دھوکے باز جوانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت جوان اور میں بھی جوان تھی۔ امنگوں کے سفر پر امیدیں وسیع وبسیط خلا میں بہت تیزی سے ماضی کے سینے پر چڑھ کر مستقبل کی سیڑھی پر قدم جما کے کیا کیا نظارے دیکھ رہیں تھیں۔ ان خوابوں کے ذرے ذرے سے پھوٹنے والی توانائی کی طاقت میں اپنے اندر محسوس کرنے لگی تھی۔

میں بہت عجلت میں تھی اور زمانہ بھی میرے ساتھ بدل رہا تھا۔ سفر یقیناً بڑے تھے اور ان کی ایک ایک رات آنکھ جھپکتے صبح کے تعاقب میں تخلیق کو روند کر نہیں بلکہ اس کی دسترس کے محدود وسائل میں لامحدود خوابوں کے طویل فاصلوں کو طے کر رہی تھی۔

یہ جوانی شہد کی طرح میٹھی اور لیسدار ہوتی ہے اور ہمیشہ اس کے اندر رہنے کی خواہش نے مجھے بوڑھا ہی نہیں کیا۔ اس دور میں مجھے اپنے سفر کی مسافتوں میں منزل کی تلاش نہیں تھی، میں تو خوابوں کی تعمیر در تعمیر کر رہی تھی، میری نس نس میں electromagnetic field الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی طرح جلد باز مسافر جیسے خلیے اپنے سفر پر مجبوریوں اور تنگیوں کے باوجود قابوس رنگ دیوانگی میں بھیگا ہوا اپنے محور میں گھوم رہے تھے۔

میرے گرد فقیدالمثال ترقیاں اور کامرانیاں ہو رہیں تھیں، مگر اصل خوشی مجھے اپنے اندر کے ذرے کی ”کووولینٹ بانڈ ینگ“ covolent bonding سے ہوتی۔ میری لئے 1993 میں جاپان سے کورڈ لیس فون cordless خرید کر لانا یوں تھا جیسے میں نے خود یہ فون ایجاد کیا ہو۔

علم سے خود شناسی کے سفر پر گامزن تھی، پل بھر کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جوبن کیا دیکھتی، میرے گرد بے بہا حسن طلب اپنی نظروں میں آئینے جڑے گھومتے رہتے؛ ان کی نظروں سے اپنا آپ دیکھنا بھلا لگتا تھا اور یوں مجھے اپنے حسن کی گواہی پر تیقن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ میں بد صورتی کا چہرہ کیا دیکھتی اس کا تصور بھی ذہن میں نہیں بنتا تھا۔ گناہ کا عذاب تو تب ملتا اگر ثواب کرنے سے فرصت ملتی۔ میں تو صلاحیتوں کے زینے میں کھڑی صرف اور صرف سرفرازی کی کھڑکی سے ہفت آسمانوں سے ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کی منتظر رہتی۔

کبھی بھی برانڈیڈ کا زعم میرا مسئلہ نہیں تھا مجھے تو raw اور اوریجنل ہی لوگ پسند تھے۔ جو از خود اپنی شناخت بنتے؛ تب ہی تو میرے حلقہ یاراں کی تسبیح کے سب دانے کرسٹل سے لے کر کچی مٹی کے تھے۔ فیصلے کی گھڑی میں میرا جواب خلوص کے عقیدے کی پرستش کرتا ہوا کسی بھی نظام پر انگلی اٹھائے بغیر ہوتا۔ چاروناچار سوالیوں کے سوال کیا سنتی؛ سب یکسانیت کے شکار تھے سو سوال سنے بنا میں اپنے باطن میں پڑے جوابوں کے ڈھیر سے ایک کی انگلی پکڑ کر اس کی جھولی میں ڈال دیتی۔

میں کیا تھی، میں کیوں تھی، مگر جب رک گئی تو معلوم ہوا کہ میں تو بس ایک ہوا کا ایک معصوم جھونکا تھی، جس کو معصوم بچوں نے صابن میں پانی ملا کر بلبلا بنا کر اڑا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •