گوادر بندرگاہ پر سہولیات: حقائق کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ چند سالوں سے سیاستدان ہوں یا تجزیہ نگار ہوں یا میڈیا ہو ہمیں دن رات یہی بتایا جا رہا ہے کہ گوادر کی بندر گاہ کا منصوبہ ایک عظیم منصوبہ ہے۔ یہ بندرگاہ ایک عظیم سنگ ِ میل ثابت ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ ذرا سوچیں کتنی بار ہم نے ٹی وی پر سنا یا اخبار میں پڑھا کہ جب ایک بندرگاہ کی افادیت کو پرکھا جاتا ہے تو کیا معیار استعمال کیا جاتا ہے؟ صرف جغرافیائی اہمیت ہی کافی نہیں ہوتی۔ جب کوئی تجارتی جہاز کسی بندرگاہ کو استعمال کرتا ہے تو اسے بہت سی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اور ان کے بغیر یہ جہاز اس بندرگاہ کو استعمال نہیں کر سکتا۔ اب جبکہ گوادر بندرگاہ کا منصوبہ ایک نہایت اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ ان سہولیات کے لحاظ سے گوادر کی بندرگاہ کا کیا معیار ہے؟ اور اس خطے کی دوسری بندرگاہ وں سے اس کا موازنہ کر نا ضروری ہے کہ ان بندرگاہوں کی نسبت گوادر کی بندرگاہ پر کتنی سہولیات موجود ہیں؟ اس مضمون کے لئے ہم گوادر کا موازنہ سنگاپور جیسی بہت بڑی بندرگاہ سے نہیں بلکہ کولمبو اور صلالہ [عمان ] جیسی نسبتاً درمیانی بندرگاہوں سے کریں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ بندرگاہیں پرانی ہیں اور گوادر کو ابھی ترقی کے مراحل سے گزرنا ہے۔ لیکن کم از کم یہ اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے مراحل ابھی باقی ہیں۔

کسی بھی بندرگاہ پر اگر جہاز کو زائد انتظار کرنا پڑے تو اسے بہت سے زائد اخراجات اُٹھانے پڑتے ہیں۔ مثلاً عملے کی تنخواہوں، بندرگاہ کے اخراجات، انشورنس، ایندھن وغیرہ کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے کوئی بھی کمپنی ایسی بندرگاہ پر اپنا جہاز بھجوانا پسند نہیں کرتی جس میں اس کے جہاز کو زائد انتظار کر نا پڑے کیونکہ یہ مالی طور پر بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔

جب ایک بحری جہاز کسی بندرگاہ پر کھڑا ہوتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ یہ جہاز کہیں بھی کھڑا ہو جائے۔ جہاں پر جہاز کو کھڑا کیا جائے اس جگہ کو برتھ [Berth] کہتے ہیں۔ جب کسی بندرگاہ پر ایک سال میں کئی ہزار جہاز آنے ہوں تو ظاہر ہے اسی لحاظ سے برتھ کی تعداد کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ پر صرف 3 برتھ موجود ہیں جو کہ بہت کم ہیں۔

اس کے بعد جہاز سے سامان کے کنٹینر اتارنے کے لئے کرینیں (Cranes) درکار ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم قسم وہ کرین ہے جو ریل کی پٹری پر چلتی ہے۔ گوادر میں ان کی تعداد 5 ہے۔ عمان کی صلالہ بندرگاہ میں 25 اور کولمبو میں 51 ایسی کرینیں مہیا کی گئی ہیں۔ کرینوں ایک اور قسم وہ ہے جو کہ ٹائروں پر حرکت کرتی ہے۔ انہیں RTGSکہا جا تا ہے۔ گوادر میں اس قسم کی صرف 2، صلالہ میں 68 اور کولمبو میں 150 کرینیں میسر ہیں۔

ظاہر ہے اگر جہاز وں سے سامان اتارنے کا مناسب انتظام ہی موجود نہیں ہے۔ کوئی بھی کمپنی یہ برداشت نہیں کرے گی کہ اس کا جہاز کرینوں کے مہیا ہونے کے انتظار میں کھڑا انتظار کرتا رہے اور کمپنی مالی نقصان برداشت کرتی رہے۔ اسی طرح گوادر میں کنٹینر ز (Containers) کی نقل و حرکت کے لئے چار ایسے ٹرک موجود ہیں جو کہ 25 ٹن تک کا کنٹینر اُٹھا سکتے ہیں اور 4 ایسے ٹرک ہیں جو کہ 10 ٹن تک کا کنٹینر برداشت کر سکتے ہیں۔ ایک تو یہ تعداد کم ہے دوسرے اب 25 ٹن سے زائد وزن کا کنٹینر عام ہے۔ یہ ٹرک ایسے کنٹینروں کی نقل و حرکت کے کام نہیں آ سکتے۔ اسی طرح بندرگاہ پر کنٹینر اُٹھانے کے لئے فورک لفٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوادر میں ان کی تعداد 12، صلالہ میں 9 اور کولمبو میں 40 ہے۔

ایک درمیانے سائز کی بندرگاہ پر بھی ہزاروں کنٹینر آ رہے ہوتے ہیں۔ ان کو ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کے لئے مشینری درکار ہوتی ہے۔ ورنہ ان کو رکھنے کی جگہ ہی نہ رہے۔ جو مشین بھرے ہوئے کنٹینروں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتی ہے اسے Reach Stackerاور جو مشینری خالی کنٹینروں کو ایک دوسرے اوپر رکھتی ہے اسے Empty Handler کہتے ہیں۔ گوادر میں Reach Stackers صرف دو کی تعداد میں موجود ہیں اور Empty Handlerایک بھی نہیں ہے۔

صلالہ میں ان کی مجموعی تعداد 11 اور کولمبو میں یہ دونوں مشینریاں 37 کی تعداد میں موجود ہیں۔ یعنی ہمارے پاس گوادر میں سامان کوطریقے سے رکھنے کے تیز آپریشن کی سہولت موجود نہیں ہے۔ کسی بھی کامیاب بندرگاہ پر بندرگاہ کے احاطے میں سامان کی منتقلی کے لئے ٹریکٹروں اور ٹریلروں کی کافی تعداد کی ضرورت بہر حال پڑتی ہے۔ گوادر میں ان دونوں کی مجموعی تعداد 10 ہے۔ صلالہ میں ان کی تعداد 177 اور کولمبو میں یہ تعداد 502 ہے۔ یہ فرق اتنا واضح ہے کہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔

بحری جہاز پر آنے والا بہت سا سامان ایسا ہوتا ہے جسے بندرگاہ پر بھی ایک خاص درجہ حرارت پر رکھنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر گوشت، مچھلی، سبزیاں، پھل اور کئی ادویات کے جو کنٹینر آتے ہیں وہ ریفریجشن کنٹینر میں بند ہوتے ہیں۔ ایسے کنٹینروں کو رکھنے کے لئے انہیں خاص socketمہیا کیے جاتے ہیں تاکہ ان کا درجہ حرارت ایک سطح پر برقرار رہے۔ گوادر کی بندرگاہ میں یہ socket چار سو کی تعداد میں موجود ہیں۔ یعنی ایک وقت میں اس قسم کے صرف چار سو کنٹینر گوادر میں رکھے جا سکیں گے۔ کئی بڑے جہازوں میں اس تعداد سے زیادہ ایسے کنٹینر موجود ہوتے ہیں۔ اس کمی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس قسم کا سامان بہت کم مقدار میں اس بندرگاہ سے گزر سکے گا۔ اب بہت بڑے حجم کے جہاز تجارت کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن گوادر کی بندرگاہ پر 500000 ٹن سے زائد کا جہاز نہیں آ سکتا۔

بہت سے جہاز ایسی جنس کا سامان لے کر آ رہے ہوتے ہیں جو کنٹینر میں بند نہیں ہوتا بلکہ کھلی حالت میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گندم، مکئی، خام معدنیات، کوئلہ وغیرہ۔ ان کی ترسیل یا پیکنگ کا نظام بندرگاہ پر مہیا کرنا پڑتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ میں اس قسم کا کافی انتظام موجود نہیں ہے تاکہ اس قسم کے سامان کو وصول کر کے منزل کی طرف روانہ کیا جا سکے۔ گوادر میں جہازوں کو ایندھن مہیا کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔ جہازوں کو کئی مرتبہ مرمت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ابھی اس بندرگاہ میں اس کا انتظام بھی موجود نہیں ہے۔ آگ بجھانے کی جدید سہولیات کا بھی فقدان ہے۔

آخر میں نتیجہ کیا نکلا؟ گوادر کی بندرگاہ موجودہ حالت میں ایک چھوٹی بندرگاہ ہے۔ اس حالت میں اس سے پاکستان کو قابل ِ ذکر مالی فائدہ ہونے کی توقع کم ہے۔ اور اسے طویل مدت کے لئے چین کو ٹھیکے پر بھی دے دیا گیا ہے۔ اگر اس میں سہولیات میں کئی گنا اضافہ نہ کیا گیا تو اس سے کوئی انقلاب برپا ہونا تو ایک طرف رہا یہ ایک درمیانے سائز کی بندرگاہ بھی نہیں بن سکے گی۔ جیسا کہ اس بندرگاہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس بندرگاہ کو بیس پچیس سال کی محنت سے بڑا کرنا پڑے گا۔

اگر اس کو بڑا کرنا ہے تو اس کا کیا منصوبہ ہے؟ اس کے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اس منصوبے کی وجہ سے پاکستان پر جو زیادہ سود والے مزید قرضے چڑھ گئے ہیں ان کو اتارنے کی کیا صورت ہو گی؟ صرف بیجنگ میں پاکستانی وزیراعظم کو چینی صدر کا گرم جوشی سے مصافحہ کر لینا کافی نہیں۔ اس بندرگاہ پر اپنی نیوی کھڑی کر کے چین کو تیل کی ایک اہم گزرگاہ تک رسائی تو مل جائے گی لیکن پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •