کس ملک کی کتنی وقعت ہے؟ پاکستان دو برس میں 55 سے گر کے 34 پر آ گیا، بھارت 44 پر برقرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیٹو (Cato)انسٹیٹیوٹ ہر سال دنیا کے ممالک کی ایک فہرست جاری کرتا ہے جس میں تمام ملکوں کی ’وقعت‘ کے لحاظ سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ کیٹو انسٹیٹیوٹ تمام ممالک میں افراط زر، بینک لینڈنگ ریٹس ، بے روزگاری اور جی ڈی پی کا موازنہ کرکے ’Misery Index‘ مرتب کرتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے اب سال 2018ء کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے جس میں وینزویلا کو دنیا کا سب سے کم وقعت ملک قرار دیا گیا ہے جس کی معاشی حالت دنیا میں سب سے بدتر ہے۔

فہرست میں پہلے دس بے وقعت ترین ممالک میں بالترتیب ارجنٹینا، ایران، برازیل، ترکی، نائیجیریا، ساﺅتھ افریقہ، بوسنیا، مصر اور یوکرین شامل ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کا درجہ بھی انتہائی کم وقعت ممالک میں آیا ہے جو اس فہرست میں 34ویں نمبر پر ہے۔ اس کا انڈیکس 16.7 فیصد آیا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت 10 پوائنٹس کی برتری بہتری کے ساتھ 44ویں نمبر پر ہے جس کا انڈیکس 13.2فیصد ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2017ء میں اسی انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن بدرجہا بہتر تھی اور پاکستان 55ویں نمبر پر آیا تھا۔ تب اس کا انڈیکس 11.1 فیصد تھا۔ دوسری طرف بھارت 2017ء میں بھی 44ویں پوزیشن پر تھا اور رواں سال بھی اسی پوزیشن پر برقرار رہا تاہم پاکستان کی مالی حالت اس ایک سال میں اس قدر ناگفتہ بہ ہوئی کہ 55ویں نمبر سے گر کر 34ویں نمبر پر آ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •