نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون رابطوں کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نمرتا ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت ہوقئی ہے اگرچہ طالبی کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون پر رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا اور ان کے قریبی دوست مہران ابڑو اور علی شان کے رابطوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

ایس ایس پی نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے سائبر ونگ کی جانب سے نمرتا ہلاکت کیس کی رپورٹ پولیس نے حاصل کر لی ہے۔ نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان بہت زیادہ رابطہ تھا۔اور دونوں چار ہزار بار کال اور ٹیکسٹ میسیج پر بات چیت کر چکے تھے۔ نمرتا نے آخری بار 15 ستمبر کو مہران ابڑو سے رابطہ کیا تھا۔ ستمبر کے 15 روز میں نمرتا نے صرف ایک بار اپنے بھائی ڈاکٹر وشال سے بات کی تھی جب کہ قتل کے روز والد سے ایک بار اور والدہ سے چار بار بات کی تھی۔

پولیس نے مزید 5 طالبات کے بیانات قلمبند کر کے ایف آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔

دوسری طرف لیاقت یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز جامشورو نے میڈیکل طالبہ نمرتا چندانی کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نمرتا چندانی کی موت بظاہر دم گھٹنے یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی، اس کے دل، گردوں، پھیپھڑوں اور جگر میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں پائی گئی۔

لیاقت یونیورسٹی ہیلتھ سائنسزجامشورو کی 26 ستمبر کو مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق زہر دینے یا غیر طبعی موت کی صورت میں جسم کے اعضا میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ لاڑکانہ پولیس کے مطابق رپورٹ میں نمرتا کی موت کا سبب ظاہر نہیں کیا گیا۔ لاڑکانہ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ نمرتا نے خودکشی کی ہے۔ تحقیقات میں قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •