کنارِ ڈینیوب: جہاں شہیدوں کے نقش قدم سلامت رکھے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“جوتے اتار دو اور دریا کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ” تحکم بھری، کرخت آواز آئی۔

موت سر پہ تھی، محبت کرنے والوں نے مسکراتے لبوں اور اداس نگاہوں سے اک دوسرے کے ہاتھ تھام لیے، کبھی نہ جدا ہونے کے لیے۔ سرگوشیوں میں ایک دوسرے کو اپنی محبت کی یاددہانی کروائی، تکلیف اور اذیت سے گزر جانے کی ہمت بڑھائی اور بس چند لمحے !

گولیوں کی باڑ چلی، خوف سے لرزتے بے یقینی کی دھند میں گم، پھول سے جسم فضا میں اچھلے، خون میں نہائے اور نیلے ڈینیوب نے بہت محبت سے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔

وہ آج بھی دریاے ڈینیوب کے پانیوں میں گہری نیند سوتے ہیں۔ دریا آج بھی اداس آنکھوں سے اپنے کنارے رکھے ان کی نشانیاں دیکھے چلے جا رہا ہے، ہر سائز اور مختلف ڈیزائن کے جوتے!

ہم بڈاپسٹ میں تھے، ہنگری کا صدرمقام!

ہماری میزبان نائجیرین یورپین رفعت کا ہمیں پیغام ملا۔ آپ بڈاپسٹ میں shoes on the bank دیکھنا نہیں بھولیے گا، اور یہ مقام پہلے ہی سے ہماری دید گاہوں کی فہرست میں تھا۔

“دریائے ڈینیوب کے کنارے نصب جوتے” ایک یادگار ہے جو ایک ہنگرین فلم ڈائریکٹر کین ٹوگے نے کچھ لوگوں کی یاد میں مجسمہ ساز گائیلا پئیر کے ساتھ مل کے سوچی، تخلیق کی اور 2005 میں دریا کے کنارے نصب کر دی۔

کہانی ذرا پرانی ہے، سو آپ کو ہم دوسری جنگ عظیم کے ہنگری میں لئے چلتے ہیں۔ جرمنی کی نازی پارٹی کے فلسفے سے متاثر ہو کے ہنگری میں دائیں بازو کی جماعت ایرو کراس 1935 میں جنم لے چکی تھی۔ اس جماعت کو پندرہ اکتوبر 1944 سے اٹھائیس مارچ 1945 تک اقتدار ملا اور ان چھ بدقسمت مہینوں میں اس خوں آشام سیاسی پارٹی نے اپنی پیاس انسانی لہو سے بجھائی۔ دس سے پندرہ ہزار سویلین لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور اسی ہزار کو آسٹریا کے ان کیمپوں میں منتقل کیا گیا جہاں سے صرف موت کی خبر باہر آتی تھی۔

ڈینیوب کے کنارے قتل عام کی روایت کا آغاز ایک سرد رات سے ہوا۔ ایک قریبی بلڈنگ کے رہنے والوں کو دریا کے کنارے اکھٹا کیا گیا، جوتے اتارنے کو کہا گیا اور گولیاں مار کے دریا برد کر دیا گیا۔ یہ ایک ہولناک داستان کا آغاز تھا جس میں تقریباً 3500 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور اس میں عمر و جنس کی تمیز نہیں تھی۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد یہودیوں کی تھی جو بڑی تعداد میں ہنگری میں آباد تھے۔

مرنے والوں سے جوتے اتروانے کا بھی ایک سبب تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں بہت سی چیزیں بیش بہا قرار پا چکی تھیں اور جوتے بھی انہی میں شامل تھے۔ سو مقتولین کے چھوڑے ہوئے جوتے قاتلوں اور ان کے افراد خانہ کے پاؤں میں نظر آتے۔ جو جوتے بچ جاتے، وہ بیچ دیے جاتے۔

ڈینیوب بڈاپسٹ کے دو علاقوں بڈا اور پسٹ کو جدا کرتے ہوئے بہتا ہے اور یہ جوتے پسٹ سائڈ پہ پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے نصب کئے گئے ہیں۔ چالیس کی دہائی کے فیشن کے مطابق ڈیزائن ، مختلف سائز، زنانہ، مردانه اور بچگانہ!

لوہے سے بنے ساٹھ جوڑی جوتے!

ہم میموریل پہ پہنچ چکے تھے۔ بہت سی ادھ جلی شمعیں اور پھول کچھ مرجھائے، کچھ گل تازہ جوتوں کی بھینٹ چڑھائے گئے تھے۔ سیاحوں کا ایک ہجوم تھا جو چپ چاپ تصاویر کھینچتا جاتا تھا۔ فضا بوجھل تھی، نیلا پانی اداس تھا اور آسمان بھی خشک نگاہوں سے تکتا تھا کہ آنسو تو کب کے خشک ہو چکے۔

ہر جوتا ایک کہانی تھا۔ ہر جوتا کچھ بتانے پہ بےتاب نظر آتا تھا۔ کون جانے اس رات کون اپنی شب زفاف سے اٹھ کے آیا تھا؟ کون جانے کون نیند میں کس کے سپنے دیکھتے دیکھتے یہاں آ پہنچا تھا؟ کون جانے کون سی ماں اپنا بچہ تھپک کر سلا رہی تھی؟ کون جانے کون سی ماں صبح بچوں کے سکول لے جانے کا لنچ بنا رہی تھی ؟ کون جانے کہیں کوئی باپ اپنے بچوں کے ساتھ کیرم کھیلتا تھا اور جان بوجھ کے ہار جانے کی فکر کرتا تھا تاکہ بچوں کی کھلکھلاتی ہنسی سے دل کو گرما سکے؟

کیا قاتل جانتے تھے؟ کون سی بڑی بہن چھوٹے بہن بھائیوں کو ہوم ورک ختم کروا رہی تھی؟ کون سی لڑکی اپنے منگیتر کو خط لکھ رہی تھی؟ کون سا مریض جاں بلب تھا اور اس کے گھر والے اسے حسرت سے تکتے تھے؟ کونسا جوڑا جنگ کی ہولناکیوں سے تنگ آ کر موسیقی سے دل بہلا رہا تھا؟ کون بے فکرے محبت میں مگن ناچ رہے تھے ؟ کون سے بہن بھائی آپس میں لڑ رہے تھے اور ماں باپ ان کو پیار سے سرزنش کرتے تھے؟

ان سب کو کیا خبر کہ وہ رات زندگی کی آخری رات تھی اور بس چند ہی گھڑیاں باقی تھیں۔

میں سوچتی تھی وہ کیا سوچتے تھے، جب دروازے توڑے گئے ہوں گے۔ وہ کیا محسوس کرتے تھے، جب وہ رائفلوں کے سائے میں ٹھوکریں کھاتے دریا کی طرف چلتے تھے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چپ چاپ!

اور جب دریا کے کنارے جوتے اتارے گئے، کنارے کی ٹھنڈک روح میں اترتی ہوگی اور یہ جان کر کہ نصیب میں یہی کچھ لمحے باقی ہیں، وہ ایک دوسرے کا ہاتھ زور سے تھامتے ہوں گے، سیاہ سرد رات ان کی محبت کی گرمجوشی کم نہیں کر سکی ہو گی اور زیر لب کہا گیا الوداع فضا میں ٹھہر گیا ہو گا۔

وہ الفاظ آج بھی ڈینیوب کی سطح پہ تیرتے پھرتے ہیں۔

ایک دن آخر کار میں تمہیں

نیلا الوداع کہوں گا

میں جانتا ہوں

ایک نہ ایک دن

تم مجھ سے پوچھو گی

بھلا الوداع کا بھی کوئی رنگ ہوتا ہے

اور وہ بھی نیلا رنگ

میں تمہارے جواب میں

صرف اپنی آنکھیں موند لوں گا

(احمد رضا احمدی۔ ترجمہ معین نظامی)

شام کا دھندلکا پھیل رہا تھا۔ ہم نے کئی دہائیوں پہلے کی کہانیاں جاننے کی کوشش کی تھی۔ دل بوجھل تھا اور ہم ڈینوب کے کنارے رکھی نشانیوں کو الوداع کہتے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ ڈوبنے والے شہیدوں کے نقش قدم تو آج بھی دریا کے کنارے موجود ہیں، ظلم کرنے والوں کی کہیں کوئی خبر نہیں۔ ظلم بالآخر اوجھل ہو جاتا ہے۔ کیا کبھی ایسا ہو سکے گا کہ ظلم کی خواہش ہی کو دریا برد کیا جا سکے، ظلم کی روایت ہی کو دفن کر دیا جائے۔ ظلم کا جواز تراشنے والوں کا منہ بند کیا جا سکے۔ انسانوں کی دنیا میں ظلم ابھی زندہ ہے۔ یہ ساٹھ جوڑی جوتے اس انتظار میں ہیں کہ ظلم آئے، انہیں پہنے اور پھر دریا میں اتر جائے۔

ڈینیوب اور بھی اداس ہو چلا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •