دھرنے سے پہلے ہی حکومت کا دھڑن تختہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے اعلان کردہ دھرنے سے پہلے ہی حکومت کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے۔ آزادی مارچ شروع ہونے اور دھرنے کی نوبت آنے میں ابھی دو ہفتے سے زائد وقت باقی ہے لیکن حکومتی وزیروں کے ردعمل سے لگتا ہے کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا کو اس احتجاج کی کوریج سے روکنے کی کوششیں ہورہی ہیں تو دوسری طرف وزیر و مشیر خود ہی اس دھرنے کی مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

گزشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس سے یہ خبر آئی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مواصلت کے دروازے کھلے رکھنے کی ہدایت کی ہے لیکن اس کے بعد ان کے رفقا اور معاونین نے مولانا سے رابطہ کرنے یا انہیں ملاقات پر آمادہ کرنے کا کوئی اقدام نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت احتجاج کی اس کال سے بھی اسی غیر پیشہ وارانہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کررہی ہے جس کے ساتھ اس نے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی تھی۔

اب وزیر اعظم اور تحریک انصاف کی حکومت معاشی معاملات ادھار مانگی ہوئی معاشی ٹیم کے حوالے کرچکی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور قوت خرید میں خطرناک کمی کی صورت حال میں مالی امور کے مشیرحفیظ شیخ اور اسٹیٹ بنک کے گورنر رضا باقر یہ بیان دے کر عوام کی تشفی کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت کے مثبت اقدامات سے معیشت درست سمت میں روانہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح بورڈ آف ریونیو کے سربراہ شبر زیدی ٹیکس جمع کرنے کی بہتر صلاحیت کے بارے میں اطمینان دلواتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایسے بیان عام لوگوں کی روزمرہ معیشت اور آمدنی و اخراجات کی صورت حال میں تبدیلی کا سبب نہیں بنتے۔ اس لئے ملک کی اکثریت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاشی اشاریے کیا نشاندہی کر رہے ہیں یا حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

وزارت خزانہ، اسٹیٹ بنک یا ایف بی آر کے نگران کے عہدوں پر فائز لوگوں کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔ وہ عالمی اداروں کے ساتھ مفاہمت اور معاشی پالیسی میں حکومت کی مکمل ناکامی کی وجہ سے ان عہدوں پر فائز کئے گئے تھے، اس تینوں کو اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ وہ جس معاشی منصوبہ کو نافذ کر رہے ہیں، اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو گی اور حکومت کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

حیرت البتہ اس بات پر ضرور ہوتی ہے کہ نام نہاد ’پروفیشلز‘ کو معیشت کی ذمہ داری سونپنے کے بعد عمران خان خود عوام کی پریشانیوں کے بارے میں غور و فکر کرنے اور عوام کی سہولت کا کوئی راستہ نکالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس سیاسی بے حسی کا بدترین مظاہرہ گزشتہ دنوں خیراتی پروگرام احساس کے تحت سرکاری لنگر شروع کر کے کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اس اقدام کو اپنی ’غریب دوستی‘ سمجھتے ہیں تاکہ وہ یہ دعویٰ کرسکیں کہ وہ بھوکوں کو سرکاری لنگر سے کھانا فراہم کر کے دراصل غریبوں کے لئے اپنے کرب و پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ان کے مسئلہ کو بہر صورت حل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی نیت سے اکثر و بیشتر یہ اطلاع بھی سامنے آتی رہتی ہے کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں روٹی سستی کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملک کا وزیر اعظم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ روٹی کے علاوہ بھی عام شہری کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں۔ اور یہ کہ خیراتی منصوبے شروع کرنے سے نہ ملک کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور نہ ہی عام لوگوں کے مالی مسائل کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں کاروبار ٹھپ ہونے اور صنعتیں بند ہونے کی خبریں روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہی ہیں۔ عمران خان اب حکمرانی کے دوسرے برس میں داخل ہو چکے ہیں، لہذا سابقہ حکومتوں پر سارا ملبہ ڈالنے کا حربہ بھی کارگر نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے خارجہ شعبہ پر توجہ مبذول کرکے کبھی کشمیر کی آزادی اور کبھی برادر اسلامی ملکوں میں بھائی چارے اور مفاہمت کے مشن کو بحث کا موضوع بنا کر، عام لوگوں کو روزمرہ زندگی میں درپیش مسائل سے گریز کی کوشش ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم آج ایک روزہ دورہ پر تہران گئے تھے جہاں انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعہ حل کروانے کے لئے ’ سہولت کار‘ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ واضح رہے عمران خان اقوام متحدہ کے دورہ کے دوران سے یہ کہتے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ان سے ایران کے ساتھ ثالثی کروانے کے لئے کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کے ڈھنڈورچیوں نے یہ تاثر عام کرنا شروع کردیا تھا کہ عمران خان چونکہ اسلامی دنیا کے ’قد آور‘ لیڈر ہیں، اس لئے وہ دو اسلامی ممالک کے درمیان مصالحت کروانے کی غرض سے ثالثی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے موجودہ دورہ ایران اور اس کے بعد سعودی دورہ کے حوالے سے بھی یہی تاثر عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنے والے مبصرین اس کے برعکس مسلسل یہ استفسار کرتے رہے ہیں کہ عمران خان کس حیثیت میں مشرق وسطیٰ کے ان اہم ملکوں کے درمیان ’ثالثی‘ کروا سکتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی سعودی عرب پر انحصار کرتی ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں سعودی عرب سے مالی معاونت لے کر پاکستان کی خود مختار حیثیت پر مزید سودے بازی کر لی گئی ہے۔ تہران میں صدر حسن روحانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی بات نہیں کرتے بلکہ ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انہیں کسی نے یہ کردار ادا کرنے کی دعوت نہیں دی بلکہ وہ خود اپنے ’جذبہ ایمانی‘ سے مجبور ہو کر یہ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ ملکی مسائل سے فرار حاصل کرنے اور اپنے عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد، اب خود کو مصروف رکھنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے مصالحت کروانے یا سہولت کار بننے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ عمران خان کو یہ اعتراف بھی کرنا پڑا ہے کہ نیویارک میں صدر ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ ثالثی کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ یہ استفسار کیا تھا کہ کیا پاکستان ایران کے ساتھ رابطے بحال کروانے میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدہ سے نکلنے کے بعد ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ ایران کو کسی طرح مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔ اس بارے میں ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہیں اگر ایران پر عائد کی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ آج عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں سعودی عرب کے حوالے سے بھی ایرانی صدر نے یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر دوسری طرف سے کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو ہم بھی مفاہمتی عمل میں پیچھے نہیں رہیں گے۔

ایران پابندیاں ختم ہوئے بغیر امریکہ سے بات چیت کرنے پر تیار نہیں اور نہ ہی سعودی عرب کی سخت گیر پالیسی کے ہوتے کوئی مفاہمانہ لب و لہجہ اختیار کرے گا۔ اس دوران امریکہ نے مزید تین ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام براہ راست تہران کو دھمکی دینے کے مترادف ہے۔ ایران اسے جارحیت ہی سمجھے گا۔ اس صورت حال میں عمران خان کے کہنے پر خطے میں کون سی مفاہمت کی امید پیدا ہو سکتی ہے؟

یوں بھی جس طرح کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق پر تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی لیڈروں کو سنکیانگ کے مسلمانوں کی صعوبتوں کا خیال نہیں آتا، اسی طرح عمران خان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے امکان کو ’ختم‘ کروانے کے جوش میں نہ یمن کے خلاف سعودی جبر اور ناروا جنگی کارروائی کا خیال آتا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت ترکی کی طرف سے شامی کردوں کے خلاف جنگ جوئی کو نامناسب اور غیر ضروری تشدد سمجھتی ہے۔ جس وقت مہذب دنیا کے لیڈر ترک صدر اردوان کو فون کرکے انہیں جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تو عمران خان نے فون کرکے صدر اردوان کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترک فوج کی طرف سے کردوں کی خوں ریزی مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام نہیں ہے؟ یمن اور شام میں جنگ کی صورت حال کے ہوتے مشرق وسطیٰ میں امن کی بات اور تنازعہ سے گریز کی خواہش، زمینی حقائق سے بے خبری کی بدترین مثال ہے۔

خام اور غلط بنیادوں پر کئے گئے ان اقدامات کے دوران ہی مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ لے جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ حکومت کو اپنی ساری توجہ اس مارچ کی طرف مبذول کرتے ہوئے ملک میں مصالحت اور ایک دوسرے کے لئے قبولیت کا ماحول پیدا کرنا چاہئے تاکہ اندرون ملک یک جہتی اور قومی اتحاد کی فضا استوار ہو سکے۔ پاکستانی وزیر اعظم مسلم امہ اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات پر تو پریشان ہیں لیکن وہ اپنی غلط پالیسیوں اور سیاسی ہٹ دھرمی کو تبدیل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ملک میں تصادم کا سنگین ماحول پیدا ہوچکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی استقامت، حکومت کی کمزور اور عاقبت نااندیشانہ پالیسی کا پردہ فاش کر رہی ہے۔ وزیر بدحواس ہیں اور ان کے بیان حکومت کے خوف کا پول کھول رہے ہیں۔ بہتر ہوگا عمران خان اگلے چند روز غیر ملکی دورے کرنے کی بجائے اسلام آباد میں بیٹھ کر اس ماہ کے آخر میں سکھر سے اٹھے والے طوفان کا سامنا کرنے یا اسے ٹالنے کی منصوبہ بندی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1328 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali