وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام کھلا خط
”میرا پیارا کپتان عمران خان“ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔ میں اس خط کے ذریعے آپ کی توجہ گزشتہ پانچ سالوں سے الیکشن کمشن آف پاکستان میں چلنے والی پارٹی فارن فنڈنگ کیس کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
میرا پیارا کپتان 2014 میں تحریک انصاف کے بانی ممبر اکبر ایس بابر نے پارٹی فارن فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمشن میں کیس دائر کیا تھا۔ اب نے رسیدیں دے کر خود کو صاف کرنے کے بجائے اس کیس کی کارروائی روکنے کی کوشش کی۔ اپ نے پہلے الیکشن کمشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا وہ فیصلہ اپ کے خلاف آیا۔ پھر آپ اسلام آباد ہائی کورٹ گئے اپ کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی کہ الیکشن کمشن کو تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت سے روکا جائے، کئی ماہ کیس کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپ کی درخواست مسترد کر کے الیکشن کمشن آف پاکستان کو فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا۔
اپ اس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان گئے، وہاں اپ نے درخواست دی کہ الیکشن کمشن کو پارٹی فنڈنگ کیس کی تحقیقات سے روکا جائے۔ کئی ماہ تک کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ آخر کار سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ آپ کے خلاف ایا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کو تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا۔ اسی طرح اپ نے تین سال عدالتوں کا سہارا لیتے ہوئے گزارے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ ہارنے کے بعد اپ نے الیکشن کمشن میں چار مختلف درخواستیں دائر کیں جس میں اپ نے الیکشن کمشن آف پاکستان سے استدعا کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کو تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات سے روکا جائے، اٹھارہ ماہ اس دوران گزر گئے۔ اس کے بعد اخر کار الیکشن کمشن کا فیصلہ بھی اگیا الیکشن کمشن آف پاکستان نے آپ کی چاروں درخواست مسترد کر کے تحریک انصاف کو بطور پارٹی 14 اکتوبر کو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔
”میرا پیارا کپتان عمران خان“ جب پانامہ لیکس ایا تو اپ ملک کے مختلف شہروں میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کرتے تھے لندن فلیٹ کی رسیدیں دکھا دو، جب رسیدیں دکھانے کی باری آپ کی آئی تو اپ نے رسیدیں دینے کے بجائے پانچ سال تک کیس رکوانے کی کو شش کی، اپ ہائی کورٹ میں گئے پھر آپ سپریم کورٹ میں گئے اسی طرح پانچ سال کا عرصہ اپنے عدالتوں کا چکر کاٹ کر گزار دیا، میرا کپتان اپ ڈیلیئنگ ٹیکٹکس استعمال کرنے کے بجائے رسیدیں الیکشن کمشن آف پاکستان کو دکھاتے تو اب تک کیس کا فیصلہ اچکا ہوتا۔
اپ نے رسیدیں دکھانے کے بجائے بدنیتی پر مبنی صدارتی آرڈینینس جاری کر کے الیکشن کمشن آف پاکستان کے سندھ اور بلوجستان سے ممبران کی تقرری کر دی۔ آئین پاکستان کے مطابق الیکشن کمشن آف پاکستان کے ممبران کی تقرری اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔ اپ نے اپوزیشن لیڈر کے مشورے کے بغیر الیکشن کمشن کے دونوں ممبران کی تقرری کی، جس سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے چیلنج کیا اور آپ کی جانب سے اس غیر آئینی تقرری کو چیف الیکشن کمشنر نے مسترد کر کے ان دونوں اراکین سے حلف لینے سے انکار کیا۔
میرا کپتان اب غیر آئینی طریقے سے الیکشن کمشن کے ممبران کی تقرری کے بجائے رسیدیں دکھاتے تو آپ کی اس طرح سبکی نہ ہوتی۔
میں اخر میں اپ سے مطالبہ کرتا ہوں، کہ اگر اپکا دامن صاف ہے اپ نے غلط کام نہیں کیا ہے، تو پھر اسکروٹنی روکنے کے بجائے رسیدیں دکھا دیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔


