پی ٹی آئی فنڈنگ کیس ملک کی سیاسی تاریخ بدل دے گا: اکبر ایس بابر
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے سے متعلق تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے باغی رہنما اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ الحمد اللہ آج الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی چاروں درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی کے اعتراضات دراصل کیس سے بھاگنے کے لیے تاخیری حربے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے مجھے کیس سے الگ کرکے اپنے نتائج حاصل کر سکیں گے۔ کارروائی خفیہ رکھنے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقائق سامنے آگئے تو یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بدل کر رکھ دے گا۔ لوگوں کوپتہ چلےگا کہ اس فنڈنگ کے پیچھے کون ہے۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ میری ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہم نے جو اصول دوسروں کے لیے طے کیے تھے وہی اپنے لیے بھی لاگو کرنا ہوں گے۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میں اور عمران خان بات کیا کرتے تھے کہ جو غلط کام کرے گا، دوسرا اس کے سامنے کھڑا ہوجائے گا، میں عمران خان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ٹیم کبھی ڈلیور نہیں کر سکتی، یہ ٹیم پاکستان تحریک انصاف کی ہے ہی نہیں۔ عمران خان اپنے احتساب سے پانچ سال سے بھاگ رہے ہیں۔ کبھی ہائی کورٹ بھاگتے ہیں ، کبھی میرے خلاف مہم چلاتے ہیں، ہم تمام ثبوت الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ چکے ہیں، کیس سے متعلق اسٹیٹ بینک نے 23 اکاونٹ پیش کر دیے ہیں، 14 اکتوبر کے بعد اسکروٹنی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے اور جلد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے الیکشن میں بہت دھاندلی ہوئی، ہم نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔


