وزیراعظم بے بس کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے عوام اکثر بات کرتے ہیں کہ ہماری قوم ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔ کاش ایران کی طرح کوئی خمینی آئے جو ہزاروں بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کو سمندر میں پھینک دے یا انہیں سرعام پھانسیاں دے پھردیکھیں اس ملک سے جرائم اور بدعنوانی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیسے نہیں ہوتا۔ اور یہ باتیں ایسے لوگ بھی کرتے ہیں جو خود تو ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے مگر حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ انہیں چھیڑے بغیر ملک کا نظام ٹھیک کردے۔ آج ایک ایسا صاحب کردار مسند اقتدارپرلایا جاچکا ہے جو اپنی پوری زندگی صرات مستقیم پر چلتا رہا۔ وہ صادق اور امین اس ملک سے کرپشن، اقربا پروری، ملاوٹ، قتل و غارت، رشوت جیسے ناسور کا خاتمہ کرکے ریاست مدینہ کے قیام کی سرتوڑ کوششیں کررہا ہے۔ کبھی کہتا ہے 100 روز میں ملک سارے مسائل حل کردے گا بس قوم تھوڑا انتظار کرے۔ پھر کہتا ہے کہ ایک سال میں 70 سال کے مسائل تو حل نہیں ہو سکتے قوم بے صبری نہ ہو۔

وہ صاحب کرداربے بس کیوں ہیں؟ ہر ملک میں جا کر اپنے ملک کی کرپشن کی دہائیاں دیتا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین وقت ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ چین میں جا کرتقریرکرتا ہے کہ اس کے بس میں ہو تو پاکستان میں 500 لوگوں جیل بھیج دے۔ لیکن وہاں کا نظام ایسا ہے کہ وہ اپنی خواہشات پوری نہیں کرسکتا۔ ادھرملک کی سب سے طاقت ور شخصیت بھی چند نامور لوگوں کو طلب کرکے خبردارکرتی ہے ‘تم سمیت 5000 لوگوں کو مارنا پڑا تو ماردیں گے’۔ لیکن شاید وہ بھی بے بس ہیں۔ مارتے بھی نہیں۔ 5000 کو کیوں ملک کے کروڑوں لوگ کرپٹ ہیں سب کو مار دیں۔ تاکہ ایک ہی مرتبہ جان چھوٹ جائے۔ پھر قبرستانوں پر حکومت کریں۔

معاشی سائنسدان کسی ایک فارمولے پر ٹکتے نظر نہیں آتے۔ کبھی عوام کو روپے کی قدر گرا کربرآمدات راتوں رات دگنی تگنی کرنے والے ٹرک کی بتی کے ہیچھے لگا دیتے ہیں تو کبھی پاکستانیوں کی اربوں ڈالر کی بیرون ملک سرمایہ کاری یا لوٹ مار کی دولت واپس لانے کے جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا بہت مشکل کام ہے بلکہ اب بھی دولت باہر بھیجی جا رہی ہے۔

ایک سائنسدان نے حکومت کو خواب دکھائے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے چند سالوں میں ٹیکسٹائل کی برآمدات سالانہ 13 ارب ڈالر سے بڑھ کر26 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اور حیرت تو یہ ہے کہ اس جھوٹے سپنے کو ناتجربہ کار حکومت نے سچ مان لیا۔ جب عقل آئی تو اسی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پیچھے پڑ گئے اور شکایت کی اتنے سالوں کی مراعات کے باوجود ٹیکسٹائل کی برآمدات کیوں نہ بڑھ سکیں۔ تو بھائی یہ سب کچھ پہلے کیوں نہیں سوچا۔

معاشی سائنسدانوں نے حال ہی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں سے انڈسٹریل اور کمرشل صارفین کے بلوں کی تفصیل مانگ لی جس میں ‘حیرت انگیز انکشافات’ سامنے آئے کہ زیادہ تر صارفین ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ ایسے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے خلاف خوب پراپیگنڈا بھی کیا گیا۔ سب کو نوٹس جاری ہونا شروع ہوگئے۔ بعض کے میٹر کاٹ دیے گئے اور کہا گیا کہ اپنے این ٹی این نمبرزمہیاء کریں یا پھر فوری طور پر ٹیکس کے محکمے میں اپنی رجسٹریشن کروائیں۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ نکلا کہ ان میں سے زیادہ تر کمرشل یا انڈسٹریل جگہوں پر بجلی کے صارفین نے اپنی جگہ یا دکان کرائے پر دے رکھی ہے۔ جب وہ کاروبار ہی نہیں کررہے تو ٹیکس کس چیز کا ادا کریں۔ بلکہ وہ تو اپنا گزارہ کرایے کی رقم پر کر رہے ہیں اور ان میں چند کیس ایسے بھی ہیں جہاں مالکان خواتین ہیں۔ ان دکانوں اور جگہوں پر کاروبار کرنے والے حضرات تو پہلے ہی ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ ایسے افراد نے جب بجلی کے محکمے کے اہلکاروں کو بتایا کہ آپ ان کا این ٹی این نمبر لے لیں تو جواب ملا کہ جس کے نام پر بجلی کا میٹر اسی کا این ٹی این نمبر چاہئے۔ اب وہ مالکان اور کرایہ دار ایک نئی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ بہت سوں کے بجلی کے کنیکشن کٹنے کی وجہ سے کاروبار بند ہیں اوروہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر میں خوار ہو رہے ہیں۔

معیشت بہتری کی بجائے تنزلی کا شکار ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا اتنے سارے محاذ کھل تو گئے ہیں بند ہوتے ہوتے کتنی دیر ہوچکی ہو گی۔ ایک بڑی کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک حالات بے یقینی کا شکار ہیں جب یہ اضطرابی صورت حال ختم ہو گی تو کاروباربہترہونے میں دوسال کا عرصہ لگے گا۔

ابھی تک تو تحریک انصاف کے سپورٹرز کے پاس ایک ہی منطق بچا ہے کہ اور کچھ نہیں تو عمران خان احتساب تو کررہا ہے نہ۔ لیکن یہ احتساب کا عمل ایسے ہی نہیں چلتا رہے گا۔ معاشی بدحالی ایک ایسے مقام پر پہنچ رہی ہے کہ سیاسی اور معاشی استحکام لائے بغیر معیشت کا پہیہ چلانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ بیرونی سرمایہ کاری تبھی ممکن ہو گی جب ملکی سرمایہ کار تحفظ محسوس کرے گا۔

ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ رپورٹ کے مطابق کرپشن انڈیکس مین غزشتہ برس کے مقابلے میں پاکستان کی درجہ بندی مزید دودرجے خراب ہوئی پچھلے سال پاکستان 99ویں نمبر پر تھا اور اس برس 101 ویں پر۔ ہم بڑے فخر سے بتا رہے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی 10 بہترین افواج میں شامل ہے اور دوسری طرف انتہائی ندامت ہے کہ ہماری معیشت دنیا میں 110 ویں نمبر پرہے۔ اور پھر ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر دنیا ہماری بات اس لیے نہیں سنتی کیوں کہ ہم معاشی طور پر کمزور ہیں۔ یعنی عسکری طاقت معاشی طاقت کے بغیر بے سود ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک دفاعی اخراجات کم کرنے کی طرف ایک انچ نہیں بڑھے سوائے پچھلے بجٹ میں چند اعلی افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کے اعلان کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •