رسالہ الاعتصام کا انکشاف: ابو نائل کے تین بھیانک جھوٹ

پاکستان بننے کے چند سال بعد ہی 1953 میں پنجاب اور خاص طور پر لاہور مذہبی فسادات کی زد میں آ گیا۔یہ فسادات احمدیوں کے خلاف برپا کئے گئے تھے اور مارچ کے آغاز میں لاہور میں مارشل لاء لگادیا گیا۔ تقسیم ہند کے فسادات کے بعد پاکستان میں ہونے والے یہ پہلے مذہبی فسادات تھے۔ پہلی مرتبہ بلوائیوں نے پولیس افسران کو اغوا اور شہید کیا۔اور پہلی مرتبہ پاکستان میں مارشل لاء لگا گو کہ یہ مارشل لاء محدود

Read more

خاتون وزیر اعظم ۔ کبھی جائز کبھی نا جائز

کچھ عرصہ سے مسلم لیگ ن کے حلقوں میں یہ بحث عروج پر ہے  کہ  اس جماعت  کی طرف سے  وزارت عظمی ٰ کا امیدوار کون ہو گا ؟ اس سلسلہ میں  سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی  صاحب کا یہ بیان   سامنےآیا تھا کہ   مسلم لیگ ن کے موجودہ پارلیمانی لیڈر  میاں  شہباز شریف صاحب ہی  وزارت عظمی ٰ کے امیدوار ہوں گے۔سب جانتے ہیں کہ وزارت عظمی ٰ کے لیے  اس سیاسی جماعت کی طرف سے  محترمہ مریم

Read more

مسلم لیگ ن کا وزیر اعظم ہوگا یا امیر المومنین

ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر یہ بحثیں عروج پر ہیں کہ اب اقتدار کا ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ اور اگلے پانچ سال کون سی سیاسی جماعت حکومت کرے گی۔ اکثر پنڈت یہی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ میاں نواز شریف صاحب کی جماعت اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔ اور میاں نواز شریف بار بار قوم کو ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کا حوالہ دے کر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اب ہمیں ماضی

Read more

فضل الرحمن صاحب، آپ بھی توہین مذہب کے الزام سے محفوظ نہیں ہیں

مجھے سائنسی کانفرنسوں میں شرکت کے لئے مختلف ممالک میں جانے کا موقع ملا ہے۔ آج سے تقریبا دس گیارہ برس سری لنکا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں بھی شرکت کا موقع ملا۔ میرے لئے یہ ایک منفرد تجربہ تھا۔ اس وقت سری لنکا میں تازہ تازہ خانہ جنگی ختم ہوئی تھی اور پاکستان نے اس جد و جہد میں سری لنکا کی مدد کی تھی ۔ دنیا کے اکثر ممالک میں تو سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی شک و

Read more

جب قوانین عدم مساوات کو فروغ دیتے ہوں: اس کا کیا حل ہے؟

جب کسی ملک میں عدم برداشت کا راج ہو تو اس تنگ نظری کو قوانین میں داخل کر کے جائز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو مان لینا چاہیے کہ بد قسمتی سے ہم نے پاکستان میں ایک تنگ نظر معاشرہ قائم ہونے دیا ہے۔ اصول تو یہ ہے کہ آئین اور قوانین میں انسانی حقوق کو تحفظ دیا جائے لیکن بد قسمتی سے کئی ممالک ایسے

Read more

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ : تنگ نظری کا ایک نیا طوفان آنے والا ہے؟

نومبر کے آغاز میں لاہور ہائی کورٹ کے جج شجاعت علی خان صاحب نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو اپنے 2018 میں جاری کردہ اپنے ایک فیصلہ کی تعمیل نہ ہونے کے باعث ہائی کورٹ میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ وہ کچھ وجوہ کی بناء پر ہائی کورٹ میں پیش تو نہیں ہو سکے لیکن مناسب ہو گا کہ اس موقع پر اس فیصلہ کے کچھ پہلوؤں کا تجزیہ پیش کیا جائے۔ گو کہ یہ فیصلہ ایک مسلک کے

Read more

کیا قائد اعظم اور مودودی صاحب کے نظریات ایک جیسے تھے؟

حال ہی میں محترم الطاف حسن قریشی صاحب کا ایک کالم ” اسلامی ریاست قائد اعظم کے عالی شان تصورات ” کے نام سے ہم سب پر اور 12 نومبر کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔ اس کالم کے آغاز میں قریشی صاحب لکھتے ہیں 1949” کی طرح آج بھی کچھ تجزیہ نگار یہ تاثر دیتے رہتے ہیں کہ قائدِاعظم برِصغیر میں ایک مسلم قومی ریاست قائم کرنے کے لئے کوشاں تھے، لیکن نوابزادہ لیاقت علی خان اور مولانا سید

Read more

برطانوی حکومت کے خلاف جہاد ناجائز اور پاکستان کی حکومت کے خلاف فرض

قیام پاکستان کو ستر برس سے زیادہ گزر گئے۔ پاکستان کی اکثر حکومتیں علماء کی طرف سے جاری کردہ انواع و اقسام کے فتووں کی زد میں رہی ہیں۔ یہ سلسلہ قائد اعظم سے شروع ہوا اور انہیں کافر اعظم کے نام سے نوازا گیا۔ لیاقت علی خان صاحب کی اہلیہ محترمہ پر جن الفاظ میں کیچڑ اچھالا گیا انہیں نہ ہی بیان کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ خواجہ ناظم الدین صاحب کو احمدی قرار دے کے کر ان

Read more

گیارہ اگست کی تقریر کا آسیب اور مظلوم اوریا مقبول جان صاحب

اگر قائد اعظم محمد علی جناح 11 اگست 1947 کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں اپنی تاریخی تقریر نہ کرتے تو کیا ہوتا؟ کم از کم مکرم اوریا مقبول جان صاحب کی صحت پر وہ منفی اثرات نہ مرتب ہوتے جو اب ہو رہے ہیں۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جن میں ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قائد اعظم ہرگز کوئی سیکولر شخص نہیں تھے اور نہ ہی

Read more

مفتی منیب الرحمن! آپ کے مدارس بھی انگریزوں کی مدد سے چلتے تھے

جب حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو مفتی منیب الرحمن صاحب نے تحریک لبیک کے قائدین اور حکومتی ٹیم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا ” میں یہاں پر پوری قوم سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے۔“ اس کے بعد وہ کالعدم تحریک لبیک کے دھرنے میں گئے اور وہاں پر انہوں نے جو خطاب کیا وہ واضح طور پر

Read more

مفتی صاحب صحافیوں کی دکان کی بجائے فتووں کی دکان پر توجہ فرمائیں

آخر کار حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ مفتی منیب الرحمن صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جوش ہوش پر اور جذبات معقولیت پر غالب آ گئے تھے لیکن اب فریقین نے بیدار مغزی دکھاتے ہوئے آپس میں معاہدہ کر لیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر کچھ عرصہ بعد جوش اور جذبات بالترتیب ہوش اور معقولیت کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو چنگیز

Read more

اس قاتل بچے کا باپ کون ہے؟

چند روز قبل 24 اکتوبر کو وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے پریس کانفرنس میں قوم کو اس خوش خبری سے نوازا کہ ان کے اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور خود تحریک لبیک کے قائد سعد رضوی صاحب نے یہ خواہش کی تھی کہ شیخ رشید صاحب حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی کریں۔ اور یہ اعلان کیا کہ حکومت منگل یا بدھ تک ان کے خلاف مقدمات واپس لے گی۔ انہوں نے کہا

Read more

غیر آئینی اقدامات پر جشن جلد ماتم میں تبدیل ہو جاتا ہے

ملک کی بھاری اکثریت کے نزدیک موجودہ حکومت ہر لحاظ سے ناکام رہی ہے۔ جن انتخابات کے ذریعہ یہ حکومت بر سر اقتدار آئی اس کے نتائج متنازعہ تھے۔ اقتصادی طور پر ایک کے بعد دوسری ناکامی اس کا مقدر بنی۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کہ مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ روپے کی تنزلی رکنے میں نہیں آ رہی۔ جب بھی ملک میں کوئی بحران کھڑا ہوا تحریک انصاف کی قیادت کوئی متاثر

Read more

سیٹھی صاحب کے لڈو اور نوے دن کا انقلاب

کسی بھی دائمی اور مایوس مریض کی زندگی کے المیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کبھی ایک ڈاکٹر کے دروازے پر جاتا ہے کہ میرا علاج کرو اور پھر وہاں سے مایوس ہو کر دوسرے کے کلینک میں جا کر فیس بھرتا ہے۔ کبھی حکیموں کے مطب کے چکر لگاتا ہے اور کبھی کسی ہومیو پیتھ کو دکھاتا ہے کہ میرا کچھ علاج کرو۔ کوئی جاننے والا یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ علاج چھوڑو اور

Read more

وزیر اعظم صاحب! ملک ایجنسیوں سے نہیں چلائے جاتے

آج کل پورے ملک کی توجہ ایک ہی مسئلہ پر مرکوز ہے۔ اور وہ یہ کہ آئندہ آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہو گا؟ بڑی رازداری سے خبریں دی جا رہی ہیں کہ سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔ بس اب چند دنوں میں یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ابھی کسی نام کی منظوری

Read more

فوج میں تقرریاں اور آئین پاکستان

جس طرح کسی زمانے میں بڑھی بوڑھیاں بچوں کو کوہ قاف کے قصے سنایا کرتی تھیں، اسی طرح آج کل ہم سول اور عسکری قیادت کے اختلافات یا ان کے ایک پیج پر ہونے کے قصے سن رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کون بنے گا کون نہیں بنے گا؟ کون کس کور کا چارج سنبھالے گا یا نہیں سنبھالے گا ؟ اس معاملے میں ملک کے سالار اعلیٰ اور وزیر اعظم کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے

Read more

نوائے وقت کا ایک کالم: تاریخ یا افسانہ؟

روزنامہ نوائے وقت کی 26 ستمبر 2021 کی اشاعت میں مکرم محمد اکرم چوہدری صاحب کا کالم ”سائرن“ شائع ہوا اور اس روز کے کالم کا عنوان ہے ”کچھ باتیں تاریخ کی“ ۔ یہ کالم دراصل کسی صاحب کا خط ہے جو کہ مکرم چوہدری محمد اکرم صاحب کو لکھا گیا ہے۔ لیکن کسی وجہ سے خط لکھنے والے کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ ان گمنام صاحب کو یہ خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس

Read more

میجر جنرل بابر افتخار صاحب کی تسلی

چند روز قبل پاک فوج کے ترجما ن میجر جنرل بابر افتخار صاحب کا یہ بیان سامنے آیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کو بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔ اس قسم کی یقین دہانیاں تو ہر حکومت کراتی ہے خواہ اس حکومت کے ارادے کچھ بھی ہوں۔  لیکن اس بیان کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ

Read more

کووڈ کے نئے رنگ: ڈیلٹا قسم کا وائرس

ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے۔ ایک نہیں کئی اقسام کے حفاظتی ٹیکے دستیاب ہیں اور کروڑوں افراد کو لگائے جا چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک کووڈ کی وبا کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ابھی بھی دنیا کے کئی ممالک اس وبا کی زد میں ہیں۔ اور اب تک دنیا بھر کے 221 ممالک میں میں بائیس کروڑ اناسی لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں اور چھیالیس لاکھ افراد اس بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہو

Read more

قادیانی افسروں سے پاکستان کو بچاؤ

آج کل ہمیں ایک کے بعد دوسری تشویشناک خبر سننے کو مل رہی ہے۔ صاحبان اقتدار شاید سوئے ہوئے ہیں کہ انہیں ابھی تک یہی علم نہیں ہوا کہ ملک میں کیا طوفان برپا کیا جا رہا ہے۔ اس ملک کے بے خبر عوام کے ساتھ کیا کیا دھوکہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ایسی ہی کچھ خبریں سننے کو ملیں کہ عقل چکرا گئی۔ مثال کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دن دیہاڑے ایک احمدی

Read more

اقبال پارک میں بچی پر حملہ اور پکچر آف ڈورین گرے

لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے اور 14 اگست کے پر مسرت موقع پر ہم نے ایک مرتبہ پھر اپنا اصلی چہرہ دنیا کو دکھا دیا۔ ایک لڑکی ٹک ٹاکر ویڈیو بنا رہی تھی اور چار سو غیور پاکستانی مردوں نے قومی حمیت سے مجبور ہو کر اس پر حملہ کر دیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو اس کے متعلق مواد واٹس اپ بھجوایا تو ان کا جواب موصول ہوا مجھے ایسا مواد نہ بھجوایا کرو مجھ سے

Read more

شیخ رشید صاحب کیا نئے طالبان واقعی مہذب ہو گئے ہیں؟

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان کے وزیر داخلہ کو یہ بیان جاری کرنے اور طالبان کو تہذیب کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ طالبان کا اپنا ترجمان موجود ہے۔ انہوں نے اپنے دفاع میں جو کچھ کہنا ہے خود کہہ سکتے ہیں۔ یہ بیان اسی فلسفہ کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس کے تحت امریکہ کی ایجنسیوں نے ”گڈ طالبان“ دریافت کیے تھے۔ اور جس فلسفے کے تحت امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج کو نکالنا شروع کیا تا کہ گڈ طالبان اپنے پاؤں پھیلا سکیں۔ خواہ اس کے نتیجے میں امریکہ کی اتحادی افغان حکومت تباہی تک پہنچ جائے۔

Read more

جب پنجاب کی مسیحی برادری پاکستان بنانے کے لئے آگے بڑھی

جب جون 1947 میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت مقامی حکومتوں کے سپرد اقتدار کر کے رخصت ہو جائے گی تو اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کیا جائے گا۔ جو مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان سے متصل ہوں گے وہ پاکستان میں شامل کئے جائیں گے اور ان باقی علاقے ہندوستان کا حصہ بنیں گے۔ اور یہ تقسیم کرتے ہوئے اکثریت کے علاوہ ‘دیگر عوامل

Read more

می لارڈ! یہ بچی چڑیل ہے

سترہویں صدی میں سپین کے ایک گاؤں یانکی میں ایک بارہ سال کی لڑکی اس وقت کی مذہبی عدالت انکویزن کورٹ میں پیش ہوئی۔ اس بچی کا نام اربیکا تھا۔ اس بارہ سال کی بچی نے اس عدالت میں یہ بیان دیا کہ ایک خاتون انہیں دوسری عورتوں کے ساتھ ایک خفیہ میٹنگ میں لے کر گئی۔ اور اس اجلاس میں ان سب عورتوں اور اس بچی کی ملاقات شیطان سے کرائی گئی۔ اس بچی کو اس شیطان کا حلیہ بھی بخوبی یاد تھا۔ اس نے بیان دیا کہ شیطان کے تین سینگ اور ایک دم بھی تھی۔

Read more

اوریا مقبول جان اور ملا عمر صاحب کا قد

مکرم اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ٹویٹ دیکھی۔ جس میں طالبان کے بانی ملا عمر صاحب کو عمر ثالث قرار دیا ہے یعنی پہلے عمر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوئم تھے اور دوسرے عمر پہلی صدی کے مجدد حضرت عمر بن عبد العزیز تھے اور اوریا صاحب کے نزدیک ان کے ایک اور مثیل ملا عمر صاحب بانی تحریک طالبان تھے۔ اور ملا عمر صاحب کی ایک تصویر بھی ٹویٹ کے ساتھ نشر کی گئی تھی۔ اور

Read more

لاہور بار ایسوسی ایشن اور قربانی کے بکرے

عید سے دو روز قبل جب ملک میں عید کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ بہت سے لوگ عید کی رخصت پر اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے۔ اکثر لوگ اپنے فرائض سے غافل ہو کر عید منانے اور تکے بنانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت بھی لاہور بار ایسوسی ایشن نے فرض شناسی کی ایک مثال قائم کر دی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری مکرم مدثر بٹ صاحب نے ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب کو ایک

Read more

میناروں کا کون سا مذہب ہوتا ہے؟

29 اور 30 دسمبر 2020 کی درمیانی رات کو رات کے اندھیرے میں پولیس نے شاہ مسکین میں احمدیوں کی عبادت گاہ کا مینارہ منہدم کر دیا۔ نہ یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی کہ اس مینارے سے کس قانون کی طبع نازک کو صدمہ پہنچ رہا ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف رجوع کرنے کی زحمت کی گئی۔

8 جنوری 2021 کو ضلع ننکانہ میں ہی کوٹ دیالداس کے مقام پر احمدیوں کی عبادت گاہ میں نہ صرف مینارے بلکہ محرابیں بھی دریافت ہو گئیں۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔ اس پر مقامی پولیس نے اس گاؤں کے احمدیوں کو فون کیا کہ آپ کی عبادت گاہ میں میناروں اور محرابوں کی موجودگی کی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس لئے پولیس سٹیشن میں حاضر ہو کر وضاحت پیش کریں۔

Read more

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور عمران خان صاحب کی خوشیاں

بیس سال کی فوجی مہم جوئی کے بعد امریکہ کی فوجیں افغانستان سے رخصت ہو رہی ہیں۔ بلکہ بعض مقامات سے تو اتنے پر اسرار طریقہ پر رخصت ہوئیں کہ اتحادیوں کو بھی علم نہ ہوسکا۔ کیا یہ صرف ایک غیر ملکی افواج کی رخصتی کا معاملہ ہے یا اس کے ساتھ کوئی اور عمل بھی چل رہا ہے۔ یہ صرف امریکی افواج کی رخصتی نہیں ہو رہی بلکہ اس کے ساتھ افغان طالبان ایک کے بعد دوسرے مقامات پر

Read more

کیا ضیا الحق صاحب کو فلسطینیوں کا خون بہانے کی وجہ سے ترقی ملی تھی؟

پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی 1977 کی تاریخ کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس روز پاکستان میں ایک بار پھر مارشل لا لگادیا گیا اور پھر اس نے ختم ہونے کا نام ہی نہ لیا۔ جب بھی 5 جولائی کی تاریخ قریب آتی ہے پاکستان میں بہت سی دلچسپ آرا کا اظہار شروع ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا بھٹو صاحب اور ان کے سیاسی حریف قومی اتحاد کے مذاکرات کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو رہے تھے کہ نہیں؟ مارشل لا کیسے لگایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اور ایسی بحثوں کا جاری رہنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنی تاریخ سے سبق حاصل کر سکیں۔

میری رائے میں یہ جائزہ لینے سے پہلے کہ جنرل ضیا الحق صاحب نے مارشل لا کیسے لگایا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ ہماری فوج کے سربراہ کیسے بنے؟ اور اس سے قبل انہوں نے ترقی کے مراحل کس طرح طے کیے؟ سینکڑوں سینئر افسران میں سے جب ایک شخص ترقی کے زینے طے کرتا ہوا فوج کا سربراہ بنتا ہے تو حکام کو اس میں کچھ نظر آتا ہے تو وہ اسے اس منصب پر فائز کرتے ہیں۔ اس کالم میں یہ جائزہ پیش کیا جائے گا کہ ضیا صاحب نے کیا کارنامے سرانجام دیے تھے؟

Read more

دوسری آئینی ترمیم اور ندیم پراچہ صاحب کا کالم

آئین پاکستان میں کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ 1974 میں کی جانے والی اس ترمیم کے ذریعہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس ترمیم کے بارے میں مختلف قانون دان، مصنفین اور محققین اپنی اپنی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں روزنامہ ڈان کی 20 جون کی اشاعت میں مکرم ندیم پراچہ صاحب کا ایک کالم Pandering To Extremists کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس اس کالم میں اس تحریر کے بارے میں چند گزارشات پیش کی جائیں گی۔ یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اس کالم میں اس ترمیم کے صحیح یا غلط ہونے کا تجزیہ نہیں کیا جائے گا بلکہ ان چند نکات کا جائزہ لیا جائے گا جو مکرم ندیم پراچہ صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔

Read more

دوسری آئینی ترمیم اور ندیم فاروق پراچہ صاحب کا کالم

آئین پاکستان میں کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ 1974 میں کی جانے والی اس ترمیم کے ذریعہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس ترمیم کے بارے میں مختلف قانون دان، مصنفین اور محققین اپنی اپنی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں روزنامہ ڈان کی 20 جون کی اشاعت میں مکرم ندیم پراچہ صاحب کا ایک کالم Pandering To

Read more

شعیب سڈل رپورٹ سے پاکستان کو کیا خطرہ لاحق ہے؟

کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے حکم پر اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قائم کردہ ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ عدالت عالیہ کو پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کے پہلے حصے میں سفارش کی گئی تھی کہ مختلف تدریسی جماعتوں کے کورس میں اسلامی تعلیمات پر مشتمل کورس صرف اسلامیات کی نصابی کتب میں شامل کیا جائے۔ اور دوسرے مضامین مثال کے طور پر اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کی کتب میں مذہبی مواد شامل نہ کیا جائے۔ جیسا

Read more

توہین مذہب کے قوانین: مکالمہ کی ضرورت

کچھ روز قبل مکرمی وجاہت مسعود صاحب کا ایک ویڈیو کالم ”کیا ریاست کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟“ سننے کا موقع ملا۔ اس کے آخر میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا کہ اگر کسی ریاست میں ایک مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دے دیا جائے تو اس ریاست میں دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں سے برابر کا سلوک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے عقائد سرکاری مذہب کے مطابق نہیں ہوں گے۔ اس کالم میں اس سے ایک

Read more

طاہر اشرفی صاحب کا فتویٰ اور کافروں کی نئی فہرست

پاکستان کے سیاسی منظر پر بوریت نام کی چیز کا وجود ممکن نہیں۔ اس کی سکرین پر ہر وقت کوئی نہ کوئی تماشہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر اس کا اہتمام اپوزیشن کی طرف سے نہ کیا جائے تو حکومتی اراکین باہمی تعاون سے کسی نہ کسی ڈرامے کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ چند روز قبل ایک ایسا ہی اہتمام کیا گیا۔ اس کی تفصیلات یہ ہیں کہ پنجاب اسمبلی کے رکن نذیر چوہان صاحب کو بصیغہ راز یہ خطرناک خبر

Read more

سر ظفراللہ خان نے فلسطین کے لئے پاکستان کی پالیسی کیسے طے کی؟

کل اسرائیل اور فلسطین کے قضیہ کے بارے میں یاسر پیرزادہ صاحب کا ایک معلوماتی کالم شائع ہوا۔ ان معلومات کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کس طرح امریکہ اور سوویت یونین دونوں نے اقوام متحدہ کو استعمال کر کے اسرائیل کو قائم کروایا تھا۔ 1897 سے صیہونی تنظیم کوشش کر رہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ یہودی فلسطین میں آباد ہوں۔ 1917 میں حکومت برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ

Read more

فرانس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے آزادی اظہار کے دو پیمانے

دسمبر 2020 میں فرانس کی کابینہ نے ایک تنظیم سی سی آئی ایف پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ تنظیم فرانس میں موجود اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھاتی تھی۔ اور فرانس کے وزیر داخلہ جیرالد دامانن نے بیان دیا تھا کہ یہ تنظیم فرانسیسی حکومت کے ان اقدامات کو جو کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں اسلامو فوبیا کا نام دے دیتی ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرانس میں آزادی اظہار کی مکمل آزادی ہے تو پھر یہ آزادی اس تنظیم کو بھی ملنی چاہیے کہ وہ فرانس کی حکومت کے اقدامات پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ لیکن فرانس کی حکومت اس پر اتنا کیوں تلملائی کہ اس تنظیم پر پابندی ہی لگا دی۔

اب کل کی خبر کا جائزہ لیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر فلسطین میں خون بہہ رہا ہے۔ مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے مقام سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں۔ حماص نے غزہ سے راکٹ فائر کیے اور اسرائیل کے طیاروں نے ان پر بمباری شروع کر دی۔ سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ سینکڑوں زخمی ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالد دامانن  نے حکم جاری کیا کہ فرانس میں ان واقعات کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ بھلا کیوں نہیں ہو گی؟

Read more

ہیرو کون؟ جسٹس فائز عیسیٰ کے والد یا چھپن انچ کے سینے

وزیر اعظم ٹھیک فرماتے ہیں کہ ملک میں صنعتی ترقی کا دور شروع ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں خواب آور گولیوں کی صنعت خوب ترقی کر رہی ہے۔ کیونکہ جب سے جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں ناکام ہوا اور پھر نظر ثانی کی اپیل میں بھی حکومت کو ناکامی ہوئی بہت سے لوگوں نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ ان لوگوں کی نیندیں تو حرام ہو چکی ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ ملک میں کسی اور کو بھی نیند نہ آئے۔ حکومت کو جتنا زور لگانا تھا سپریم کورٹ میں لگا لیتی۔ اب لکیر کو پیٹنے اور ناحق پوری قوم کی سمع خراشی کرنے کا کیا فائدہ؟

اب کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر ایک ٹیم سرگرم ہے۔ آپ کو اس موضوع سے کوئی دلچسپی ہو یا نہ ہو روزانہ ٹویٹر پر اور واٹس اپ پر اور سوشل میڈیا پر آپ کو کافی کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے کہ تمہیں کچھ ہوش ہے کہ اگر جسٹس فائز عیسیٰ صاحب پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اس وقت وہی منظر نظر آ رہا ہے جو کہ جوش ملیح آبادی نے پاکستان میں اپنی آمد پر ہونے والے رد عمل کا کھینچا تھا۔ جوش صاحب ’یادوں کی برات‘ میں اس بارے میں لکھتے ہیں

Read more

لاہور میں ایک چرچ کی فتح: سقوط ڈھاکہ کا قرض ادا ہو گیا

لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں مسلمان نرسوں نے ایک چرچ پر قبضہ کر لیا۔ اور اس عظیم فتح کے بعد اس میں بیٹھ کر نعتیں پڑھیں۔ ادارے کا نام پڑھ کر پہلے یہ خیال آتا ہے شاید کچھ ذہنی مریضوں نے یہ دھاوا بولا ہو گا۔ لیکن بار بار تفصیلی خبر پڑھنے سے تصدیق ہو گئی کہ یہ کارنامہ ذہنی مریضوں نے نہیں بلکہ ان نرسوں نے سرانجام دیا تھا جن کا کام ان مریضوں کی نگہداشت

Read more

اقوام متحدہ کے مطابق ہیومن اور یوتھ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں سندھ سب سے آگے

انسانی ترقی کو ماپنے کا ایک ذریعہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ہے۔ اس معیار میں صحت تعلیم اور آمدنی کے مواقع کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے صوبہ سندھ پاکستان میں سے سب سے آگے ہے۔ اور 2007 سے لے کر اب تک اس لحاظ سے صوبہ سندھ سب سے آگے اور پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ اور ان برسوں میں ان دونوں صوبوں میں بالترتیب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون زیادہ تر عرصہ حکومت میں رہے ہیں۔ اسی طرح فی کس جی ڈی پی [یعنی مجموعی داخلی پیداوار] کے لحاظ سے بھی صوبہ سندھ ہی سب سے آگے ہے۔ [اردو رپورٹ صفحہ 10 ]

تحریک انصاف نے اپنے آپ کو نئی نسل کی پارٹی کے روپ میں پیش کیا تھا۔ اسی رپورٹ میں نوجوانوں کو ملنے والے مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے یوتھ ڈویلپمنٹ انڈیکس متعارف کرایا گیا ہے ۔ اس معیار کے مطابق صوبہ سندھ سب سے بہتر حالت میں ہے۔

Read more

بھارت میں کووڈ کی قیامت: اب ہمیں گھبرانا چاہیے

گزشتہ سال ستمبر کے دوران بھارت میں کووڈ کی وبا عروج پر تھی۔ روزانہ ایک لاکھ سے کچھ کم لوگ کووڈ کی بیماری میں مبتلا ہو رہے تھے۔ پھر اس میں کمی آئی اور اس سال فروری تک بھارت میں پہلے کی نسبت کافی کم نئے مریض سامنے آ رہے تھے۔ مارچ میں بھارت کے وزیر صحت ہرش وردھن نے یہ بیان دیا کہ اب کووڈ کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ جب وزیر صحت کا یہ بیان سامنے آیا اس وقت روزانہ کووڈ میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد کچھ بڑھنا شروع ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود معزز وزیر صاحب ان اعداد و شمار کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔

اس کے بعد یہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہونی شروع ہوئی۔ اور گراف تیزی سے اوپر سے اوپر جاتا گیا۔ یہ سب کچھ اس تیزی سے ہوا کہ کسی کہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہ تباہ کاری اتنی شدید ہو گی۔

Read more

پولیس کا المیہ۔ مسجد وزیر خان سے یتیم خانہ چوک تک

سنہ 1953 میں اب کی طرح صوبہ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف فسادات ہوئے تھے۔ اور آخر کار 6 مارچ کو لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ 1953 میں حکومت نے خود ہی مالی مدد کر کے فساد کرنے والے عناصر کی پرورش کی۔ اور انہیں ڈھیل دے کر پروان چڑھایا۔ آخر یہ جن بوتل سے باہر نکل کر بے قابو ہو گیا اور جو فسادات ایک تھانے کی نفری سے ختم کیے جا سکتے تھے ان پر قابو پانے کے لئے لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا۔

1953 میں بھی مارشل لاء سے قبل پنجاب حکومت نے پہلے پنجاب پولیس کو استعمال اور پھر ان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ اس کالم میں 1953 کے فسادات کے بارے میں کچھ حقائق پیش کیے جائیں گے اور پڑھنے والے خود موجودہ حالات اور 1953 کے حالات کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

Read more

تحریک لبیک پر پابندی:حکومت کب تک دہشت گردوں سے معاہدے کرے گی؟

پندرہ اپریل کو حکومت پاکستان نے قوم کو ایک عجیب اور نئی خبر سنائی۔ وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا، جس میں تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ یہ تنظیم دہشت گردی کی مرتکب ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے حالیہ دھرنوں کے ذریعہ ملک میں انتشار پھیلایا ہے۔ اور ہماری وزارت داخلہ نے اس کا یہ ثبوت پیش کیا کہ انہوں نے عوام کو خوفزدہ کیا۔ قانون نافذ کرنے والوں اور عام لوگوں پر حملے کیے۔ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر راستوں کو روک کر بند کر دیا۔ گالیاں اور دھمکیاں دیں۔ حکومتی اور نجی املاک کو لوٹا اور برباد کیا۔ اور تو اور ایمبولنسوں کا راستہ بھی روکا۔ اور ملک میں خوف و ہراس کی فضاء پیدا کی۔

Read more

تحریک لبیک کا تازہ دھرنا اور جیو نیوز پر مگرمچھ کے آنسو

تحریک لبیک پاکستان کے امیر اور خادم حسین رضوی صاحب کے صاحبزادے سعد رضوی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 20 اپریل کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ کر رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہیں کیا۔ اور اس کے بعد تحریک لبیک کے کارکنان نے مختلف مقامات پر سڑکیں بند کر کے عوام کو دل کھول کر اذیت دی۔ کم از کم شروع کے چوبیس گھنٹے کے دوران کہیں پر بھی پولیس اس فساد پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ایک صحافی بتا رہے تھے کہ لاہور میں تو پولیس ہزیمت اٹھانے کے بعد سڑکوں سے ہی غائب ہو گئی۔

Read more

کیا امر جلیل صاحب کی تحریر نطشے کی تمثیل کی بازگشت ہے؟

امر جلیل صاحب کی ایک تحریر ”خدا گم گیا ہے“ آج کل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس تحریر پر طرح طرح کے تبصرے پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی تحریر یا نظریے پر دلائل کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ اس تحریر یا نظریہ کے حق میں ہوں گے اور کچھ لوگ اس کے خلاف ہوں گے۔ صرف مقدموں کی دھمکیاں دینے سے اور الزام تراشی سے کوئی علمی بحث نہیں ہو سکتی۔

Read more

روزنامہ امت، عورت مارچ اور اسی کوڑوں کی سزا

یہ اس عاجز کی کم علمی ہے کہ میں اب تک روزنامہ امت کے وجود سے بے خبر تھا۔ لیکن اس روزنامے کے مدیران اور مضمون نگاروں کو داد دینی چاہیے کہ اب اس کو بھولنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے ایک تحریر کے بل بوتے پر ہی اتنی توجہ حاصل کر لی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شریف النفس انسان کو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اس روزنامہ کی 5 اپریل کی اشاعت میں اس کے ایک وقائع نگار خصوصی کی مہیا کردہ خبر شائع ہوئی۔ اس کی سرخی کا آغاز یہ تھا ”چودہ ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے“ اور اس کے بعد اس تحریر کے بے لگام گھوڑے کا رخ ان خواتین کی طرف ہو گیا جنہوں نے عورت مارچ میں شرکت کی ہے۔

Read more

بھٹو کا قتل قادیانیوں اور امریکہ کی مشترکہ سازش تھی

اگر پوچھو کہ جب پاکستان بن رہا تھا تو کون اس کی مخالفت کر رہا تھا؟ تو جواب ملے گا کہ قادیانی کر رہے تھے (علماء بالکل مخالفت نہیں کر رہے تھے)۔ تقسیم کے وقت پنجاب کے بعض اضلاع پاکستان کے ہاتھ سے کیوں نکلے؟ قادیانیوں کی غداری کی وجہ سے نکلے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بنا؟ قادیانیوں کی وجہ سے نہیں بنا۔ لیاقت علی خان صاحب کو کس نے شہید کیا ؟ یہ قادیانیوں کی کارستانی تھی۔

Read more

انگریزوں نے قلعہ لاہور سے جو خزانہ لوٹا۔ وہ جمع کس طرح ہوا تھا؟

چند روز قبل مکرمی اکمل سومرو صاحب کا ایک معلوماتی کالم ”انگریزوں نے قلعہ لاہور سے کتنی دولت لوٹی؟“ ہم سب پر شائع ہوا۔ اس کالم میں اس دور کے حالات بیان کیے گئے ہیں جب 1848 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ کر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کم عمر بیٹے مہاراجہ دلیپ سنگھ کی حکومت ختم کر دی اور پنجاب کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ اور اس قبضہ کے نتیجہ میں قلعہ لاہور میں

Read more

قرارداد لاہور: وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحرتو نہیں

آج ہم یوم پاکستان منا رہے ہیں۔ 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور پیش کی گئی اور ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی منزل کا تعین کیا۔ سب جانتے تھے کہ ہندوستان کی آزادی کے دن قریب آ رہے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ فیصلے کرنا تھے۔ کانگرس ان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور مسلم لیگ کی مرکزی کونسل بھی سر جوڑ کر بیٹھی تھی۔

مسلم لیگ کے اجلاس سے کچھ روز قبل رام گڑھ میں کانگرس کا سالانہ اجلاس ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو کانگرس کا صدر منتخب کیا گیا۔ مولانا آزاد نے بہت قابلیت سے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اور یہ تسلی دی کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں کوئی خوف نہیں ہو گا کیونکہ ہندوستان میں نو کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ ان کی ایک اپنی تاریخ ہے وہ کوئی چھوٹی موٹی اقلیت تو نہیں کہ کوئی انہیں دبا لے۔ اتنے بڑے گروہ کو کیا خوف ہو سکتا ہے؟

Read more

بھارت کی سپریم کورٹ میں قرآن مجید کی 26 آیات پر پابندی کی درخواست

ہندوستان کے صوبہ اتر پردیش کے ایک مسلمان وسیم رضوی نے بھارت کی سپریم کورٹ میں اپنی طرف سے مفاد عامہ کے لئے یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ قرآن مجید کی چھبیس آیات کو قرآن مجید سے خارج کر دیا جائے۔ دعوے میں یہ بنیاد پیش کی گئی ہے کہ درخوات گزار کے نزدیک ان آیات میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے اور ان کی وجہ سے دہشت گردی پھیل رہی ہے۔ فوری طور پر ممبئی کی رضا اکیڈمی نے سپریم کورٹ میں درخواست دی کہ اس درخواست کو فوری طور پر رد کیا جائے اور درخواست گزار کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی پاداش میں کارروائی جائے۔

Read more

سینیٹ کو غیر اسلامی قرار دینے کی تجویز کس کی تھی؟

جارج آرویل کے مشہور ناول 1984 میں ایک ایسے زمانے کی [یا شاید ہمارے زمانے کی] منظر کشی کی گئی ہے جس میں حکومت نے مکمل طور پر عوام کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ اس ناول کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ ونسٹن نامی ایک کمزور شخص اپنے فلیٹ میں داخل ہوتا ہے تو ہر گھر کی طرح اس کے فلیٹ میں بھی ایک بیضوی سکرین لگی ہے جسے ٹیلی سکرین کہا جاتا ہے۔ یہ سکرین حکومت نے لگائی ہے۔ آپ اس کی آواز کو مدھم کر سکتے ہیں لیکن بند نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک سرکاری آلہ ہے۔

Read more

چھ مارچ 1953: پہلے مارشل لاء سے جوتوں اور تھپڑوں کی سیاست تک

چھ مارچ کو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ اور اسمبلی کی عمارت کے قریب ہی تحریک انصاف کے کارکنان وزیر اعظم پر اپنا اظہار اعتماد کر رہے تھے۔ اسی عمل کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان نے مسلم لیگ نون کی ترجمان محترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ پر حملہ کر دیا۔ احسن اقبال صاحب پر جوتا پھینکا گیا۔ مصدق صاحب کو تھپڑ مارا گیا۔ شاہد خاقان عباسی صاحب پر بھی حملہ ہوا۔ جب

Read more

پیریڈز پارٹی میں جانے سے پہلے یہ کالم پڑھ لیں

ایک دو روز قبل مکرمہ محترمہ مقدس رفیق صاحبہ کا ایک کالم بعنوان ”برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی“ کے نام سے شائع ہوا۔ اپنی کم علمی کے باوجود میں نے اسے ایک بار پڑھا دوسری بار پڑھا بلکہ بار بار پڑھا۔ میں یہ سمجھ نہیں سکا کہ وہ کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن چند ماہ میں ایسے کئی کالم پڑھنے کو ملے کہ یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ واضح الفاظ میں چند گزارشات پیش کی جائیں۔

Read more

سلطان ٹیپو کی افغانستان اور نپولین سے امیدیں کیوں پوری نہ ہوئیں؟

اٹھارہویں صدی کے اختتام پر ہندوستان میں انگریزوں کا تسلط تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اس پیش رفت کی راہ میں حیدر علی اور سلطان ٹیپو کی ذات ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ 4 مئی 1799 کو سلطان ٹیپو کی شہادت کے ساتھ میسور میں ہونے والی مزاحمت کا خاتمہ ہو گیا۔ ایسے تاریخی واقعات کا بار بار تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کون سے عوامل ان نتائج پر اثر انداز ہوئے۔ انگریزوں سے مقابلہ کے

Read more

شہنشاہ جہانگیر کی زنجیر عدل سے جسٹس فائز عیسیٰ کے اختلافی نوٹ تک

ابن انشاء نے ایک کتاب ”اردو کی آخری کتاب“ تحریر کر کے مفت ٹیکسٹ بک بورڈ والوں کو ارسال کی۔ ان کا جواب یہ تھا کہ یہ کتاب طلباء کو باقی سب نصابی کتب سے بے نیاز کرنے کی کوشش ہے۔ خدشہ ہے کہ اسے پڑھ کر طلباء اساتذہ اور اساتذہ طلباء بن جائیں گے۔ اس لئے ٹیکسٹ بک بورڈ اس کتاب کو مسرت کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ کے ایک باب کا عنوان ہے ”جہانگیر

Read more

چارلس ڈارون:ایک کھلنڈرے لڑکے سے عظیم سائنسدان تک

”تمہیں کسی چیز کی پروا نہیں۔ سوائے شکار کرنے، کتوں اور چوہوں کا پیچھا کرنے کے۔ تم اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے رسوائی کا باعث ہی بنو گے۔“

بہت سے باپ اپنے لاابالی بیٹوں کو اس قسم کے طعنوں سے نوازتے ہیں۔ لیکن یہ جملے مشہور سائنسدان چارلس ڈارون کے والد نے انہیں کہے تھے۔ ان کے والد رابرٹ ڈارون کامیاب ڈاکٹر اور کافی جائیداد کے مالک تھے۔ اور ان کے دادا ایرسمس ڈارون ایک دانشور اور مصنف تھے اور علمی حلقوں میں ان کا نام معروف تھا۔

Read more

سینٹ میں عربی کی تعلیم کا بل: برائے نام مسلمان توجہ کریں

یکم فروری 2021 کو سینیٹر جاوید عباسی صاحب نے پاکستان کی سینیٹ میں اسلام آباد کی حدود میں عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا بل پیش کیا۔ بل تو منظور ہو گیا لیکن رضا ربانی صاحب نے ہمت کر کے کچھ نکات اٹھائے۔ اور اس کے نتیجہ میں جو بحث ہوئی، میرے نزدیک اس کے نتیجے میں اتنے سوالات کے جوابات نہیں ملے جتنے نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ہمیں رضا ربانی صاحب کا شکر گزار

Read more

ایک عورت کے بیک وقت کئی خاوند – یہ کہاں ہوتا ہے؟

ہندو مت کی مقدس کتاب "مہابھارت” میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک بادشاہ دروپد نے اپنی بیٹی دروپدری کی شادی کے لئے ایک نشانہ بازی کا مقابلہ کرایا۔ اعلان کیا گیا تھا کہ جو یہ مقابلہ جیتے گا شہزادی دروپدری اس کی دلہن بنے گی۔ اس مقابلے میں پانچ پانڈو بھائی بھی شامل ہوئے۔ ان میں سے ایک بھائی ارجن نے یہ مقابلہ جیت لیا۔ پانچوں بھائی شہزادی دروپدری کو لے کر گھر روانہ ہوئے اور باہر سے اپنی

Read more

غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ اور کچھ ذکر محمود غزنوی میزائلوی صاحب کے احسانوں کا

آج پاکستان نے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ زمین سے زمین تک مار کرنے والے اس میزائل سے روایتی اور جوہری دونوں ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ شاید بعض پاکستانیوں کو اس بات پر حیرت ہو کہ اس میزائل کا نام افغانستان کے ایک بادشاہ کے نام پر کیوں رکھا گیا ہے؟ کسی پاکستانی کے نام پر کیوں نہیں رکھا گیا؟ حالانکہ حکومت کئی دہائیوں سے سکول کے بچوں کو غزنوی اور ابدالی جیسے بے نفس فاتحین کے

Read more

پاکستانی سیاسی جماعتیں اور فارن فنڈنگ کا معاملہ

پڑھنے والوں کو سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ Suo Moto Case No۔ 7 / 2017 یاد ہو گا جسے محترم جسٹس فائز عیسی صاحب اور محترم جسٹس مشیر عالم صاحب نے تحریر کیا تھا۔ اس فیصلے کے صفحہ 23 اور 24 پر یہ لکھا ہوا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن ہی ایسے شخص نے کرائی تھی جو متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر تھا۔ اور اس کے پاس صرف پاکستان کا نائی کوپ تھا۔ اس فیصلے یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیاسی جماعت بیرون ملک سے مالی مدد لے رہی ہے اور قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔

Read more

بچوں پرجنسی تشدد کے بڑھتے واقعات: حل کیا ہے؟

دو ہفتے قبل پیر جو گوٹھ سے نو سال ایک بچی گھر واپس نہیں پہنچی اور چند روز بعد اس کی لاش کیلوں کے ایک باغ سے ملی۔ اسے زنا بالجبر کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ بچی اپنے گھر سے ایک کلومیٹر دورایک گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ چونکہ بچی جس گھر میں کام کرتی تھی ، اکثر اس گھر میں ٹھہر جاتی تھی، اس لئے والدین نے شروع میں

Read more

صدر ٹرمپ اور عرب ممالک کی دنیا سے بے رغبتی

ایک سال قبل 9 جنوری 2020 کو ”ہم سب“ پر خاکسار کا ایک کالم ”ایران امریکہ تصادم : امریکہ کے ہاتھ میں فرقہ واریت کا پتہ“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں خاکسار نے عرض کی تھی کہ صدر ٹرمپ کی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ کسی طرح سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کو ایران سے اتنا ڈرایا کیا جائے کہ وہ اس خوف کی نفسیات سے مجبور ہو کر امریکہ اور اسرائیل سے قریب سے

Read more

حسن نثار صاحب سے نظام خلافت کے بارے میں چند سوالات

حسن نثار صاحب نے ایک انقلابی تجویز دی ہے اور اس پر عمل کرنے سے پہلے عملی طور پر تمام مسلمان ممالک کے دستور یا تو ختم کرنے پڑیں گے یا ان میں بنیادی قسم کی تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کم از کم ان ابتدائی سوالات کے جوابات عنایت فرما دیں تاکہ مزید سوالات ان کی خدمت میں پیش کیے جا سکیں۔ مجھے امید ہے کہ ”ہم سب“ کے مدیران ان کے جوابات کو ضرور شائع کریں گے۔

Read more

یہ لڑکی کنواری ہے، سو ڈالر دو سو ڈالر

وہ بیان کرتی ہیں کہ لڑکیوں کی یہ منڈی رات کو لگا کرتی تھی۔ گرفتار لڑکیوں کے کانوں میں آوازیں آنا شروع ہو جاتی تھیں کہ داعش کے نام نہاد مجاہد اس خرید میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام لکھوا رہے ہیں۔ پھر دروازہ کھلتا تھا اور ان میں سے ایک جنگجو داخل ہوتا تھا۔

سب لڑکیاں سہم کر سمٹ جاتی تھیں یا بے سود چیخیں مارنا شروع کر دیتی تھیں۔ پھر اس بد معاش کا ہاتھ کسی خوب صورت لڑکی کی طرف بڑھتا تھا۔ اس کا چہرہ اس کے بال اور اس کے دانت دیکھ کر کہتا۔ ”کیا یہ کنواری ہے؟“ ۔ اگر مال پسند آتا تو اس لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا چلا جاتا۔

جب ان لڑکیوں کی چیخیں اور زیادہ بلند ہوتیں تو گارڈ چلا کر انہیں خاموش رہنے کا حکم صادر کرتا۔ اگر وہ پھر بھی نہ باز آتیں تو مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا جاتا۔ ایک روز داعش کا ذرا اعلیٰ درجے کا بدمعاش نادیہ مراد صاحبہ کے قید خانے میں آیا۔ اس کے پاس ایک لونڈی پہلے سے موجود تھی لیکن ایک جیسے کھانے سے شاید اس کا جی بھر چکا تھا۔

اس نے نادیہ صاحبہ کے پاس آ کر کہا ”کھڑی ہوجاؤ“ ۔ جب دہشت زدہ نادیہ کھڑی نہ ہوئیں تو اس ن

Read more

کووڈ کی ویکسین: آخر کوئی تو بخشیش دے گا

اس وقت پوری دنیا میں کووڈ کی وبا کی دوسری لہر کی تباہی پھیل رہی ہے۔ 2020 کا سال اس بیماری کا سال تھا اور یہ سال اس بیماری کی ویکسین کا سال ہے۔ ایک سال سے مختلف ادارے اور کمپنیاں مختلف طریقوں سے کووڈ سے بچاؤ کے لئے ویکسین تیار کر رہے تھے۔ مختلف مراحل سے گزر کر یہ حفاظتی ٹیکے اب لوگوں کو لگائے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے مختلف طریقے استعمال کر کے اس بیماری کی ویکسین

Read more

نیا مندر بننے نہیں دیں گے، پرانے مندر کو آگ لگا دیں گے

کرک کا مندر جلا دیا گیا۔ ایک بار پھر مذہبی جذبات بھڑک اٹھے تھے۔ کچھ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ان جیسے نیک لوگوں کی موجودگی میں مندر کی تعمیر نو ہو۔ آخر یہ ملک اس لئے تو نہیں بنایا گیا تھا کہ اس میں جس کا جی چاہے جس طرح چاہے عبادت کرے۔ 11 اگست کو قائد اعظم نے یہ کہا تھا کہ آپ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں خواہ وہ مسجدیں ہوں یا گرجے ہوں یا

Read more

کیا پارلیمنٹ کے اختیارات کی کوئی حدود بھی ہیں؟

27 فروری 1933 کو جرمنی کی پارلیمنٹ رائشٹاگ کی عمارت کو نا معلوم افراد نے آگ لگا دی اور یہ عمارت جل کر تباہ ہو گئی۔ ایک ماہ قبل ہی ہٹلر نے جرمنی کے چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا اور چند روز کے بعد پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے والے تھے۔ تحقیقات کے تکلف کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ حکومت نے فوری طور پر شور مچا دیا جرمنی خطرے میں ہے۔ یہ آگ یقینی طور پر جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی نے لگائی ہے تا کہ خانہ جنگی کا آغاز کیا جا سکے۔

چند ہی گھنٹوں میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان کی گرفتاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ اگلے روز ہی ہٹلر نے جرمنی کے صدر کو اس بات کا مشورہ دیا کہ جرمنی کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ وہ صدر کی حیثیت سے ایک نیا قانون نافذ کیا جائے۔ یہ قانون رائشٹاگ فائر ڈکری کہلاتا ہے۔

Read more

کیا پارلیمنٹ کے اختیارات کی کوئی حدود بھی ہیں؟

27 فروری 1933 کو جرمنی کی پارلیمنٹ Reichstag کی عمارت کو نا معلوم افراد نے آگ لگا دی اور یہ عمارت جل کر تباہ ہو گئی۔ ایک ماہ قبل ہی ہٹلر نے جرمنی کے چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا اور چند روز کے بعد پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے والے تھے۔ تحقیقات کے تکلف کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ حکومت نے فوری طور پر شور مچا دیا جرمنی خطرے میں ہے۔ یہ آگ یقینی طور پر جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی نے

Read more

بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا

انیس دسمبر کو رات نو بجے دنیا نیوز کی ہیڈلائنز شروع ہوئیں تو ایک خاتون کی گمبھیر آواز سنائی دے رہی تھی۔ ان خاتون نے فاتحانہ انداز میں پہلی ہیڈلائن یہ پڑھی:

”سیکولرازم کے دعویدار بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب۔ مودی کے دیس میں انسانی آزادی کی صورت حال بد ترین۔ انڈیکس میں انڈیا کی سترہ درجے تنزلی۔ 162 ممالک کی فہرست میں 111 ویں نمبر آ گیا۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری۔“

Read more

محمود خان اچکزئی صاحب: گپ شپ اور تاریخی حقائق میں بہت فرق ہوتا ہے

لاہور میں پی ڈی ایم اے کا جلسہ ہوا۔ اس جلسہ پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن ذاتی طور پر مجھے سب سے زیادہ حیرت محمود خان اچکزئی صاحب کی تقریر پر ہوئی ہے۔ یہ جلسہ ایک سیاسی جلسہ تھا اور اس کا مقصد پی ڈی ایم کی تحریک کو تیز کرنا تھا۔ اور توقع یہی تھی کہ اس موقع پر جو تقاریر کی جائیں گی ان کا تعلق پی ڈی ایم کی تحریک سے ہوگا۔ لیکن محمود خان اچکزئی صاحب نے اس جلسہ میں برصغیر کی تاریخ پر لیکچر دینے کی کوشش فرمائی۔ انہوں نے فرمایا۔

”برا نہ مانیں واحد وطن جس نے ان سامراجیوں [یعنی انگریزوں ] کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا وہ دریائے آمو سے اباسین تک افغان پشتون وطن تھا لیکن ہمیں گلہ ہے ہندوستان کے باقی رہنے والوں کے ساتھ ہندو اور سکھوں کے ساتھ تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا انگریزوں کا ۔ اور سب نے مل کر افغان وطن کو قبضہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا۔“

Read more

انسانی حقوق کا چارٹر 1948: پاکستان کا کردار کیا تھا؟

دس دسمبر کا دن دنیا کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس روز اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے چارٹر کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلامیہ صدر روزویلٹ کی اہلیہ الینوار روزویلٹ کی صدارت میں ایک کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ 10 دسمبر 1948 کو جنرل اسمبلی نے اس کو کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔ 10 دسمبر کو اس بارے میں مکرمہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کا ایک معلوماتی کالم (ہم سب پر) شائع ہوا۔

Read more

مذہب سے فلسفے کی غلامی تک

اس دور میں ایک طبقہ مذہب اور تعصب کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مذہب ریاست پر حاوی ہوجائے تو اس کے خوفناک نتائج نکلتے ہیں۔ اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ضمن میں بہت سے مضبوط دلائل بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ ماضی قریب کی تاریخ میں نظر دوڑائیں تو طالبان کی ریاست کی بنیاد مذہبی نظریات پر تھی۔ کیا نتیجہ نکلا؟ عورتوں کی تعلیم تو ایک

Read more

لال ٹوپی والے فرشتے اور شیطانی ویکسین

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کووڈ کی نئی لہر سر اٹھا رہی ہے۔ اب تک پندرہ لاکھ کے قریب لوگ اس بیماری کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اور ان تباہ کاریوں کے علاوہ پوری دنیا میں اس کی وجہ سے جو اقتصادی نقصان ہوا ہے اس کی وجہ سے غریب پہلے سے بھی غریب ہو رہا ہے۔ ان حالات میں ایک روشنی کی کرن نظر آنی شروع ہوئی اور دنیا کی مختلف کمپنیوں اور تحقیقاتی ٹیموں کی طرف سے یہ اعلان سامنے آنے شروع ہوئے کہ انہوں نے اس بیماری سے بچاؤ کے لئے ویکسین تیار کر لی ہے۔

ایک ویکسین بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے تیار کی اور اس وقت پاکستان سمیت 7 ممالک میں اس کا آزمائشی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور چین میں خاص ہوائی جہاز تیار کیے جا رہے ہیں جو کم درجہ حرارت پر یہ ویکسین دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچا سکیں۔

Read more

سعودی موساد اتحاد ہو گیا؟ اب پیر نورالحق قادری صاحب کس کو الزام دیں گے؟

پرانے زمانے کی فلموں میں اکثر یہ منظر دیکھنے کو ملتا تھا کہ ایک خوبرو ہیرو چھپ کر اپنی منگیتر کو ملنے آ رہا ہے۔ خواہ منگیتر کا دل بلیوں اچھل رہا ہو وہ شرما کر یہی کہتی رہتی تھی کہ ہائے اللہ! اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔ قیامت آ جائے گی۔ اور اگر بعد میں کوئی سہیلی یہ پوچھے کہ کون آیا تھا؟ تو یہ منگیتر نظریں جھکا کر یہی کہتی تھی ”چل شریر۔ میں تجھ سے نہیں بولتی۔“

کچھ ایسا ہی منظر آج کے دن عالمی سیاست میں نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو امریکہ کے قریب الفراغت وزیر خارجہ پومپیو صاحب نے سعودی عرب اور اسرائیل سمیت سات ممالک کا دورہ کیا۔ شاید یہ دیکھنے آئے تھے کہ ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات کے لئے کون سا سیٹ مناسب رہے گا؟ اس کے بعد اچانک اسرائیلی میڈیا سے یہ خبر سنی کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے سعودی عرب کی سرزمین پر پہنچ کر سعودی ولی عہد سے کامیاب مذاکرات بھی کر لیے۔

Read more

دوسری شادی کا جرم: پیر صاحب یورپ کی کچھ کرامات

اگر آپ کسی پبلک مقام پر ہوں اور کوئی صاحب کسی اور صاحب کی طرف اشارا کر کے کہہ دیں ”اس کی دو بیویاں ہیں“ تو سب اس کی طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے انسانوں کی مجمع میں کوئی ڈائنو سار گھس آیا ہے۔ اگر کسی محلہ یا سوسائٹی میں کوئی صاحب عقد ثانی فرما لیں تو ان کی شخصیت اور ان کی شادی کئی مہینوں افواہوں اور تبصروں کا موضوع بنی رہے گی۔ جہاں تک خواتین کے رد

Read more

صرف مزار قائد نہیں، قائد کے نظریات بھی قابل احترام ہیں

18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی رات بھی ایک عجیب رات تھی۔ پہلے یہ شور اٹھا کہ مسلم ن کے کارکنوں نے کیپٹن صفدر صاحب کی قیادت میں مزار قائد پر نعرہ بازی کی ہے اور اس سے مزار کا تقدس مجروح ہوا ہے۔ اور اس مزار پر یہ سیاسی نعرے بازی خلاف قانون بھی ہے۔ پھر یہ خبر ملی کہ کیپٹن صفدر صاحب کو مزار قائد کا تقدس مجروح کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور ان کی اہلیہ مریم نواز صاحبہ نے یہ الزام لگایا کہ ان کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ ابھی کچھ روز مزار قائد پر کیپٹن صفدر کی نعرہ بازی اور ان کی گرفتاری پر بحث چلے گی۔ لیکن ابھی یہ بحث شروع ہی ہوئی تھی کہ سندھ کے سابق گورنر زبیر صاحب کا پیغام منظر عام پر آ گیا ہے کہ کیپٹن صفدر صاحب کی گرفتاری سے قبل رینجرز نے اس صوبے کے محافظ آئی جی پولیس کو بھی اغوا کر لیا تھا تاکہ ان پر دباؤ ڈال کر مریم نواز صاحبہ اور کیپٹن صفدر صاحب کے خلاف مقدمہ درج کرایا جا سکے۔

Read more

پاکستان امریکی دوستی کے کیسینو میں کیسے داخل ہوا؟

میں ایک مرتبہ ملیشیا گیا تھا۔ لٹانے کے لئے پیسے تو نہیں تھے لیکن یہ شوق چرایا کہ یہاں ایشیا کے ایک بہت بڑا کیسینو ہے اسے دیکھنا توچاہیے۔ کوالا لامپور سے بس میں بیٹھ کر جینٹنگ ہائی لینڈ روانہ ہوئے۔ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی علاقہ تھا۔ بس تیزی سے سفر کرتی ہوئی کیسینو کے اندر داخل ہوئی اور ہمیں عمارت کے اندر اتار دیا۔ چائے پی کر خیال آیا کہ باہر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ایک راستے پر چل

Read more

محترم وزیر داخلہ! آپ میاں افتخار حسین سے کچھ سیکھ بھی سکتے تھے

آج کل وزیر داخلہ اعجاز شاہ صاحب کی ایک تقریر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس تقریر میں کچھ اپوزیشن لیڈروں کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی وزراء اپوزیشن لیڈروں کے بیانات پر تنقید کرتے ہیں لیکن یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ پاکستان کے لئے اس تقریر کے مضمرات کیا ہوں گے۔ اس تقریر میں انہوں نے فرمایا کہ جو فوج کے خلاف بات کرتا ہے وہ بارڈر کراس کر جائے۔ وہ

Read more

فرانس میں ہونے والے قتل؛ سرسید کی حکمت عملی پر غور کریں

فرانس کے شہر نیس میں تیونس کے ایک مسلمان نے نوٹرے ڈیم کے گرجے میں داخل ہو کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور تین افراد کو قتل کر دیا۔ قتل ہونے والے اپنی عبادت کی رسومات میں مصروف تھے۔ چنانچہ اس حملے کے بعد خواہ فرانس کے صدر ہوں یا دوسرے لیڈر ان کی طرف سے بیانات سامنے آ رہے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہماری تہذیب اور ہماری آزادی پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور ہم ہر صورت میں اپنی اقدار کا دفاع کریں گے۔ اور یہ آوازیں اٹھنی شروع ہوئیں کہ یہ مسلمان دوسرے ممالک سے فرانس آ کر یہاں پناہ لیتے ہیں اور ہماری مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر ہماری بنیادی قدروں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرز عمل کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس کی مسلمان تنظیموں نے بھی نیس میں ہونے والے حملے کی مذمت کی۔

Read more

ٹروتھ کمیشن: لیکن ٹروتھ کو تسلیم کون کرے گا؟

ایک شخص مجلس میں بیان کر رہا تھا کہ میں نے اور میرے ایک قریبی دوست نے بیس سال قبل یہ تہیہ کیا کہ ایک دوسرے کے متعلق جو کچھ سوچتے ہیں وہ سچ سچ کہہ دیں گے اور ایک دوسرے سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ایک سننے والے نے کہا کہ "اس کے بعد کیا ہوا؟”۔ ان صاحب نے جواب دیا کہ ” بیس سال سے ہماری بول چال بند ہے”۔ کچھ عرصہ سے ایک اور مطالبہ سننے کو

Read more

گورنر کے اغوا کا منصوبہ یا امریکا میں خانہ جنگی کی تیاری

امریکا کی ریاست مشی گن کی خاتون گورنر ویٹمر کو اغوا کرنے کا منصوبہ پکڑا گیا۔ یہ منصوبہ ایک سفید فام انتہا پسند گروہ نے تیار کیا تھا۔ یہ گروہ سفید فام لوگوں کی نسلی برتری پر یقین کامل رکھتا ہے اور جو کوئی ان کے نظریات سے اختلاف کرے، اسے امریکا کا غدار سمجھتا ہے۔ ان کا منصوبہ صرف یہ نہیں تھا کہ گورنر ویٹمر کو اغوا کیا جائے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ گورنر کو اغوا کر کے ان پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے۔ یعنی وہ بیک وقت مدعی وکیل اور منصف کا کردار ادا کریں گے۔

دوسرے الفاظ میں غدار سازی کی صنعت، صرف پاکستان میں فروغ نہیں پا رہی۔ امریکا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں بہت سے بے کار احباب، گھر بیٹھ کر دوسروں کو غدار اور وطن دشمن قرار دے کر، اپنے لئے ذریعہ روزگار پیدا کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے بارے میں تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آتی رہیں گی، لیکن ظاہر ہے کہ یہ سوال تو اٹھے گا کہ خاتون ہونے کے علاوہ گورنر ویٹمر نے کیا جرم کیا تھا، جو سفید فام انتہا پسندوں نے انہیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

Read more

ایتھنز کے سقراط سے پاکستان کے کافروں منافقوں اور غداروں تک

چند ہفتے قبل ”ہم سب“ کے کالموں میں پڑھا کہ ملک کے کئی بڑے شہروں میں بڑے بڑے جلوس سڑکوں پر ”شیعہ کافر“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پھر یہ کالم اور ہیڈلائنز شائع ہونی شروع ہوئیں کہ میاں نواز شریف صاحب کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اور آج ”ہم سب“ پر محترمہ گلالئی اسماعیل صاحبہ کا کالم شائع ہوا کہ ان کے ضعیف والدین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

اور ساتھ یہ خبر بھی نظر آ رہی تھی کہ پشاور میں ایک احمدی پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک صاحب کو مذہبی منافرت کی بناء پر قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھ کر ٹی وی کے سامنے یہ خبر چل رہی تھی کہ ایک وزیر علی زیدی صاحب نے بیان دیا ہے کہ سب دیکھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کتنی منافق ہے۔ اس سے قبل بھی بہت سے لسانی اور نظریاتی گروہوں کو غدار یا غیر محب وطن قرار دیا جاتا رہا ہے۔

Read more

ٹیپو سلطان کے سفیر پیرس میں

سلطان ٹیپو شہید کی شخصیت اور جد و جہد ایسی نہیں جسے تاریخ فراموش کر سکے۔ سلطان ٹیپو 1782 کے آخر میں تخت پر بیٹھے اور 1799 کو سرنگا پٹم کا دفاع کرتے ہوئے آپ کی شہادت ہو گئی۔ ہندوستان میں یہ دور ہر لحاظ سے پستی کا دور تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط بڑھ رہا تھا اور ہندوستان کے باسی ایک دوسرے سے دست و گریبان تھے۔  ندوستان کی کوئی بھی ریاست جدید اسلحہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی

Read more

فضل الرحمن صاحب کس کی زبان بول رہے ہیں؟

کچھ عرصے سے مولانا فضل الرحمن صاحب کی تقاریر ایک خاص انداز اختیار کر گئی ہیں۔ وہ جب تقریر شروع کرتے ہیں، تو وزیر اعظم عمران خان صاحب کی مذمت کرتے ہیں اور اہل کشمیر سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ اور چند لمحوں میں وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ریاستی طور پر پاکستان سے ایک سنگین غلطی ہوئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں فاٹا کو ایک خصوصی حیثیث حاصل تھی اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے وہ خصوصی حیثیث ختم کر دی ہے۔ اور پاکستان کی ریاست کو اس کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ فاٹا کی خصوصی حیثیث ختم کرے۔

اگر فضل الرحمن صاحب کا شکوہ یہاں تک محدود رہتا، تو شاید یہ خیال کیا جاتا کہ وہ آئین کے اس ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں جس کے تحت فاٹا کو خیبر پختون خوا کا حصہ بنایا گیا تھا۔ لیکن حال ہی میں ایک تقریر میں انہوں نے اس سے بھی بڑھ کر ایک اور دعویٰ ان الفاظ میں پیش کیا:

Read more

فرضی جنتیں نہ تراشیں : ریپ امریکہ میں بھی ہوتا ہے اور سوویت یونین میں بھی ہوتا تھا

موٹر وے پر ہماری قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ سانحہ ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دکھ کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ کبھی یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ ان خاتون نے شوہر کے مجبور کرنے پر رات کے اس وقت سفر کیا۔ کبھی یہ سنتے ہیں کہ بلانے کے باوجود پولیس نے ایک مجبور عورت کی مدد نہیں کی۔ کبھی واقعہ کے فوری بعد پولیس افسر کے اس بیان پر بحث ہوتی ہے کہ غلطی ان خاتون کی ہی تھی کہ انہوں نے اتنی رات گئے سفر کیوں کیا؟

یہ زخم تازہ تھا کہ یہ ہوشربا خبریں ملیں کہ نارووال میں تیرہ سالہ بچے سے زیادتی کی گئی اور اس زیادتی کے الزام پر تحریک لبیک جلالی گروپ کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مانسہرہ میں ایک قاری پر الزام ہے کہ اس نے چار سالہ بچی کا ریپ کیا ہے۔ شاید یہ سب کچھ پہلے بھی ہو رہا تھا لیکن اب یہ خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ ان پر بحث ہو رہی ہے۔ اور ایسے سانحوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ صرف مجرموں کو کڑی سزا دینا ہی کافی نہیں۔ ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی کہ آئندہ سے ایسے واقعات نہ ہوں۔

Read more

ملا صالح سے نجات حاصل کرنا ہوگی

فرانسیسی سیاح برنیر تحریر کرتے ہیں کہ جب اورنگ زیب عالمگیر بچہ تھے تو شاہ جہاں نے ان کی تعلیم کے لئے ایک عالم ملا صالح کو مقرر کیا۔ ملا صالح نے اورنگ زیب عالمگیر کی تعلیم مکمل کر کے شاہ جہاں کو رپورٹ پیش کی کہ شہزادہ صاحب نے تمام علوم میں دسترس حاصل کر لی ہے۔ شاہ جہاں نے خوش ہو کر ملا صالح کو کابل کے قریب جاگیر عطا کی اور ملا صاحب وہاں تشریف لے گئے۔ کئی برس گزر گئے کہ ملا صالح صاحب نے پہلے خانہ جنگی اور پھر اپنے شاگرد رشید اورنگ زیب عالمگیر کی فتح کی خبریں سنیں۔

جب انہیں علم ہوا کہ اب جنگ ختم ہو گئی ہے تو وہ جلدی سے دہلی روانہ ہوئے۔ انہیں پوری امید تھی کہ ان کے شاگرد کی بادشاہت میں ان کا شمار سلطنت کے امراء میں ہو گا۔ دہلی پہنچ کر شہزادی روشن آراء بیگم سمیت تمام اہم شخصیات سے رابطے کر کے دربار تک رسائی حاصل کی۔ تین ماہ تو عالم پناہ کو یہی علم نہیں ہوسکا کہ ان کے بھرے دربار میں ان کے سابق استاد صاحب بھی موجود ہیں۔ جب اورنگ زیب عالمگیر کو اس بات کی خبر ہوئی تو انہیں علیحدگی میں طلب کیا۔ اس وقت ان کے پاس صرف چند قریبی امراء موجود تھے۔ ان میں سے ایک مصاحب کے پاس برنیر ملازم تھے اور انہوں نے اس مصاحب سے سن کر یہ واقعہ تحریر کیا۔

بادشاہ نے کہا کہ ملا جی تم چاہتے ہو کہ تمہیں سلطنت کے کسی اعلیٰ منصب پر فائز کیا جائے۔ اگر تم نے مجھے کوئی مناسب تعلیم دی ہوتی تو یقینی طور پر

Read more

اسرائیلی وزیر اعظم بن گورین کی پاکستان کے خلاف تقریر: حقیقت یا افسانہ

کئی دہائیوں سے یہ سن رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بن گورین نے اسرائیل اور صیہونی تحریک کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1967 میں ایک تقریر میں کہا تھا : ”عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کی طرف سے لاحق خطرات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس کا پہلا نشان پاکستان ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست ہمارے وجود

Read more

میں نے چار دوست قبر میں اتارے ہیں

جولائی کے آخر میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کا زیادہ تر حصہ پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ ہو نے والے امتیازی سلوک کے بارے میں ہے۔ اس کے علاوہ انڈ و نیشیا، بنگلہ دیش، کرگستان، ازبکستان بلغاریہ اور یو کے کے حالات پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور ان حالات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے جن کا سامنا پاکستان میں شیعہ احباب اور مسیحی اور ہندو برادری کو کرنا پڑتا

Read more

گرو نانک جی مہاراج کے مسلمانوں سے تعلقات

یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بارہا مذہب کو باہمی جنگ و جدال اور خون خرابے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن تاریخ صرف خون خرابے کی کہانی نہیں۔ ہمیں اس کے برعکس مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں اس دور کا ذکر کیا تھا جب مسلمان بادشاہوں اور سکھ مذہب کے محترم گرو صاحبان میں اختلافات عروج پر تھے۔ اس کالم میں اس سے پہلے کے دور کا ذکر کیا جائے گا۔ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک جی مہاراج کے دور میں مسلمانوں اور سکھ مذہب کی مقدس ترین ہستی کے باہمی تعلقات کیسے تھے؟

تاریخ کی ہر کتاب میں صحیح اور غلط دونوں قسم کی روایات شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کالم میں صحیح اور غلط کی بحث میں پڑے بغیر ”بھائی بالے جی والی پراتن جنم ساکھی“ سے کچھ روایات نقل کی جائیں گی۔ بابا گرو نانک جی کی مختلف مذاہب سے وابستگی کے بارے میں بھی بہت سے بحثیں ہوئی ہیں لیکن یہ بحثیں اس کالم کا موضوع نہیں ہیں۔

Read more

صحافت، سیاست اور کراچی کا پانی

کورونا کی وبا ختم ہوئی تو کراچی پانی میں ڈوب گیا۔ دونوں مرتبہ سیاستدانوں نے جوشیلے بیانات اور الزام تراشیوں کے انبار لگا دیئے۔ ٹی وی چینلز پر خوب مجالس سجیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی ممالک کی نسبت پاکستان نے جلد اس وبا پر قابو پایا ہے۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور جو ادارے اس سلسلہ میں کام کر رہے تھے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ کورونا کا مقابلہ وائرولوجی

Read more

جرمنی اور برطانیہ نے تحریک خلافت سے کیسے فائدہ اٹھایا؟

ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ اپنے ضمیر کے مطابق عقیدہ رکھے۔ ہم ایک شخص کے نظریات یا عقائد سے اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن اسے اس حق سے محروم نہیں کر سکتے۔ لیکن قومی سطح کے معاملات کے معاملے میں یہ احتیاط ضرور کرنی چاہیے کہ کوئی بیرونی طاقت مذہبی جذبات کا سہارا لے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بد قسمتی سے تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بسا اوقات

Read more

عرب ممالک برطانیہ کے جال میں کیسے پھنسے؟

خاکسار نے گزشتہ کالم میں یہ عرض کی تھی کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے فلسطین سمیت اکثر عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔ صیہونی تنظیم نے کوشش کی کہ ترکی کے سلطان انہیں فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دیں لیکن سلطان نے سختی سے انکار کر دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ جرمنی کی اتحادی بن کر میدان میں آئی۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے ترکی پر بڑا حملہ کیا لیکن بری طرح ناکام

Read more

ہمارے عرب بھائیوں کا یہود و ہنود سے اتحاد پرانا قصہ ہے

روایتی طور پر پاکستان اور کئی عرب ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ اور یہ تعلقات اس وقت زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں جب پاکستان کو مالی مدد یا ادھار پر تیل درکار ہو۔ ہم اس وقت ”یا اخی“ کا نعرہ لگا کر ان کے درباروں میں حاضر ی دیتے ہیں اور من کی مراد پاتے ہیں۔ ہمارے برادر ممالک کو ہماری یاد اس وقت ستاتی ہے جب انہیں کسی فرمانبردار اتحادی کی ضرورت ہویا مناسب تنخواہ پر فوجی

Read more

انگریزوں کے سب سے بڑے خوشامدی: سرسید احمد خان؟

جب ہم سکول میں مطالعہ پاکستان پڑھتے تھے تو ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ سرسید احمد خان قوم کے عظیم محسن تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم دلوانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور علیگڑھ کے کالج کی بنیاد رکھی اور انہیں پستی کی حالت سے نکالا۔ جب ہمیں نصابی کتب کے جھنجھٹ سے نجات ملی تو ایک اور طبقے کی آوازیں کان میں پڑیں کہ سرسید تو اول درجہ کے ”ابن الوقت“ تھے۔ جب برطانوی سرکار کا سورج

Read more

پنجاب کی تقسیم: سکھ لیڈروں کا کردار کیا تھا؟

یوم آزادی کی صبح جب موبائل پر نظر ڈالی تو مکرم ڈاکٹر ساجد علی صاحب کا ایک کالم ” دو قومی نظریہ: چند سوالات ” پڑھنے کو ملا ۔ یہ کالم مکرم و جاہت مسعود صاحب کے ایک کالم کا تسلسل تھا۔ جس میں دو قومی نظریہ کے حوالے سے کچھ سوالات اُٹھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان ایک علیحدہ قوم تھے تو پھر اسی کلیہ کے تحت ہندوستان کے

Read more

پاکستانی والدین موٹے اور بچے دبلے کیوں ہو رہے ہیں؟

زیڈ اے بخاری اپنی سوانح حیات ”سرگزشت“ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ مشہور تو یہ ہے کہ ”سانچ کو آنچ نہیں“ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سچ بولو تو سننے والے کو آگ لگ جاتی ہے۔ اس وجہ سے میں اپنی سوانح حیات لکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ اس لئے میں نے جب کچھ کہا ہے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لفظ نکالے ہیں کہ سننے والا تھوڑا بہت دھواں دے جائے تو دے جائے مگر اس

Read more

احمدیوں کا مخصوص شیزوفرینیا اور اس کی خطرناک علامت

چند روز پہلے پشاور میں ایک دلخراش واقعہ ہوا۔ ایک شخص طاہر نسیم صاحب کو عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا۔ ان پر کچھ مذہبی نوعیت کے الزامات تھے۔ بھری عدالت میں ایک نوجوان خالد نے پستول سے فائر کے طاہر نسیم صاحب کو قتل کر دیا۔ ان کی لاش کی تصویر دیکھ کر دلی صدمہ ہوا۔ اس موضوع پر مختلف قسم کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بحث میں ایک پہلو اب بھی

Read more

نواز شریف اور بلاول صاحب! بولنا ہے تو آج بولیں

پنجاب اسمبلی میں تحفظ بنیاد اسلام بل پیش ہوا۔ ویسے تو پاکستان کی اسمبلیوں ہر وقت تو تڑاخ اور الزام تراشی کے مناظر نظر آتے ہیں۔ لیکن محض عنوان کی برکت سے یہ بل متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ شاید کسی ممبر نے اس پر غور کرنے کا تکلف نہیں کیا تھا لیکن اب پورا ملک اس پر تبصرے کر رہا ہے۔ اس بل پنجاب میں شائع ہونے اور داخل ہونے والی کتب کی تطہیر کے لئے کئی اقدامات

Read more

بھارت اور پاکستان: ایٹم بم زیادہ، ایٹمی توانائی کم

آج سے 75 سال قبل 16 جولائی 1945 کو امریکہ نے پہلی مرتبہ ایٹمی دھماکہ کیا۔ انسان نے ایٹم کو پھاڑ کر توانائی حاصل کرنے کا راز دریافت کر لیا تھا۔ چند ہفتوں کے بعد 6 اگست کو یہ بم قیامت بن کر جاپان کے شہر ہیرو شیما پر گرا۔ اس وقت سے اب تک اس ٹیکنالوجی کے دو اہم استعمال رہے ہیں۔ ایک تو جنگی مقاصد کے لئے ایٹم بم یا جوہری بم تیار کرنا اور دوسرے پر امن

Read more

دف مارنا: تحریک لبیک سے مطیع اللہ جان صاحب تک

” دف مارنا“ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کی تیزی یا جوش کو زائل کرنا۔ مشتاق یوسفی صاحب کے ایک دوست انہیں گولے کے کباب کھانے کے اسرار و رموز سمجھا رہے تھے تو آپس میں یہ گفتگو ہوئی یوسفی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ گولے کے کباب میں ایک حصہ قیمہ، ایک حصہ مرچیں اور ایک حصہ دھاگے پڑتے ہیں۔ سیخ سے اتار کے کڑاکڑاتے گھی کا بگھار دیتے ہیں۔ ”سیخ کباب

Read more

مسئلہ داڑھی کا نہیں، اسمبلیوں کے اختیارات کی حدود کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کی رخسانہ کوثر صاحبہ نے داڑھیوں کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ چونکہ داڑھی سنت ہے، اس لئے داڑھیوں کے مختلف ڈیزائن بنانے پر پابندی لگائی جائے۔ اور ایسے اشخاص اور ایسے نائیوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس کے مرتکب ہوں۔ 2018 میں ڈیرہ غازہ خان کی ڈسٹرکٹ کونسل نے اسی قسم کی قرارداد منظور کی تھی اور ہارون آباد اور بلوچستان کے ایک قصبہ کی مقامی انتظامیہ نے داڑھیوں کا ڈیزائن نہ بنانے کا حکم جاری کیا تھا۔

کیا پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے؟ تاجکستان کی حکومت کے نزدیک دہشت گردی سے نمٹنے کا مجرب نسخہ یہی ہے کہ زبردستی لوگوں کی داڑھیاں مونڈی جائیں۔ چنانچہ 2016 میں الجزیرہ نے خبر دی کہ تاجکستان پولیس نے سولہ ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈ دی ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ داڑھی والے مردوں کو پاسپورٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

Read more