ہمارے نام نہادمذہبی قائدین اپنے ارد گرد تقدیس کاہالہ کس طرح تیار کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا حسین احمد دیوبند ی فکر کے معروف عالم دین اور تحریک آزادی کے نامور قائدین میں سے ایک تھے۔ آپ رشتے میں معروف مذہبی و سیاسی رہنما اور جمیعت العلماء کے صدر مولانا اسد ’مدنی‘ کے والد اور حالیہ دنوں میں اپنے مسلم مخالف نظریات کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے متنازعہ دیوبندی رہنماء محمود ’مدنی‘ کے دادا تھے۔ مولانا حسین احمد کا خاندان بنیادی طور پر مشرقی یوپی میں فیض آباد ضلع کے ٹانڈہ قصبہ سے تعلق رکھتا تھا۔

درس وتدریس کے سلسلے میں مولانا کی زندگی کا بیشتر حصہ دارالعلوم دیوبند میں گزرا جہاں حدیث اور فقہ کے استاد کی حیثیت سے آپ نے اپنی زندگی کی تین دہائیاں صرف کیں۔ دیوبند میں اپنے قیام سے پیشتر مولانا حسین احمد نے تقریباً اٹھارہ سالوں تک مدینہ منورہ میں ملازمت کی جہاں وہ اصول فقہ اور اصول حدیث پڑھایاکرتے تھے۔ مدینہ منورہ میں اپنے طویل قیام کے بعد جب مولانا واپس ہندستان تشریف لے گئے تو اپنے ساتھ مدینہ کی نسبت سے ’مدنی‘ کا لاحِقہ بھی ساتھ لے گئے اور یوں عوام میں مولانا حسین احمد ’مدنی‘ کے نام سے مقبول ہوئے۔

مدینہ سے بس اسی نسبت کی وجہ سے مولانا حسین احمد کے وارثین نے بلا جواز اپنے نام کے ساتھ ’مدنی‘ کا اضافہ کیے رکھا، جس سے عوام الناس میں یہ تاثر گیا کہ ’مدنی‘ خاندان کسی زمانے میں مدینہ منورہ سے آکر ہندستا ن میں آباد ہو ا ہوگا۔ گرچہ مولانا کے والد اور دادا کے نام میں ’مدنی‘ کے اضافے کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ’مدنی‘ خاندان کے اس دعوے کو بھی اگر تسلیم کر لیا جائے کو اُن کا سلسلہء نسب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے پھر بھی اس کا جوا ز کہاں فراہم ہوتا ہے کے مولانا حسین احمد کی تیسری اور چوتھی نسل اپنے نام کے ساتھ ’مدنی کا اضافہ استعما ل کرے۔

اصولاً دیکھا جائے تو نام میں کسی اضافے کی ضرورت عام طور پرخطے، علاقے، ادارے، خاندان یا قبیلے سے نسبت ظاہر کرنے کے لیے پیش آتی ہے۔ عربوں میں محض قبیلے اور خاندان سے شناخت کا رواج تھا اور اب بھی برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصحاب ِ رسول کے نام کے ساتھ بھی مکی، مدنی، حجازی یا نجدی کے اضافے کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا۔ یہ لعنت برصغیر میں اس قدر رواج پاگئی ہے کہ ہمارے مدارس میں چند سالوں معمولی تعلیم حاصل کرنے والے مولوی صاحبان اپنے نام کے ساتھ حضرت مولانا قاسمی دیوبندی، بریلوی، سلفی، ندوی قدس سرہ او ر دامت برکاتہم لگا کر بڑی آسانی سے معصوم اور غیر تعلیم یافتہ عوام کے درمیان معزز اور معتبر مقام حاصل کرلیتے ہیں۔

اور پھر رفتہ رفتہ اُن کے ارد گرد تقدیس کا ہالہ کچھ اس طرح تعمیر ہوتا جاتا ہے کہ حضرت کی ہر غلط صحیح بات پر آمنا صدقنا کرنے کے علاوہ کوئی اور گنجائش موجود ہی نہیں ہوتی۔ معتقدین میں یہ تصور عام ہوتا ہے کہ حضرت کی تقلید ہی نجات کا واحد راستہ ہے اور حضرت سے اختلاف غضب خداوندی کو دعوت دینا ہے، ٹھیک اُسی طرح جس طرح ہندستان میں یہ عقیدہ برہمن پنڈتوں اور عہد تاریکی میں یوروپ کے کلیساؤں نے عوام الناس کا نظریاتی اور معاشرتی استحصال کرنے کے لیے رائج کر رکھا تھا، جہاں برہمنوں اور پوپ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا تصور ہی محال تھا۔

گرچہ اسلام کا موقف اس سلسلے می بالکل مختلف ہے جہاں کسی بھی حضرت مولانا، علامہ یا شیخ کو یہ استثنی حاصل نہیں ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ خلیفہ حضرت عمر کے زمانے میں جب مہر نکاح کے تعلق سے کوئی تنازع اُٹھ کھڑا ہو اور خلیفتہ المسلمین نے اُسکے لیے مسجد کے منبر سے ایک ضابطے کا اعلان کیا تو ایک چپٹی ناک والی اعرابی عورت نے سرِ محفل عمر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے حضرت عمر کی قران فہمی پر ہی سوال کھڑا کردیا اور پھر خلیفتہ المسلمین کو اپنے فیصلے کو واپس لینا پڑا۔ یہاں نہ تو خلیفہ کے مرتبے پر کوئی آنچ آئی، نہ تو صحابہ کا تقدس پامال ہوا اور نہ ہی اُس اعرابی عورت پر کفر کا فتوی صادر ہوا۔

اب آپ ذرا غور کریں کہ مولانا حسین احمد کے پوتے اور مولانا اسد احمد کے بیٹے کا اصل نام محمود احمد ہے جن کو اُ ن کے آبائی وطن اور اُن کی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر اور دیوبند کی درسگاہ کی نسبت سے زیادہ سے زیادہ القاب و آداب کی گنجائش کے ساتھ جو نام ہوسکتا تھا وہ مولوی محمود احمد قاسمی ٹانڈوی تھا۔ علمی لیاقت اور فکری افتاد ایسی کے کسی مدرسے میں مدرس کی ملازمت بہ مشکل نصیب ہوسکے۔ لیکن اُن کے معتقدین کے نزدیک حضرت مولانا محترم عالیجناب الحاج السید محمود احمد مدنی دامت برکاتہم کی شخصیت ایک دور اندیش قائد اور با برکت عالم دین اور ایک روحانی خانوادے کے چشم و چراغ کی ہے جنھیں دارالعلوم دیوبند کی سیاست اور جمیعت العلماء کی قیادت وراثت میں نصیب ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپنی کم علمی اور فکری بے راہ روی پر اہل ایمان کے جم غفیر سے جوش خطابت میں جب مولوی صاحب یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نظام مصطفی اور قرآن کی حکومت کو ٹھکرا کر ایک سیکولر ملک میں رہنے کو فوقیت دی تو ایک وقت کی بریانی اور قورمے کے عوض بسوں میں بھر کر دیوبند سے لائے گئے عقیدت مند خوب تالیاں پیٹتے اور حضرت کی جے جے کار کرتے ہیں۔ تقدیس کی چادر اتنی دبیز ہوتی ہے کہ بات بات پر غیر دیوبندی علماء پر کفر و الحاد کا فتوی صادر کرنے والے دارالا فتاء کے مفتیان عظام خاموشی اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

مولوی صاحب جب شیوا جی کا اورنگ زیب سے موازنہ کرتے ہوئے شیوا جی کو بہتر حکمراں قرار دیتے ہیں تو دارالعلوم سے تاریخ اسلام کا کوئی استاد محمود احمد کی کُج فہمی کو چیلینج کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہوتا۔ جب مولوی صاحب پورے ملک میں این آر سی کے نفاذ کی اپیل کرتے ہیں اور کشمیر پر حکومتی زیادتی کا دفاع کرنے کے لیے جنیوا تک کا سفر کرتے ہیں تب بھی اُن کی لیڈرشپ پر کوئی سوال کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی جمیعت کے سکریٹری کے عہدہ سے اُنھیں برطرف کیے جانے کی کوئی صدا سنائی دیتی ہے۔ اور سُنائی بھی کیوں دے، محمود احمد کوئی معمولی مولوی تو ہیں نہیں۔ وہ حضرت اقدس مجاہد آعظم شیخ الاسلام ایتہ من آیات اللہ الصمدسیدی و شیخی و سندی الحاج الحافظ المولوی السید حسین احمد مدنی قدس سرح کے پوتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں اندھی تقلید اور جھوٹی تقدیس کا ہالہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •