کیا فضل الرحمن کچھ حاصل کر سکیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن بنیادی طور پر اقتدار کے اہم کھلاڑی ہیں اور وہ خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سیاست کی بنیاد ہی طاقت کے مراکز میں اپنی سیاسی اہمیت کو منوانا اور طاقت کے کھیل کا حصہ بننے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا مذہبی سیاست کو بنیاد بنا کر اقتدار کے کھیل کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بناتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف یا جنرل مشرف ہوں یا آصف علی زرداری سب کے ساتھ وہ اقتدار کا حصہ بننے کے لیے تیار رہے۔ آصف علی زرداری کے بعد ان کو سیاسی حکمت عملیوں کا سیاسی بادشاہ کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ میں بھی اپنی خاص سیاسی اداوں کی وجہ سے رسائی رکھتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر ان کی سیاست کو بڑی ضرب کاری تحریک انصاف یا عمران خان کی سیاست نے لگائی ہے اور ان کے بڑے سیاسی مرکز پختون خوا میں ان کی سیاسی بساط کو لپیٹ کر اپنا سیاسی جادو جگایا ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے درمیان نہ صرف سیاسی مقابلہ بازی ہے بلکہ ایک دوسرے کے خلاف خاصی بد اعتمادی اور سیاسی تعصب بھی موجود ہے۔ مولانا کسی بھی صورت میں عمران خان کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور ان کو پس پردہ قوتوں کا سیاسی آلہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات کے مینڈیٹ کو بھی وہ عمران خان کا نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کا مینڈیٹ سمجھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کے بننے سے قبل ہی وہ انتخابی نتائج کے بعد اس حکومت اور انتخابات کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ وہ مسلسل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو یہ ہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ ہمیں عمران خان کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی بجائے سڑکوں پر نکل کر اس حکومت کے خاتمہ کی تحریک چلانی چاہیے۔ وہ تو اس بات سے بھی انکاری تھے کہ دو نوں بڑی جماعتیں پارلیمنٹ سے حلف لینے کی بجائے براہ راست سیاسی میدان میں کود کر انتخابی نتائج کو چیلنج کرکے نئے انتخابات کا مطالبہ کریں۔ لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مولانا کے سیاسی بہکاوے میں آنے کی بجائے پارلیمانی سیاست کے راستے کا انتخاب کیا۔

اب مولانا 27 اکتوبر کو حکومت مخالف آزادی مارچ یا لاک ڈاون کو بنیاد بنا کر اسلام آباد میں سیاسی چڑھائی کا اعلان کر چکے ہیں۔ بظاہر بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت میں پیش پیش ہیں، مگر عملی طور پر اسلام آباد میں سیاسی دھرنا دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگرچہ دونوں جماعتیں حکومت کو ختم کرنا چاہتی ہیں اور نئے انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتی ہیں، مگر یہ سب کیسے ہوگا اس پر ان دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یہ بھی سمجھتی ہیں کہ اگر وہ مولانا کے لاک ڈاون کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تو حزب اختلاف کی سیاسی قیادت کا حقیقی کمانڈ مولانا فضل الرحمن کی ہو گی اور وہ ان کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ دوسرا دونوں جماعتیں اس لاک ڈاون کی بنیاد پر فوری طور پر اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی سیاست سے گریز کر رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر اس لاک ڈاون سے کچھ حاصل نہ ہو سکا تو اس کے بعد دوبارہ کسی تحریک کا کال دینا آسان نہیں ہو گا۔

عملی طور پر مولانا فضل الرحمن نے سب سے زیادہ مشکل مسلم لیگ ن کو ڈال دی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرے۔ اول مسلم لیگ ن اس لاک ڈاون میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے پر سیاسی طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ اگر لاک ڈاون کا حصہ بنتی ہے تو اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کا عندیہ اور اگر پیچھے رہتی ہے تو حزب اختلاف کی سیاسی تقسیم کا سبب بنے گی۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز اس لاک ڈاون کے حامی ہیں، مگر مجموعی طور پر مسلم لیگ کی بڑی اکثریت اس دھرنے میں براہ راست شرکت کی حامی نہیں ہے اور اس فیصلہ کی سیاسی قیادت شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔

پیپلز پارٹی کا بھی سیاسی مخمصہ سمجھ سے بالاتر ہے وہ دھرنے کے ساتھ بھی ہے او راس کی مخالفت بھی کر رہی ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ دونوں جماعتیں ممکن ہے کہ مولانا کے جلسے میں شریک ہو کر اپنی سیاسی یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے، مگر اگر وہ شریک ہوتے ہیں تو ان کی شرکت بھی سمجھ سے بالاتر ہو گی۔ کیونکہ یا تو آپ دھرنے کے ساتھ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ یہ جو درمیانی راستہ ہے وہ سیاسی پوزیشن کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔

ویسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یہ بھی دیکھے گی کہ مولانا کس حد تک بڑا اسٹیج سجانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اگر واقعی سٹیج بڑا ہو گا تو دونوں جماعتیں اس میدان میں خود کو تنہا کرنے کی بجائے اس کا حصہ بن کر اپنے ہونے کا بھی احساس دلائیں گی۔ کیونکہ دونوں جماعتیں کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گی کہ مولانا تن تنہا حزب اختلاف کو ہائی جیک کر سکیں۔ اس عمل میں دیکھنا یہ ہو گا کہ مولانا کے دھرنے یا آزادی مارچ میں حکومت کا اپنا رد عمل کیا ہو گا۔

اصولی طور پر تو کیونکہ خود پی ٹی آئی دھرنا سیاست کرچکی ہے اور اس کا جواز بھی پیش کرتی ہے اس لیے یہ حق آج کی حزب اختلاف کو بھی ملنا چاہیے۔ کیونکہ اگر حکومت اس دھرنے کو طاقت کے زور پر روکتی ہے تو ا سے بے وجہ نہ صرف اشتعال پھیلے گا بلکہ پرتشدد سیاست کا عمل بھی ابھر سکتا ہے جو سب کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ جو لوگ حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اس دھرنے کو طاقت کے زور پر روکا جائے وہ حکومت کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہوں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کا ایجنڈا کیا ہے اور وہ اس دھرنے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اول مولانا وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ نئے انتخابات ہیں۔ دوئم وہ اس دھرنے کی مدد سے حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کو کمزور نہ سمجھا جائے اور طاقت کے کھیل میں ان کو بھی عملا ایک بڑا فریق تسلیم کیا جائے۔ سوئم مولانا کو معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں اور ان کی سیاسی مجبوریاں آڑے آتی ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کا جو سیاسی خلا ہے اسے وہ اپنی قیادت کی مدد سے پوری کریں اور دونوں بڑی جماعتوں پر سیاسی برتری حاصل کریں۔ چہارم مولانا کی کوشش ہے کہ وہ پختون خوا میں اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کریں اور یہ دھرنا سیاست ان کی کمزور سیاست کو ایک بڑا سیاسی فائدہ دے۔

جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کافی زیرک آدمی ہیں اور بغیر کسی بڑی مدد یا پس پردہ قوتوں کی مدد کے بغیر وہ اتنا بڑا قدام نہیں اٹھا سکتے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے مولانا کو ایک بڑے سیاسی کارڈ کے طو رپر کھیلنا چاہتے ہوں مگر جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ کوئی طاقت موجودہ حکومت کو فوری طور پر ختم کرنا چاہتی ہے، ممکن نہیں۔ مولانا کے پاس اس وقت ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کا نہ تو کئی حل ہے اور نا ہی ان کے پاس حکومت کو گرانے کا کوئی بڑا سیاسی جواز ہے۔

یہی مولانا عمران خان کے سیاسی دھرنے یا لاک ڈاون کو حرام سمجھتے تھے اور جمہوری عمل کو طاقت کے زور پر گرانے کے عمل کو آمرانہ عمل سمجھتے تھے۔ ان کی عمران خان کے دھرنا سیاست میں پارلیمنٹ میں موجود تقریروں کو دوبارہ سنا جا سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا خود کیوں سیاسی یوٹرن لے رہے ہیں اور کیوں حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔ یا د رکھیں اگر واقعی حکومت کو گرنا ہے تو جمہوری قوتوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اگر یہ منطق مان لی جائے کہ حزب اختلاف حکومت گرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور نئے انتخابات بھی ہو جاتے ہیں اور موجودہ حکومت انتخاب بھی ہار جاتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ عمران خان آنے والی حکومت کو تسلیم کر کے گھر بیٹھ جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن، عمران خان کے خلاف سیاسی تعصب کا شکار ہیں اور ان کو اپنی سیاست کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان کی حکومت کو نہ روکا گیا تو صورت احوال ان کے لیے اور زیادہ تباہ کن ہو گی۔ جب حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ عمران خان کی حکومت نا کامی سے دوچار ہے تو اس کا علاج بھی سیاسی ہی ہونا چاہیے اور تبدیلی کا عمل پارلیمنٹ کے اندر سے ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •