عمران خان کا جارحانہ طرزسیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mazhar

ویسے تو 2013ء کے عام انتخابات سے ہی عمران خان نے جارحانہ طرز سیاست اپنایا ہوا ہے لیکن پانامہ ایشو پر وفاقی دارالحکومت بند کرنے کے اعلان سے انکی جارحانہ طرز سیاست ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ایشو سے شروع ہونے والی انکی احتجاجی سیاست کبھی اس نہج تک نہیں پہنچی تھی کہ انہیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے وفاقی دارالحکومت سمیت کسی شہر کو بند کرنے کی دو ٹوک الفاظ میں دھمکی دینی پڑے۔ کشمیر ایشو پر ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان وزیراعظم کے خلاف فیصلہ کن سیاسی جنگ لڑنے کے لیے کسی بھی انتہا پر جا سکتے ہیں۔ 30 اکتوبر سے شروع ہونے اس فیصلہ کن معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عمران خان لاکھوں کارکنوں کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کاگھیراؤ کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت ہر ممکن حد تک تحریک انصاف کے کارکنوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرے گی ۔ داراالحکومت کے محاصرے کی کوشش میں سیکورٹی فورسز اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم اور محاذ آرائی کی صورت میں تھرڈ پارٹی کی مداخلت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے ۔

\"imran-med\"

دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس عمران خان پانامہ جیسے ایشو کوکسی بھی قیمت پر نظر انداز کرنے کو تیار نہیں۔ عمران خان کی جانب سے پانامہ ایشو کو سنجیدگی سے لینے کی دو توجیہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ ایک محب وطن شہری کی طرح ملک کو کرپشن جیسے ناسور سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور انکے خیال میں کرپشن کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے حکمران طبقے کی کرپشن اور لوٹ مار کا احتساب ضروری ہے۔ پانامہ ایشو پر بھر پور احتجاج کرنے کی دوسری وجہ اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے عوامی مہم اور کچھ سیاسی فوائد کا حصول ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں وزیراعظم کے خلاف دائر کی گئی درخواست اور ریفرنس پر کاروائی کے نتائج اپنے حق میں کرنے کے لیے عمران خان اگلے دو تین ماہ میں بھرپور تحریک چلائیں گے۔ فوج اور عدلیہ کے سپہ سلاروں کی ریٹائرمنٹ سے پہلے نواز شریف یا اس کی حکومت برطرف ہونے کی صورت میں عمران خان وہ نفسیاتی و سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اگلے انتخابات میں نواز لیگ کی ناکامی اور ان کی کامیابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اوڑی حملے کے بعد کی صورتحال نے سول ملٹری تعلقات کو ایک بار پھر کشیدہ کر دیا ہے۔ سول حکومت ملٹری اسٹبلشمنٹ کو پاکستان کی سیاسی وسفارتی تنہائی سے آگاہی دیتے ہوئے حافظ سعید سمیت تمام شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی پر زور دے رہی ہے جبکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح کشمیر اور بھارت سے جڑے ایشوز پر سول حکومت کو بائی پاس کرنے کی روایتی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کر ے گی۔ سول ملٹری تعلقات کی ایسی کشیدہ صورتحال کے اثرات عمران خان کی احتجاجی تحریک کے حق میں وزن ڈال سکتے ہیں۔

عمران خان کے لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ پانامہ ایشو پر تحقیقات شروع کرانے یا وزیراعظم سے استعفی لینے کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اگر وہ ایک سے دو ماہ تک اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو انہیں ان ایشوز پر زیادہ وقت صرف کرنے کی بجائے دیگر اہم معاملات کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے۔ 2013ء کے الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی دو سال پہلے عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ تھا لیکن اب دھاندلی اور اس سے متعلقہ ایشوز عمران خان کی ترجیحات میں بہت نیچے جا چکے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم ہوئے ایک عرصہ گذر چکا ہے لیکن تحریک انصاف کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس ضمن میں ابھی تک کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔ آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں اوور سیز ووٹرز کی رجسٹریشن اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے عملی کوششیں کرنی چاہیں۔ اگرچہ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے صوبے میں تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر شعبوں میں قابل ذکر اصلاحات کی ہیں لیکن ابھی بھی ان شعبوں میں بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ خیبر پختون خوا میں دوبارہ حکومت بنانے کے لیے عمران خان کوصوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کرنے جبکہ وفاقی حکومت کے حصول کے لیے انہیں ملک بھر میں پارٹی کی تنظیم سازی ، دیگر جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور اتحاد بنانے کے لیے ابھی سے کوششیں کرنی ہونگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply