وہ بیان کرتی ہیں کہ لڑکیوں کی یہ منڈی رات کو لگا کرتی تھی۔ گرفتار لڑکیوں کے کانوں میں آوازیں آنا شروع ہو جاتی تھیں کہ داعش کے نام نہاد مجاہد اس خرید میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام لکھوا رہے ہیں۔ پھر دروازہ کھلتا تھا اور ان میں سے ایک جنگجو داخل ہوتا تھا۔
سب لڑکیاں سہم کر سمٹ جاتی تھیں یا بے سود چیخیں مارنا شروع کر دیتی تھیں۔ پھر اس بد معاش کا ہاتھ کسی خوب صورت لڑکی کی طرف بڑھتا تھا۔ اس کا چہرہ اس کے بال اور اس کے دانت دیکھ کر کہتا۔ ”کیا یہ کنواری ہے؟“ ۔ اگر مال پسند آتا تو اس لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا چلا جاتا۔
جب ان لڑکیوں کی چیخیں اور زیادہ بلند ہوتیں تو گارڈ چلا کر انہیں خاموش رہنے کا حکم صادر کرتا۔ اگر وہ پھر بھی نہ باز آتیں تو مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا جاتا۔ ایک روز داعش کا ذرا اعلیٰ درجے کا بدمعاش نادیہ مراد صاحبہ کے قید خانے میں آیا۔ اس کے پاس ایک لونڈی پہلے سے موجود تھی لیکن ایک جیسے کھانے سے شاید اس کا جی بھر چکا تھا۔
اس نے نادیہ صاحبہ کے پاس آ کر کہا ”کھڑی ہوجاؤ“ ۔ جب دہشت زدہ نادیہ کھڑی نہ ہوئیں تو اس ن
Read more