہ؟ آئیے کچھ حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں

ایک عام تاثر، استاد کے بارے میں یہ ہے کہ جو ڈاکٹر یا انجینئر نہ بن سکے یا کسی اچھی تعلیم کے حامل فرد کو کوئی اچھی جاب نہیں ملتی تو وہ استاد بن جاتا ہے۔ کہ اکثر ایم این اے، ایم پی اے کے ڈیروں پر یہ قصہ دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ اگر کوئی پڑھا لکھا لڑکا ایم این اے کے ڈیرے پر، کسی کے توسط سے نوکری کی درخواست لے کر جاتا ہے تو اچھی سفارشی کی وساطت سے اسے کہا جاتا ہے کہ اسے کہو کہ ابھی کوئی اچھی نوکری ہاتھ میں نہیں ہیں، جیسے پٹواری، بنک آفیسر، پولیس وغیرہ کی، ہاں ایسے کرو جب تک اچھی نوکری کا بندوبست نہیں ہوتا تو اسے کہیں ماشٹر لگوا دیتے ہیں۔ اور یہ بات سچ بھی ہے کہ میرے ایک بیسویں گریڈ کے ہیڈ ماسٹر دوست بتاتے ہیں کہ ابھی بھی جب میں اپنے گاؤں جاتا ہوں تو گاؤں کا ایک بزرگ مجھ سے لازمی پوچھتا ہے کہ ”ملک صاحب کوئی نوکری شوکری بھی ملی ہے کہ ابھی تک ماشٹر ہی لگے ہوئے ہیں؟ “

شہروں میں اساتذہ کے کئی طبقے ہیں مگر عزت ایک جیسی ہی ہے۔ قصبوں یا دیہات میں تو استاد کو ماشٹر، منشی، استاد جی کے نام سے ہی پکارہ جاتا ہے۔ اور درزی، موٹر مکینک اور بس ڈرائیور کو بی ”استاد جی“ ہی کہا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں استاد کو اس کی ذات یا پیشے سے منسلک کرکے بھی اسے تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بات شاید آپ کے لیے حیران کن ہو کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ، عام پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ کوالیفائیڈ ہوتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی صلاحتیوں کو آزمانا بھی چاہے تو نہیں آزما سکتے کیونکہ ہمارا نصاب ہمیں اچھے رزلٹ کے لیے بچوں کو گھوٹے یا رٹے کا راستہ دکھاتا ہے اور استاد اس راستے پر چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہاں تخلیقی سوچ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ایلیٹ اسکول کے اساتذہ سرکاری اساتذہ کی طرح اگرچہ کولیفائیڈ نہیں ہوتے مگر ان کا انگریزی ماحول، منفردانگریزی نصاب اور ہم نصابی سرگرمیوں کے نام پر نوٹکیاں، انہیں خوامخواہ عام سرکاری تعلیمی اداروں سے برتر دکھنا شروع کردیتی ہیں۔

اسی طرح آپ نجی اسکولوں اور عام سرکاری اسکولوں کے کلاس رومز کا جائزہ لیں تو جہاں نجی تعلیمی اداروں میں ایک کلاس کلاس کا حجم 25 سے 30 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے وہیں سرکاری اسکولوں میں ایک کلاس کا حجم 80 سے 100 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے اب اتنی بڑی کلاس ہوتا سرکاری استاد کی ویسے ہی ”مَتّ“ ماری جا تی ہے۔ کہ 80 بچے 80 دماغ ہر کسی کو ڈیل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یقیناًوہاں سرکاری استاد اپنی صلاحتیں کیا آزمائے گا سوائے جسمانی تششدد کے اور پوری کلاس کو مارنے کے لیے بھی خاصا پہلوان والا اسٹمناء چاہیے ورنہ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک استاد کسی ایک بچے کی غلطی کی سزا پوری کلاس کو رعب کے اندر لانے کے لئے بید کی چھڑی سے شروع کرتے تھے تو اگلی صف والے لڑکے توچھ چھ ڈنڈے بطور تبرّک کھاتے اور بیک بینچر طلباء کے حصے میں صرف ایک ایک چھڑی بطور تبرّک رہ جاتی کیونکہ آخری طالب علم تک جسمانی تشدّد کا فیض ملنے تک استاد محترم کے پیریڈ کا ٹائم اور اسٹمناء دونوں جواب دے جاتے تھے۔ یاد رہے ہماری کلاس کا حجم تقریباً 115 طلباء پر مشتمل تھا۔

اب آجائیں علم و آگہی کے جذبے کی طرف جس کے بارے ہر بندہ استاد سے بھر پور توقع کررکھتا ہے۔ تو بھائیو! استاد اگر کوئی جذبہ رکھتا بھی ہوگا تو وہ جذبہ بھی اس فرسودہ نظام کے آگے ڈھیر ہوجاتا ہے کیونکہ اسے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ملتی ہیں۔ تو اگر کچھ اساتذہ چاہیں بھی کہ طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے نکھارا جائے؟ تو ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے ٹیچر ٹرینگ ادارے میں تربیتی کورس کروانے کی اجازت نہ تھی بلکہ ہمارے ٹرینر دیگر اداروں سے منگوائے جاتے تھے ان میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہوتے تھے جنہوں نے مجھ ناچیز سے ٹرینگ لی ہوتی تھی کیونکہ میں اپنے ادارے کی بجائے دیگر نجی اداروں کو وہی ٹریننگ معاوضۃ لے کر دیتا تھا مگر اپنے ادارے میں کہنے کے باوجود مفت میں میری خدمات نہیں لی جاتی تھیں کہ اس میں سربراہ ادارہ کو بھاری کمیشن اور حصہ ملتا تھا۔

کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ میں نے کچھ تخلیقی و مثبت سوچ پیدا کرنے والے کورسسز اپنے کالج میں پڑھانے کی کوشش کی تو تو ہمارے کالج کے پرنسپل صاحب نے کہا، کاظمی صاحب رہنے دیں، آپ کن چکروں میں پڑے رہتے ہیں، یہ اجڈ جاہل دیہاتی اس قابل نہیں کہ اس قسم کے کورس کریں آپ بس نصاب پر توجہ دیں۔ اب آپ خود ہی بتائیں کہ ”ایتھے ہن استاد کی کرے تے ٹھنڈا پانی پی مرے“

اس کے برعکس جب مجھے برطانیہ کو نظام تعلیم دیکھنے کو ملا تو حیران رہ گیا کہ جو تخلیقی و تحقیقی کام پاکستان میں خال خال یونیورسٹیوں میں سکھایا جاتا ہے وہ بچے مڈل اور سیکنڈری سطح پر ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹی سطح پر بھی بقول پروفیسر ہود بائے Ctitical thinking تو دور کی بات تحقیقی میدان میں بھی ایسی مکھی پر مکھی ماری جاتی ہے کہ بے اختیار عقیدے سے ہٹ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

اسی ضمن میں رہی سہی کسر ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیز نے پوری کردی ہے جو بچے کو امتحانی نقطہ نظر سے بنے بنائے نوٹس دے کر انہی کا رٹّا لگوا لگوا کر بچے کو اسی رٹے کی برکت سے امتحانات، امتیازی نمبروں سے پاس کروا کر اپنی ساکھ بنا لیتے ہیں مگر جب ان بچوں سے کوئی بھی کامن سینس کا سوال کیا جائے اور وہ اگر اس کے رٹے والے نصاب میں شامل نہیں ہے تو وہ منہ دیکھنے لگے گا یا پھر یہ کہہ کر جان چھڑا لے گا کہ یہ تو ہمیں نہیں پڑھایا گیا۔

اس پر طرّہ یہ کہ اگر آپ ٹیوشن نہیں پڑھتے تو اردو بازاروں میں معروف و معزز اساتذہ کے حل شدہ پیپر، گیس پیپرز یا خلاصے وافر دستیاب ہوتے ہیں۔ جو کامیابی کی کنجی سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی لگانا رٹا ہی ہے اور بچوں کو رٹو طوطا ہی بنانا ہے تو پھر اساتذہ سے کیا توقع رکھیں کہ وہ کیونکر ہر سال نہ صرف اپنے علم کو بڑھاوا دیں کہ ہر سال، پچھلے سال سے بڑھ کر تحقیق کرکے بچوں کے علم میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔ تو پھر استاد کے پاس اور کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ بھی ہر سال وہی سلیبس ربوٹ کی طرح پڑھا پڑھا کر اپنے گھر چلا جائے۔

اگر چہ اب بھی آپ کو کہیں نہ کہیں ایسے اساتذہ مل ہی جائیں گے جو علم وفلسفے یا جدید فکر کی بات کلاس میں کرتے ہوں۔ مگر جب سے ملتان کے جنید حفیظ کے جیل جانے یا بہاولپور کے پروفیسر خالد حمید کے قتل واقعات ہوئے ہیں ایسے اساتذہ بھی اپنا علم اپنی زنبیل میں ڈال کر سہم کر ایک طرف بیٹھ گئے ہیں۔ کہ مبادہ کوئی مطالعہ پاکستان یا مذہب سے ہٹ کر کلاس میں بات ان کی جان ہی لے لے اور پھر ان کے بعد ان کے لواحقین گستاخ مذہب وملت کے طعنے سہہ سہہ کر سسک سسک مر جائیں۔ کیونکہ مذہب و ملت کا الزام ہی ثبوت ہے۔

تو جب جدید سوچ اور علم کے راستے چاروں طرف سے بند کردیے جائیں گے تو پھر شاہ دولے شاہ کے چوھے بنانے کے لئے مخصوص خود اور جگہ کی محتاجی نہیں رہتی بلکہ ہرمذہب اور فرقے کے مجاور اپنی مخصوص ساخت کے ”خَود“ اپنے مزاروں پر حاضری دینے والوں کو پہنا کر اسے جنت کی بشارت دے دیتے ہیں اور یہ مختلف خودوں والے شاہ دولے شاہ کے چوھے خوشی خوشی نہ صرف ”خَود“ بلکہ اپنی اولاد کو بھی دماغ کے تمام مسام بند کرنے والے ”خَود“ خوشی خوشی پہن کر حسن بن سباء کی جنت کو اصلی جان کر اپنے گرو کے اشارے پر ایک دوسرے کا بے دھڑک خون کرکے اس جنت کو میں جارے کو بے قرار رہتے ہیں۔ تو پھر اس گھٹن زدہ ماحول میں اساتذہ اپنے شاگردوں کے لیے سوائے بے بی سٹر کے کردار کے اور کیا علم دیں بس Spoon feeding ہی بچتی ہے اور وہ بڑی کامیابی کر رہے ہیں۔ تخلیقی سوچ گئی بھاڑ میں جان ہے تو جہان ہے۔

ایک وقت تھا کہ اساتذہ کی تنخواہیں بھی انتہائی شرمناک حد تک کم ہوتی تھیں۔ مگر اب اگرچہ تنخواہیں کچھ بہتر ہوئیں ہیں تو کئی بیوروکریٹس کو اس بات کی بھی تکلیف ہوتی ہے کہ اساتذہ زیادہ تر چھٹیوں پرکیوں رہتے ہیں ورنہ ان کو یہ تنخواہ بھی کیوں دی جائے۔ لہذا ان کو مصروف رکھنے کے لیے الیکشن سے لے کر آبادی گننے تک تمام تکلیف دہ اور بامشقت امور میں بھی مصروف رکھا جات ہے کہ علم چھوڑو مزدوری کرو۔

اب بھی کہنے کو تو ایک پرائمری اسکول ماسٹر سے لے کر سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکول کے اساتذہ کا گریڈ بظاہر 12، 14، 16، 17 حتیٰ کہ اب 20 ویں گریڈ کے اساتذہ بھی ہیں، مگر کیا ان کی کسی تھانے کے اے ایس آئی جتنی بھی عزت ہے؟ چہ جائیکہ ان کا پے اسکیل ایک پولیس کے اے ایس پی سے لے کر ڈپٹی کمشنر کے برابر ہوتا ہے مگر چونکہ اس کے پاس ایک تھانے کے کانسٹیبل کے برابر بھی عزت نہیں ہوتی کہ جو چاہے شہر کا بدمعاش، سیاستدان، گاؤں کا چوھدری اسے، اس کے شاگردوں کے سامنے کلاس سے گھسیٹتا ہوا نکال لائے تو کوئی اسے چھڑانے والا یا تحفظ دینے والا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کو علم کی نہیں ڈنڈے کی عزت کرنا سکھائی گئی ہے۔

اب جب استاد کو ہر بندہ دھتکار رہا ہوتا ہے تو وہ پھر طلباء پر تشدّد نہ کرے تو کیا کرے؟ ابھی کچھ عرصہ قبل میں نے ایک ریسرچ ڈگری کے دوران ایک پریزینٹیشن What makes a good teacher؟ کے نام سے دی مگر اس کا آغاز کچھ ایسی پاکستانی ویڈیوز کے ساتھ کیا جس میں اساتذہ، طالب علموں کی مولابخش سے دھلائی کررہے تھے یا شاگردانِ عزیز مرغا بنے ہوئے تھے۔ جسے ہال میں موجود یورپی اساتذہ اور طلباءنے بڑے تاسف، افسوس اور شاکنگ انداز میں دیکھا۔

اور پھر ایک کلپ میں تو وہ حیران و ششدر رہ گئے جب ایک استاد ایک والد کی موجودگی میں ان کے بیٹے کی ٹھکائی کررہے تھے اور والد صاحب کی رضامندی اس میں شامل تھی کیونکہ وہ بھی ایک آدھ تھپڑ مکاّ مار کر اس کارخیر میں حصہ ڈال رہے تھے۔ جب ویڈیو ختم ہوئی تو اساتذہ کہنے لگے کہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ بچوں پر اس طرح تشدد کیا جاتا ہے! ( جبکہ ایک وقت تھا کہ برطانیہ میں بھی بچوں کو جسمانی سزا دی جاتی تھی مگر اب سختی سے بندکی جاچکی ہے ) ۔

خیر میں، شرکاء کے اسی طرح کے ملے جلے تاثرات تحمل سے سنتا رہا اور پھر جب ان کا فیڈ بیک آگیا تو مسکرا کر بولا، کہ گھبرائیے نہیں ہمارے ملک میں استاد ایک ”گرو“ کا درجہ رکھتا ہے۔ کہ والدین جب اپنا بچہ استاد کے حوالے کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ استاد محترم یہ میرا بچہ ہے ہڈیاں میری اور کھال آپکی بس اسے اچھا اور سُدرا ہوا انسان بنائیے میرے طرف سے کھلی اجازت ہے۔ تو پھر میں نے شرکاء سے پوچھا کیا برطانیہ میں اسکولوں میں ایسا درجہ آپ استاد کو دیتے ہیں بے شک وہ نہ مارے مگر اسے اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بچے کو ہاتھ تو دور کی بات اونچی آواز سے ڈانٹ بھی سکے۔

اسی لیے برطانیہ میں اسکولوں میں استادکا اختیار، اٹھارویں ترمیم والے صدر کی طرح ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگ اسکولوں میں پڑھانے سے کتراتے ہیں کہ کہییں اپنا ریکارڈ ہی خراب نہ کروا بیٹھیں۔ اور اسی وجہ سے سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ پرائمری تعلیم اور یونیورسٹی کی تعلیم کا کوئی زبردست ہے۔ جس پر پھر کبھی بحث کروں گا۔

رہی بات معاشرے کے طبقاتی فرق کی تو الیٹ کلاس کے اسکولوں میں بھی پڑھنے والا امیر کا بچہ ماسٹر سے کہتا پھرتا ہے کہ جتنی آپکی تنخواہ ہے اتنی تو ہم اپنے ڈرائیور یا منشی کو دے دیتے ہیں۔

بھونڈا مذاق یہ کہ اگرچہ پچھلے دنوں عدالت کی طرف سے اساتذہ کے بارے حکم جاری کیا گیا ہے کہ انہیں عزت مآب کہہ کر اوراحترام سے لکھا اور پکارا جائے۔ مگر اس سے کیا ہوگا؟ یاد رکھیں کہ استاد کی عزت، جاھل اور بگڑے ہوئے معاشرے میں کبھی نہیں ہوگی خواہ جتنے مرضی القابات لگالیں۔ خواہ استاد اپنے نام کے ساتھ ”عزت مآب“، ”ذی وقار“، ”احترام“ بطور تخلص لگا لے مگر جب تک استاد عزت دل سے نہیں کمائے گا اور معاشرہ اسے ایک عالم کے طور پر عزت نہیں دے گا اس کا مقام ایک پٹواری سے بھی نیچے رہے گا۔

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایک قابل استاد خواہ پرائمری کا ہویا یونیورسٹی کا اس میں علم کا زیور بکھیرنے کا ہنر ہے تو اسے شاگرد آخر دم تک احترام بھی دیتے ہیں۔ لہذا وہ کسی حکمنامے کا محتاج نہیں ہے اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کہ ہم نے استاد کی سوچ پر پابندی لگاکر اسے علم کی کرنے بکھیرنے سے روکا ہے تو استاد نے بھی جواباً شاگرد کا دماغ چاروں طرف سے ”کیل“ دیا ہے۔ جس کا احساس ہمیں خیبر پختونخواہ میں اساتذہ کی ایک ورکشاپ میں ہوا جس میں ہم نے اسکولوں کے طلباء بھی بلائے تھے کہ اساتذہ کو جین پیاژے کے نظریہ کے مطابق واضع کیا جاسکے کہ وہ بچوں کو کیا پڑھاتے ہیں اور بچے اس کے کیسے کو سمجھتے ہیں۔

اس سیشن کے آخر میں پھر جب ان سہمے ہوئے طلبا ء سے کہا گیا کہ بیٹا کوئی آپ نے ہم سے سوال پوچھنا ہے تو پوچھیں۔ تب بھی تمام بچے مزید سہم گئے۔ مگر ہمارے اصرار پر ایک بچہ خشک گلے سے خوفزدہ انداز میں بولا ”سر ہمارے استادجی کہتے ہیں کہ سوال موت ہے“ یہ سن کر ہمیں بھی بجلی کا سا جھٹکا لگا اور میں گُم سٰم ہو اس سوچ میں غرق ہوگیا کہ پتہ نہیں ہم اب بھی ان بچوں میں علم کی کون سی رمق تلاش کررہے ہیں جبکہ اساتذہ نے کب کا ان کے اندر سوال کا کیڑا ان کے دماغ سمیت مار دیا ہے اور ا ب علم ایسا گہرے قومے میں ہے کہ کوئی مسیحا ہی اسے ”کن“ کہہ کر جگا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •