خود داری، سوداگری سے گدا گری تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات آن پہنچی خود داری، سوداگری سے ہو کر اب گدا گری تک۔ وقت کی گردش پر تھوڑا غور کیا جائے تو اس میں حال کے علاوہ ماضی بھی صاف نظر آنے لگتا ہے۔ تو جناب ہم بھی ماضی کو کریدتے ہیں کہ جان پائیں اپنے حال کے اسباب کو۔

بات شروع کرتے ہیں، زیادہ دور سے نہیں بس پیپلز پارٹی کے پچھلے اور پہلے مکمل دورحکومت کی۔ بہت مشکلات تھیں لیکن آج بین الاقوامی ادارے بھی متعرف ہیں کہ پی پی پی کی حکومت میں نہ صرف مشکل ترین حالات کا سامنا کیا بلکہ ملک کو ترقی کی جانب گامزن بھی کیا لیکن شایدعام آدمی کی سطح تک حکومت ثمرات اس طرح دے نہیں پائی جو کہ وعدہ بھی تھا اور ضرورت بھی تھی یا شاید ان خدمات اس طرح منظر عام پر آنے نہیں دیا گیا۔ آئین میں ضروری ترامیم، خارجہ پالیسی کے وقت کے لحاظ سے ازسر نو تشکیل، پاک ایران گیس پائپ لائن اور سی پیک جیسے منصوبوں کا سنگ بنیاد۔

اور ہاں غریب عوام کی ریلیف کے لئے بینظیر انکم سپورٹ بھی شروع کیا گیا جو کہ اقوام متحدہ میں بھی سراہا گیا، جس کے تحت وسیلہ روزگار میں عوام کو کاروبار کروا کر دیے گئے۔ امداد نہیں تجارت کا نعرہ بھی متعارف کر وایا گیا۔ تنخواہوں اور پنشنوں میں خاطر خواہ اضافے نے عوم کے ایک اچھے مستقبل کی بنیاد رکھ ڈالی۔ تو قارئین یہ تھا خودداری کا دور جس کو کرپشن کے سیاہ دور سے یوں تشبیہ دی گئی کہ آگے سوداگر اپنا دور لے کر آنے میں کامیاب ہو گئے۔

اور سوداگروں نے میاں نواز شریف کی شکل میں اپنا فرنٹ مین یا یوں کہیں کہ اپنے اعتماد کا بندہ ایوان اقتدار میں پہنچانے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو کسی بھی پارلیمانی نظام حکومت رکھنے والے ملک میں یا جمہوری معاشرے میں ممنوع ہوتا ہے لیکن خیر اس وقت سوداگر اس قدر طاقت ور ہو چکے تھے کہ انھوں نے اپنی مرضی کے فیصلے بھی کیے یا کروائے اور حکومت بھی اپنے ہی من پسند افراد کو سونپی گئی اور پھر ملک میں جس طرح اپنے قریبی اور من پسند کاروباری حضرات کو یا ایک منافع بخش کمیشن دینے والی کمپنیوں کو ایسے ایسے ذرائع سے نوازا گیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

سوداگروں نے بھی خوب مال بنایا اور ان کے چہیتوں کی تو جیسے لاٹری نکل پڑی تھی، سیمنٹ، سریا، کرش، خام مال کی صنعتوں اور دیگر چھوٹی بڑی منافع بخش صنعتوں میں جو مال و اسباب بنانے کے مواقع سوداگروں یا ان کے حمایت حمایت یافتہ ن لیگ کے لوگوں کو میسر رہے، وہ ماضی و مستقبل میں کبھی کسی کو شاید ہی حاصل رہے ہوں۔ نواز شریف چونکہ اس تمام عرصے میں عہد وفادرای سر تسلیم خم کیے خوب احسن طریقے سے نبھاتے رہے اور ان کی اس فرمانبرداری والی خصوصیت سے متاثر ہو کر سوداگروں نے انھیں وزارت عظمیٰ جیسے انتہائی اہم عہدے پر فائز کروایا اور پھر بدترین سیاسی انتقام کا سیاہ دور شروع ہوا لگ یوں رہا تھا کہ جیسے آمریت کے پیروکار جنرل ضیاء کی روح جیسے نواز شریف کے جسم میں سما گئی ہو۔

نواز شریف دور حکومت میں پیپلز پارٹی کو خاص طور پر آصف علی زرداری کے خلاف بالخصوص من گھڑت مقدمات کا اندراج اور کردار کشی کی مہنگی ترین مہم شروع کی گئی اس سارے معاملے میں نواز شریف مسلم لیگ کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر پورے ملک میں پذیرائی دلانے کے خواہاں تھے لیکن مسلم لیگ کے حوالے سے پیر صاحب پگاڑا جو کہ آل مسلم لیگ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں نے سہیل وڑائچ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ کبھی بھی پاکستان میں سیاسی جماعت نہیں بن سکتی اور نہ ہی مسلم لیگ کو عوامی ووٹ یا کھلی حمایت حاصل ہو سکتی ہے البتہ وہ لوگ مسلم لیگ کو پسند ضرور کرتے ہیں جو کاروباری طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم لیگ کے دور حکومت میں وہ اپنے کاروبار اور سرمائے کو بڑھانے میں جت جاتے ہیں تو اس طرح عوام کا پاکستان سوداگروں کے ہاتھوں یرغمال کروایا جاتا ہے

اسکرپٹ میں حیرت انگیز اور غیر متوقع تبدیلی اس وقت رونما ہوتی ہے جب نواز شریف سوداگروں سے نامناسب رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انھیں اپنے تابع کرنے کی جرات کرتے ہیں تو سوداگر اپنے ہی مرغ دست آموز نواز شریف اینڈ کمپنی سے اپنی ناراضگی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں نئے پبلک ریلیشن آفیسر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس بار ملک و قوم کی رہی سہی بچی کھچی کسر نکالنے کے واسطے سوداگروں کی نظر عمران خان پر پڑتی ہے تو کیا بس عمران خان تو نواز شریف سے بھی زیادہ وفادرای کا ثبوت پیش کرنے کے لیے اتاولے ہوئے جا رہے تھے۔

پھر وہی پرانا طریقہ اپناتے ہوئے سوداگر عمران خان کو حکومت میں اور نواز شریف کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیتے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سے تاریخ دہرائی جاتی ہے۔ ملک میں موجود ان تمام سیاست دانوں کی کردار کشی پھر سے شروع ہوتی ہے جو ہمیشہ سے سوداگروں کی آنکھوں میں چبھتے رہے ہیں۔ ایک طرف گزشتہ ایک برس سے جب ملک میں کاروباری حالات نا اہل سوداگروں کی وجہ سے ناسازگار بنا دیے گئے ہیں ملک و قوم کی خود مختاری اور خود اعتمادی کو پہلے سوداگروں نے تجارت یا کاروبار میں بدلا اور اب تو تجارت اور کاروبار کو گداگری میں بدل دیا گیا ہے۔

گزشتہ ایک برس سے قومی غیرت کا جس طرح جنازہ نکالا جا رہا ہے اس پر تو اب شاید کوئی مرثیہ یا نوحہ لکھا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا جب ملک میں مہنگائی ہو تو سمجھو کہ حکمران چور ہے اب فیصلہ خود عوام ہی کر لیں کہ چور کون ہے اور عوام کو لوٹنے کے مشن پر کون ہے عمران خان نے جیسے پاکستان اور پاکستانی عوام کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا اور ورلڈ بینک کی غلامی کا جو طوق قوم کے گلے میں ڈالا ہے اس پر تاریخ عمران خان اور خاص طور پر ان سوداگروں کو ہرگز معاف نہیں کرے گی جو گزشتہ بہتر برسوں سے ملک و قوم کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔

عمران خان حکومت کا سفر انڈے مرغی سے شروع ہوا اور مسافر خانے کٹوں بھینسوں سے ہوتا ہوا اب لنگر خانے پر پہنچ چکا ہے ان تمام باتوں سے آپ عمران خان اور اس کی کابینہ کی ذہانت و فہم و فراست کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں قوم کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا جھانسہ دے کر عمران خان نے عوام کو اب لنگر خانوں میں تو پہنچا دیا ہے اور ابھی عہد عمرانی کا سفر جاری ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ آخر میں صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ عوام موسمی اور موقع پرست مفاد خور سوداگروں اور ان کی شیلفوں پر رکھی ہوئی کھٹ پتلیوں کو اب پہچان لیں تاکہ ملک و قوم کو ان مفاد پرستوں سے محفوظ بنانے کے لئے کوشش کی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان اعوان کی دیگر تحریریں
عثمان اعوان کی دیگر تحریریں