ایک سالہ حکمرانی کا بوجھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد بیروزگاری کی شرح میں اضافہ، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں بڑھوتری، حکومتی نظم و نسق میں ابتری، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور بد عنوانی کا عفریت تیزی سے ملکی دولت و وسائل کو تیزی سے ہڑپ کرنے لگے تو اسے حکمران جماعت کی نا اہلی سے تعبیر کیا جائے گا۔ ملک میں نوجوان طبقہ آبادی کا معتدبہ حصہ ہے جو بے روزگار ی کا شکار ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔

امیر طبقہ امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی تفاوت نے بھی حکومت کے خلاف جذبات کو انگیختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ملک میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑنے اور ملک کو ایسے عناصر سے پاک کرنے کے باوجود آج بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں سے وہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ تاہم ان تمام مسائل میں سر فہرست مہنگائی، بیروزگاری اور اشیائے ضروریہ کی کمیابی ہیں جس نے حکومت مخالف جذبات کو اس قدر ہوا دے دی ہے کہ اج ملک میں حکومت مخالف مظاہرے اس سطح تک پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اب خونیں صور ت اختیار کر لی ہے۔ اوپر کی سطور میں خونی مظاہروں کی سطر سے اگر صرف نظر کیا جائے تو کچھ یوں محسوس ہوگا کہ جیسے پاکستان میں موجودہ حالات کی منظر کشی کی گئی ہے۔

تاہم بیان کی گئی صورتحال عراق کی ہے جہاں ایک ہفتے میں حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اب تک نوے سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ عراق میں اس وقت عادل عبداللہ مہدی کی سربراہی میں حکومت کے قیام کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک سال کے بعد حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے وہ عوامی مظاہرے ہی کافی ہیں جو پرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جب حکومتیں عوامی توقعات پر پورا نہ اتریں اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہیں کہ ہمارے پاس ”جادو کا چراغ“ تو نہیں کہ چٹکی بجاتے ہوئے مسائل حل کر دیں تو پھر عوامی جذبات کے پھٹنے میں دیر نہیں لگتی اور حالات اس قدر سنگین رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ جس میں تشدد کا عنصر شامل ہو کر قیمتی انسانی جانوں کو ہڑپ کرنے لگتا ہے۔

عراق میں بدقسمتی سے پرتشدد مظاہرے انسانی جانوں کی صورت میں خراج وصول کر رہے ہیں۔ اس کے بالمقابل پاکستان میں ابھی حالات اس نہج تک نہیں پہنچے کہ جس میں انسانی جانیں عوامی مظاہروں کے نتیجے میں تلف ہو جائیں۔ پاکستان میں داخلی صورت حال تشویش کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کی سربراہی عمران خان کر رہے ہیں۔ خان صاحب نے ملک کی قسمت سنوارنے کے جتنے سہانے سپنے دکھائے وہ ایک ایک کر کے ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہے ہیں۔

اس وقت ملک جن ابتر حالات کا شکار ہے اس کا اندازہ معیشت اور گورننس کے امور سے آشکار یے۔ عمران خان کا ایک کروڑ نوکریوں کا خوش کن وعدہ اس وقت ایک سراب ثابت ہوا جب ایک سالہ دور اقتدار میں معیشت کی بری صورتحال کے باعث صنعت و حرفت اور تجارت میں سلو ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں نوکریاں داؤ پر لگ چکی ہیں۔ بیروزگاری کا اژدھا منہ کھولے کھڑا ہے۔ مہنگائی کی شرح اس وقت گزشتہ دس بارہ برسوں کی بلند شرح پر موجود ہے۔

ملک کا نوجوان طبقہ جس نے عمران خان کی ذات سے بے پناہ امیدیں اور توقعات لگائی ہوئی تھیں وہ اس وقت حد درجہ مایوسی کا شکار ہیں۔ گورننس کے امور میں کسی جوہری تبدیلی کا خواب بھی ہنوز تشنہ طلب ہے اور موجودہ حکومت بھی اس شعبے میں ماضی کی حکومتوں کا پرتو نظر آتی ہے۔ اس وقت حکومت مخالف عوامی جذبات میں بتدریج شدت آتی جا رہی ہے۔ عام آدمی مسائل کے کوہ گراں تلے سسک رہا ہے۔ لیکن حکومت ان مسائل سے لاتعلق ہو کر اس وقت ایک عالم مدہوشی میں مبتلا ہے۔

حکومتی وزراء ابھی تک انتخابات سے قبل کے خمار میں مبتلا ہیں کہ اپنی کارکردگی کی بجائے ابھی تک مخالف سیاسی جماعتوں پر چاند ماری کے اپنے محبوب مشغلے میں گرفتار نظر آتی ہے۔ حکومت کے ایک سال کے بعد بھی اس کے وزراء اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کے ذریعے عوامی حلقوں میں مقبول رہنے کی نا معقول سوچ کے اسیر ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں پر طعن و تشنیع سے فراغت حاصل ہو تو حکومتی وزراء کو پتا چلے کہ وقت کے پل کے نیچے سے ایک سال گزرنے کے بعد ان کا نامہ اعمال عوام کو ریلیف پہنچانے، ان کے مسائل کے حل، معیشت میں ترقی، گورننس میں بہتری اور بحیثیت مجموعی تقریباً تمام شعبوں میں امید افزا کارکردگی سے قطعی طور پر بانجھ ہے۔

حکومت کی خوش قسمتی ٹھہری کہ اس کے مقابل دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کرپشن کے الزامات کے باعث پابند سلاسل ہے اور جو سلاخوں سے باہر ہیں ان کے پاؤں میں انجانے خوف و جبر نے بیڑیاں ڈالی ہوئی ہیں۔ پی پی پی اور نواز لیگ حکومت کے خلاف ایک مؤثر تحریک چلانے کی حامل دکھائی نہیں دیتیں۔ حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی تحریک اور ان کی جانب سے اعلان کردہ آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا عوام کے لیے کسی امید کی کرن نہیں دکھاتا۔

عوامی مسائل کی بجائے مذہب کے کارڈ کا استعمال اس سر زمین پر ہمیشہ سے نت نئی بلاؤں کو دعوت دیتا آیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان جن موضوعات کو لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آ رہے ہیں اس میں انہیں ایک خاص مذہبی مکتبہ فکر کی اہمیت تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن اس ایشو پر مطلوبہ عوامی حمایت کا حصول ایک دور ازکار تصور ہے۔ ایک مجروح اور کمزور اپوزیشن کے باوجود حکومت اگر اسی راہ پر گامزن رہتی ہے جس کی بناء پر عوامی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تو جلد یا بدیر ایک مؤثر حکومت مخالف تحریک کا آغاز بعید از قیاس نہیں ہے۔

عوامی جذبات میں مزید ابال سے پہلے حکومت وقت کو طفل تسلیوں کی بجائے عملی اقدامات کا بھاری پتھر اٹھانا ہوگا۔ وزیراعظم صاحب اب بلند بانگ دعوؤں کا وقت گزر چکا ہے اور عملی اقدامات کا وقت ہے جس میں ابھی تک آپ بری طرح ناکام ہو کر عوامی حمایت سے تیزی سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ حکومت کی نا اہلی کے بوجھ سے کشتی غرقاب ہو، خدارا، کچھ ہوش کے ناخن لو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •