نئے پاکستان میں بھینسوں کی رخصتی، طوطوں کی آمد اور جام کا کمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالی و معدنی قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان سینڈک، سوئی گیس اور سونے کے پہاڑ کے نام سے پہچان رکھنے والے ریکوڈک کے باسی، اور اس سرزمین پر آباد لوگ، دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں جو اپنی زندگی میں تبدیلی کے منتظر ہے۔ الیکشن 2018 میں وجود میں آنے والی نئی پارٹی جو ’’باپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی، الیکشن سے قبل کچھ لوگ اسے غیر سنجیدہ سجھتے رہے، جو ان کی غلط فہمی تھی۔ بلوچستان عوامی پارٹی، جس کے بانی سعید احمد ہاشمی صاحب ہیں، انہوں نے سنوکر کے کیو بال کو ایسے مارا کہ 27 نمبر کا کھیل اپنے نام کر لیا۔ نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی وجود میں آئی، اور انہوں نے بلوچستان میں ’’باپ‘‘ کا لقب بھی حاصل کر لیا، اور کامیابی بھی ایسی کہ گزشتہ 40 سال سے اس سرزمین پر سیاست کرنے والوں کو دفن کر دیا۔

جن قوم پرست جماعتوں نے گزشتہ حکومت میں 14 نشستیں حاصل کیں، وہ موجودہ دورمیں ایوانوں سے دور دور تک دور بین سے بھی نظر نہیں آتیں۔ اس الیکشن کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی جماعتوں کو قوم کی تقدیر بدلنے کا نام دیا گیا، اور نئے پاکستان کے مرکز میں قوم کے ہیرو خان آئے اور ہم بلوچستانیوں کے حصے میں جام آئے۔ الیکشن کے بعد نئی حکومتوں کا چرچا ہر ایک کی زبان پر تھا۔ جب کہ دوستوں کے ہمراہ نئی حکومت اور نئے پاکستان کو خوش آمدید کہنے کو ہر طرف مباحثے ہو رہے تھے۔ چند دنوں بعد وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے پہلا خطاب کیا، اس پورے 45 منٹ کے خطا ب کے دوران میں خان صاحب نے قوم کو وزیر اعظم ہاؤس میں درجہ چہارم کے ملازمین اور بھینسوں کی تعداد بتائی، اور آخر میں ریاست مدینہ کے نظام کو پاکستان میں رائج کرنے کی نوید بھی دی۔

وزیر اعظم کے پہلے خطاب کے بعد ہرطرف نئے پاکستان پر بحث مباحثہ ہو رہا تھا، کہ اب وہ پرانا پاکستان نہیں رہے گا۔ دو ماہ بعد وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو بھینسیں بیچنے کی خوشخبری سنائی، نواز شریف کی رائے ونڈ سے لی گئی وہ بھینسیں نیلام کر دی جسے میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی، کہ قوم کے پیسے کا احتساب کیا جا رہا ہے۔

نئے پاکستان میں بھینسوں سے احتساب کے عمل کا افتتاح، قوم کے لیے کسی تحفے سے کم نہ تھا۔ اس نیلامی کے چند ماہ گزرنے کے بعد، خان صاحب کے مشیر نے اخبارات میں 42 لاکھ کا ٹینڈر مطلوب ہے، کا اشتہار دیا۔ ٹینڈر طوطوں کے لیے پنجرہ بنانے کا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ میاں صاحب بھینس پالنے کے شوقین تھے، اور خان صاحب اسٹریلین طوطے پالنے کے شوقین ہیں۔ جب یہ خبرسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، قوم نے سوال اٹھایا، تو وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان نے ٹینڈر منسوخ کر دیا۔

وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے بیوٹمز یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں نے گڈ گورننس کو ترجیح نہیں دی، جس کی وجہ سے صوبہ بد حالی کا شکار ہے۔ اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم احتساب کرنے آئے ہیں، بلوچستان کے عوام کا پیسہ، بلوچستان ہی پر خرچ کریں گے۔ پھر پورا سال ہونے کو آیا، گزشتہ پی ایس ڈی پی کے پیسے خرچ نہ ہوسکے، اور نئی پی ایس ڈی پی 2019-20۔ جس دن بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جانا تھا، تو اجلاس کے شروع ہوتے ہی، دوبارہ بجٹ کاپی پر غور کیا گیا۔ بجٹ کاپی میں وزیر اعلی کے مشیروں کے ٹولے کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی 30 منٹ کیلے روک دی گئی۔ اور پھر ملازمین کی دوڑیں لگ گئیں، تا کہ جلد اُن دانشوروں کا حصہ بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کر دیا جائے۔

خود کو عوامی وزیر اعلی کہنے والے جام صاحب نے گزشتہ 15 سال کے دوران حکمرانی کرنے والے وزرائے اعلی کو پیچھے چھوڑ دیا، گزشتہ دنوں سی ایم ہاؤس پریس کانفرنس کے حوالے سے جانا ہوا تو جام حکومت کی تبدیلی واضح طور پر نظر آئی۔ گزشتہ ادوار میں جو چیف اف سراوان نواب اسلم رئیسانی، چیف آف جھلاوان نواب ثنا اللہ زہری اور ڈاکٹرعبد المالک بلوچ نہ کر سکے، وہ جام کمال عالیانی صاحب نے کر دکھایا۔ وہ یہ کہ اب سی ایم ہاؤس میں اندر جانے کے لیے وزیر اعلی کے لیے مخصوص عالی شان دروازہ، عین اُن کے حکم کے مطابق لگا دیا گیا ہے۔ اس دروازے سے صرف قائد جمہوریت جام کمال عالیانی داخل ہوتے ہیں اور اس دروازے سے گزرنے کی کسی وزیر یا مشیر کو اجازت نہیں، لہٰذا دیگر زحمت نہ کریں۔ دیگر وزرا اور مشیر صاحبان کے لیے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا دروازہ لگا دیا گیا ہے۔

اس دوران میں سی ایم ہاؤس سے باہر جانے کے لیے چند وزرا گزر رہے تھے تو سیکیورٹی افسر نے اُنہیں اشارہ کیا کہ آپ معزز ارکان کے لیے الگ دروازہ موجود ہے۔ اس پر ایک وزیر نے کہا، کہ خدا کے لیے یہ جنت کا دروازہ کھول دو، ہم بھی مسلمان ہیں۔

یہ تو رہا بلوچستان میں تبدیلی کا سفر، اب سوال یہ ہے کہ خان صاحب کے بھینسوں کی نیلامی کی طرح، کہیں جام کمال کے جانے کے بعد آنے والے وزیر اعلی، اس عالی شان دروازے کو نیلام کر کے، سی ایم ہاؤس کا احتساب تو نہیں کریں گے؟ اور پھر نئے پاکستان میں رہنے والی قوم اس دروازے کے نیلامی پر خوش ہو کر نئے بادشاہ کو پھر سے عادل نوشیراوں سمجھ لیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •