ہماری چالاکیاں
آج گھر جانے کی غرض سے، کلمہ چوک سے میٹرو میں بیٹھا تو ساتھ والی سیٹ پر براجمان ایک بزرگ سے علیک سلیک کے بعد معلوم ہوا، کہ ہم دونوں کی منزل (قصور) ایک ہی ہے۔ محترم نے مجھے ایمانداری کے موضوع پر ایک طویل لیکچر دیا، جو کہ میں نے انتہائی اطمینان سے سنا۔ ہم جونہی گجومتہ پر اترے تو بابا جی نے ایک فروٹ کے ٹھیلے سے سیب خریدے اور فاتحانہ مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا۔ مجھے ان کی مسکراہٹ پر کچھ شک گزرا تو اس مسکراہٹ کی وجہ جاننے کے لیے سوال کیا۔ ان کا جواب میرے لیے حیران کن تھا۔ فرمایا، ”پتر ایہہ نوٹ (جو پھل فروش کو دیا) چل نہیں سی رہیا، سنا، چلا کے ویکھیا یا نہیں! ایہہ تے ایویں جیا دکاندار اے“ (بیٹا، یہ نوٹ جو پھل والے کو دیا، کہیں چل نہیں رہا تھا۔ دیکھ لو چلا کے دکھایا یا نہیں! یہ تو بے وقوف سا دکان دار ہے)۔
ان کا جواب سن کے افسوس اور حیرانی سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی اور عقل دنگ کی دنگ رہ گئی۔ انہوں نے اس ’’ہریانی‘‘ کی وجہ دریافت کی، تو میں نے کہا ”بابا جی ایمانداری تے تسی ساری میٹرو چھڈ آئے او، کجھ باہر وی لے آنی سی شاید کوئی کم آ جاندی۔“ (بابا جی، ایمان داری تو آپ ساری کی ساری میٹرو بس میں چھوڑ آئے ہیں۔ کچھ باہر بھی لے آتے، شاید کام آ جاتی)۔
اسی طرح ایک بار ایک دوست کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ محترم کہیں جانے کی تیاری میں مشغول تھے۔ ہماری کچھ گپ شپ کے بعد وہ اپنے کپڑے پریس کرنے کے لیے استری اسٹینڈ پر گئے، وہاں ٹیبل پر موجود کچھ بکھرا سامان دیکھ کر آگ بگولا ہو گئے اور اپنی ہم شِیر اور والدہ کو ڈسپلن پر ایک مدلل لیکچر دینے لگے۔ ان کے آدھے گھنٹے کے بھاشن نے مجھے بہت امپیریس کیا۔ جب وہ رولز ریگولیشنز کی تقریر سے فارغ ہوئے تو ان کی ایک حرکت نے اس کا سارا جینٹل مین امیپریشن ایک جھٹکے میں بگاڑ دیا۔ جناب محترم نے وہی بکھرا سامان اٹھایا اور پاس پڑے صوفے اور بیڈ، حتی کہ پورے کمرے میں بکھیر دیا۔
میں نے ان کی والدہ کو بلایا اور عرض کیا کہ ”آنٹی جان! پلیز آدھے گھنٹے ڈسپلن والے لیکچر سے دس منٹ ہمیں واپس کر دیں تا کہ میرا دوست سامان کو ڈسپلن سے رکھ سکے“۔
اس قصہ خوانی کا مقصد فقط یہ ہے کہ ہم وعظ و نصیحت صرف دوسروں پر تھوپنے کی بجائے اگر خود بھی عمل پیرا ہوں تو معاشرے کے بدلنے کی قوی امید باقی ہیں۔
درحقیقت ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو درست کرنے کے چکر میں مست ہیں اور خود کا احتساب نہیں کر پاتے۔ دوسروں کے محتسب ضرور بنیں لیکن براہ کرم اپنے گریبان میں پہلے جھانکیں اور اپنی اداوں پر غور و خوض کریں۔ ہمارے خود کے بدلنے ہی سے معاشرہ بدلے گا۔ دوسروں کی غلطیوں کے جج بننے کی بجائے خود کو پرکھیں اور خود کو اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کر کے احتساب کریں، تبھی روشن اور تابناک معاشرہ جنم لے گا۔


