ہم جو عمران خان کی حمایت پر مجرم ٹھہرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسکول کے گراؤنڈ میں سینئر کلاسوں کی بچیاں دھرنا دینے کے انداز میں بیٹھی تھیں۔ وائس پرنسپل نے مجھے بتایاتھا کہ بچیوں کی عدالت میں آپ کو حاضر ہونا ہے۔ بھونچکی سی ہوکر میں نے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟

یہ تو آپ کو عدالت میں حاضر ہونے سے پتہ چلے گا۔

لائبریری میں احتسابی عدالت کا پورا سین سجا ہوا تھا۔ اور میں ملزموں کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ بچوں کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کی طرف سے آپ کو New Seeds of Hope کا خط ملا تھا۔ آپ نے زمانہ چشیدہ ہونے کے باوجود نئی نسل کو خواب کیوں دکھائے؟ آپ نے کیوں کہا کہ آؤ بچو وہ امیدوں کے بیج بونے لگا ہے، آؤ اس کے ہاتھ مضبوط کریں، آؤ پیسہ پیسہ اکٹھا کریں۔ اُسے دیں تاکہ وہ دل جمعی سے زمین کی کھدائی کرے، اسے وقت پر پانی دے، اُسے کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لیے اس پر سپرے کرے کہ یہ مضررساں کیڑے سب اچھی چیزوں کو تلف کردیتے ہیں۔

ہم نے آپ کے کہنے پر لبیک کہا۔ اپنا جیب خرچ جمع کرتے رہے۔ دہم میں پڑھنے والے میرے بھائی نے اپنا موٹر سائیکل بیچ دیا۔ سکول کا اور ہماری اساتذہ کا اور ہم بچوں کا سارا پیسہ بینک میں جمع ہوا۔ ہم، آپ اوراپنی سینئر ٹیچرز کے ساتھ زمان پارک اس چیک کے ساتھ گئے۔ جہاں ہم نے نئے پاکسان کا نعرہ لگانے والے کواِسے پیش کیامگر بتائیے کیا اُس نے ہمارے اِن جذبات کی شدت کا کچھ احساس کیا، کیا۔ اس نے اس کسان کی طرح اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جو وقت پر بوائی، گڈائی، آب پاشی اور سپرے کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ بیساکھی کے میلے سجاتا رہا اور نہیں سمجھا کہ اس میلے کا اہتمام کسان فصل پکنے، اس کی کٹائی اور غلّے کو گھر آنے پر کرتا ہے۔

میں نے سرجھکا لیا تھا۔ ٹپ سے دو آنسو میری آنکھوں سے نکلے اور میرے دوپٹے میں جذب ہوگئے۔

چند لمحوں کے لیے میں نے خود کوعالم تصور میں اقتدار کے ایوانوں کے بند دروازوں کی غلام گردشوں میں کھڑے پاگلوں کی طرح سے آوازیں دیتے ہوئے محسوس کیا۔

”کوئی ہے، کوئی ہے، کوئی یہاں ہے جو مجھے سُنے۔

اب ایک اور آواز مجھے اِس تصوراتی جہاں سے کھینچ کر واپس موجود دنیا میں لے آئی ہے۔

اسکول کی ایک اور ذہین بچی اب بول رہی تھی۔ میڈم بات تو زیادہ پرانی نہیں۔ ذرا یاد کریں۔ بچی کی صورت نے مجھے سب کچھ یاد دلا دیا تھا۔ یہ عمران خان کے نئے نئے حکومت میں آنے کا زمانہ تھا۔ ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھی کام میں مصروف تھی جب کوئی چھ سات بارہ تیرہ سال کی عمر کی بچیاں مجھے دروازے میں کھڑی نظر آئیں۔ فی الفور میں نے انہیں اندر آنے کا کہا اور سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا۔ ظاہر تھا کہ وہ اپنے کسی مسئلے کے لیے ہی میرے پاس آئی تھیں۔ جب میں اُن کی طرف دیکھتی تھی مجھے اُن کے چہرے تمتماتے محسوس ہوئے تھے۔ کلاس کی پری فیکٹ نے اپنا اور کلاس کا تعارف کرواتے ہوئے مجھے بتانا شروع کیا کہ وہ چیف جسٹس اور وزیراعظم عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ڈیم کے فنڈ ریزنگ میں اپنے اسکول کا حصّہ ڈالنا چاہتی ہے۔

بچی کی آواز جذبات سے لبریز تھی۔ دیکھئیے نہ میڈم پاکستان کے پاس ڈیموں کی کتنی کمی ہے۔ انڈیا ہم سے اِس معاملے میں کتنا آگے ہے۔ بجلی کا کتنا بڑا ایشو ہے۔ اب اگر کِسی نے کوئی قدم اٹھایا ہے تو کیا ہمیں کام نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں نئی حکومت اور چیف جسٹس صاحب کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

میں نے اٹھ کر بچیوں کی پیشانیوں پر بوسہ دیا اور انہیں اپنے ہرطرح کے تعاون کا یقین دلایا۔ میں نے سنئیر ٹیچرز کو پس منظر میں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے انہیں کام کرنے اور اِس کمپین کو عمدہ طریقے سے چلانے کی ہدایات دیں۔ بچوں کے جوش جذبات کی کیا تفصیلات لکھوں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہی بات کہ ذرانم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ سکول نے اپنا حصّہ ڈالا۔ ٹیچرز نے ڈالا اور یوں بچوں نے جاکر پیسہ الائیڈ بینک میں جمع کروایا۔

ڈیم کہاں گیا؟ پیسہ کہاں گیا؟ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ کیسے لوگ ہیں ہم؟ چیف جسٹس صاحب کہاں غوطہ مار گئے ہیں؟ کیا ہوا اگر ریٹائر ہوگئے تو کام کیوں نہ جاری رکھا۔

اپنی واہ واہ ہی چاہتے تھے۔ اپنے نام کے ہی جھنڈے گاڑنا پسند کرتے تھے۔ آپ کرسی سے اُترتے ہیں تو ساتھ ہی سارے جذبے، سارے دعوے سب موت کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔

اب ایک اور بچی اٹھی اور بولنا شروع ہوئی۔

شاید آپ کو میرے منہ سے یہ باتیں بُری لگیں مگر حالات حاضرہ پر تبصرہ میرے گھر کا روزمرہ کا معمول ہے۔ میں کم عمری کے باوجود ملکی سیاست کو کافی سمجھتی ہوں۔ افسوس کی بات ہے ہماری ملکی سیاست تو پاور سٹرکچر کے پھندے میں الجھی ہوئی ہے۔ پاور کا یہ ستون شتربے مہار جیسا کردار ادا کررہا ہے۔ سوموٹوایکشن میں افراد اپنی حدود میں ہی نہیں رہتے۔

میرے چچا گردوں کی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوگئے۔ ہمارے لیے ان کا علاج کروانا کسقدر مشکل ہوگیا۔ میرے بابا کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی نے اپنے دور میں تین بڑے کارڈیالوجی کے اسپتال بنائے۔ ملتان میں دوسرا لاہور میں میاں میر کے سامنے اور تیسرا وزیرآباد میں۔ افسوس کا مقام کہ شہباز حکومت نے ان تینوں اسپتالوں کی طرف قطعاً توجہ نہیں کی۔ سیاست اپنی جگہ مگر یہ ادارے عوام کے پیسوں سے عوام کے لیے بنائے گئے تھے۔

یہ کسی کی جائیداد تو نہیں تھے۔ بابا کو سخت اعتراض تھا کہ یہ کیسے جھوٹی اناؤں کے مارے ہوئے حکمران ہیں۔ انہیں صرف اپنے نام کی سربلندی سے دلچسپی ہے۔ تاہم شہباز شریف نے ڈاکٹر سعید کے تعاون سے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسیٹیوٹ PKLI کو فعال کیا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے انسانیت کا سربلند کیا۔ بالکل مفت اور اعلیٰ پایہ کا علاج۔ مگر ہوا کیا؟ شوکت خانم جیسا اسپتال بنانے والے نے اور سابق چیف جسٹس کے غیر ضروری امور کو ہر طرح نمایاں کرنے کی سوموٹو ایکشن نے اِس بے حد شاندار پروجیکٹ کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا۔

اسپتال میں لیور ٹرانسپلانٹ کا عمل بندہوچکا ہے۔ میرا 38 سالہ چچا تین چھوٹے بچے چھوڑ کر فوت ہوگیا ہے۔ اور بھی نجانے کتنے کیس ہیں۔

میرے آنسو بہہ رہے ہیں۔ کوئی ہے جو میری سُنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •