سب سائڈ پر ، کپتان مولانا میچ میں مدد سے انکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر شی سے کپتان کی ملاقات ہو ہی گئی۔ جنہوں نے اس ملاقات کے لیے محنتیں کیں۔ سوٹی پکڑ کر خود ساتھ گئے۔ ان کے دل کا حال وہی جانتے ہوں گے ۔ آپ نے دورے کی کامیابی دیکھنی یا سننی ہے تو شیخ رشید نے لمبی لمبی چھوڑی ہیں۔ کامران خان کے ساتھ ان کی بات چیت دیکھ لیں۔

سی پیک اتھارٹی کا آرڈینس جاری کر کے، گوادر کو ٹیکس فری ایریا ڈیکلیر کرنے کا کمال کر کے، جوڑی چین روانہ ہوئی تھی۔ سی پیک اتھارٹی پر تو چینیوں نے بہت پیار سے اخلاق سے سمجھایا کہ دیکھیں۔ آپ کی اتھارٹی کے قیام کا یہی بل پارلیمانی کمیٹی نے مسترد کر دیا تھا۔ آپ نے وہی بل اپنے اختیارات کے تحت منظور کرا لیا ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سی پیک کی رفتار اپوزیشن کی مخالفت سے کیسے متاثر ہوئی۔ یہ کہہ کر کپتان کو اس کا دھرنا اس کا کنٹینر اور صدر شی کا دورہ سب یاد کرا دیا گیا، وہ بھی اک لفظ اس متعلق کہے بغیر۔

اس کے بعد کہا گیا کہ سی پیک کے حوالے سے آپ سب ایک ہی پیج پر آ جائیں۔ یہ سن کر کس کس کو رونے آئے ہوں گے ۔ یہ کسی ایسے پی ٹی آئی لیڈر سے پوچھیں جس کو پتہ لگ چکا ہو کہ پیج تو پاٹ واٹ گیا ہے۔ ایسا کچھ ہوا نہیں ہے لیکن کپتان کے ساتھی تو معصوم بھی پرلے درجے کے ہیں۔

ہوا صرف اتنا ہے کہ کہیں کوئی اجلاس ہوا ہے اس میں حکومتی وزیروں نے پوچھا کہ دھرنے کا کیا کرنا ہے۔ تو آگے سے جواب ملا کہ جو کرنا ہے کریں۔ سیاسی مسئلہ ہے۔ آپ حکومت ہیں، آپ دیکھیں۔ کہتے ہیں کہ جواب میں تو اچھا ہی کہا گیا۔ لیکن اس اچھا کا افیکٹ ویسا ہی تھا جیسا کوچی تھان سے سوٹ پھاڑے تو آتا ہے۔ یہ جملہ کولوں ڈالا ہے اور صرف آپ کو سمجھانے کے لیے۔

کپتان آج کل ہٹ اینڈ ٹرائل فارمولے کے تحت کے حکومت سفارت سیاست سیکھ رہا ہے۔ اک دھماکے سے آزمائشی ہتھوڑا کسی نازک سے سفارتی جگ گلاس پر مار کے دیکھتا ہے کہ یہ بچ گیا تو میرا نہ بچا تو ان کا جن کا میں ہوں۔

انہوں نے بھی اب سوچ لیا ہے کہ بس بہت ہو گیا۔ کب تک ہم ہی سب کچھ کریں گے۔ کل جہان کی باتیں سنیں گے۔ یہ بھی تو حکومت ہیں خود بھی تو کچھ انہوں نے کرنا ہے۔ اپنے زور پر اب کچھ کریں۔ مولانا کے دھرنے سے بچیں اگر بچ سکتے ہیں۔ نہیں بچ سکتے تو اللہ دے حوالے۔ اگلی باری پھر زرداری۔ بندوں کی پاکستان میں کوئی کمی ہے۔ جب چاہو جیسا چاہو جہاں سے چاہو مل جاتا ہے۔ ورائٹی ہی بہت ہے۔

اب دھرنا حکومت نے خود ڈیل کرنا ہے۔ پنجاب پولیس کا آسرا ہے۔ جسے دوبارہ ڈی سی کے ماتحت کرنے کی نیت بھی حکومت نے باندھ رکھی ہے۔ تو اب ایس ایچ او صاحبان کی مرضی ہے کہ دھرنا روکتے ہیں یا اس کو کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچاتے ہیں کہ یہ لیں ہماری طرف سے۔ ہور کوئی خدمت ساڈے لائق تو بتائیں۔

مولانا فضل الرحمن کے بارے کپتان کے ہر چاہنے والے کا ایمان ہے کہ بس ایک دو وزارتیں، کسی کمیٹی کی صدارت دو اور مولانا کو ہماری حکومت سے بھی سچا پیار ہو جانا ہے۔

کپتان اتنا بھی سادہ نہیں کہ ایسی باتوں پر یقین کر لے۔ اس کے پاس اپنے چاہنے والوں سے بہتر آئیڈیا تھا۔ وہ یہ کہ سعودیہ میں پاکستانی سفیر سے ایک کال مولانا کو کرائے گا۔ پھر کون سا دھرنا کون سا مارچ۔ مولانا چار ڈبے عجوہ کھجوروں پر مان جائیں گے۔ باقی عمر اللہ اللہ کریں گے۔ ہم پھر اپنے بچوں کو بتایا کریں گے کہ عرب شریف سے ایک فون آیا تھا۔ ، پاکستان نواں ہو گیا تھا۔

مولانا پاکستان میں اس وقت سب سے سینیر سیاستدان ہیں۔ ان کی سیاسی ذہانت کے مداح ان کے مخالف بھی ہیں۔ مولانا نے بہت ہی بروقت اپنے ہاتھ سے ایک خط لکھ کر سعودیہ بھجوایا تھا۔ غیر روایتی چینل اختیار کیا۔ اس خط کی کاپی مبینہ طور پر کچھ عرب ریاستوں کے سربراہوں کو بھی بھجوائی گئی۔

عربی زبان میں لکھے اس شاہکار خط میں مولانا نے ایک شعر میں تحریف بھی کی۔ اس تحریف کی داد عربی اٹھ اٹھ کر دے رہے ہیں۔

آج کل سعودی سفیر اپنا زیادہ تر وقت اپنے ملک میں ہی گزار رہے ہیں۔ مولانا کا خط ملنے کے بعد انہیں خصوصی طور پر پاکستان بھجوایا گیا۔ وہ یہاں آئے اور آ کر مولانا سے انہوں نے ایک تفصیلی ملاقات کی، اس سے پہلے وہ کسی اور سے بھی ملے۔ مولانا کے خط کی رسید دی اس کے اندر موجود پیغام کی داد پہنچائی گئی۔

مولانا نے سعودیہ کی کشمیر پالیسی پر کچھ سوالات اٹھائے۔ جن کے اطمینان بخش جوابات دیے گئے۔ ان جوابات کا نتیجہ شاید ہم آزادی مارچ میں دیکھیں جب کپتان کے مداح بغلیں جھانک رہے ہوں گے ۔

یہ ہوتی ہے قیادت اور یہ ہوتا ہے وژن۔ یہ ہمارا وزیراعظم کہتا ہے۔ جو مولانا پر بہت فٹ بیٹھا ہے۔ اب کپتان کا معاملہ براہراست مولانا سے ہے۔ اپنی حکومت اس نے اب اپنی حکمت عملی سے بچانی ہے۔ آزادی مارچ کا سامنا کرنا ہے۔ ہینڈل کر کے دکھا دیا تو پانچ سال اس کے۔ اب یہ کپتان پر ہے کہ وہ اپنا ایک سال کا حکومتی تجربہ کام میں لائے اور اپنی حکومت بچائے۔ سب دوست اتحادی سائیڈ پر ہو چکے اب کپتان اور مولانا آمنے سامنے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 366 posts and counting.See all posts by wisi