شادی کو غیر ضروری رسموں سے آزاد کرنا چاہئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی یوں تو زندگی کا ایک بہت حسین پہلو ہے اور فطرت انسانی ہے۔ شادی نام ہے مسرت کا۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کا گھر بس جائے اور وہ خوش و خرم رہے۔ مگر کچھ ہمارے اندر کے احساس کمتری نے اور کچھ معاشرے کی روش نے اس خوبصورت فریضے کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔

نکاح ماں با پ کا اپنی اولاد کے لئے ایک اہم فریضہ اور سنت چاہے کوئی سی بھی ہو ہر مسلمان کے لئے اس میں بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ چاہے وہ کسی کی طرف دیکھ کر مسکرانا ہو یا اچھے اخلاق سے پیش آنا ہو۔ ایک طرف مہنگائی نے سب کی کمر توڑ دی ہے تو دوسری طرف نمود و نمائش اور اعلیٰ سے اعلیٰ برینڈڈ چیزوں کی دوڑ میں سب ہی شامل ہو چکے ہیں۔

آج تک ہم معاشرتی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں بلکہ اب تو ہم اس ذہنی غلامی سے بہت خوش ہیں اور اس کو ترقی کا معیار سمجھتے ہیں۔ اتنا عرصہ انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ گزارنے کی وجہ سے ہم میں غیر ضروری رسم و رواج سرایت کرچکے ہیں۔ پہلے تو شادیوں میں مایوں، مہندی اور ابٹن کی رسوم کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور اس کے بغیر شادی کا تصور ادھورا تھا مگر اب تو انگریزوں کی بہت ساری رسومات کو ہم نے اپنے لئے فرض کر لیا ہے۔ گو کہ پہلے ہی سالگرہ اور اینی ورسی ہمارے رواج کا حصہ بن چکی ہیں لیکن اب تو برائیڈل شاور، بےبی شاور اور کیک کاٹنے سے لے کر مایوں، مہندی، ڈھولکی، میوزیکل نائٹ، مخلوط محفلیں، دولہا دولہن کا ڈانس، ریمپ پر واک اور روپے پیسے کا بے تحاشا و بے دریغ استعمال ہمارے یہاں شادیوں کی روایت بنتی جا رہی ہے۔

اس طرح کی لغویات صرف ہمارے وقت کا زیاں اور پیسے کی ہیں۔

لوگ دنیا دھکاوے کے لئے اور اپنے نفس کی تسکین کے لئے یہ بے جا نمود و نمائش کر تو لیتے ہیں مگر کئی برسوں تک اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ اکثر اتنی دھوم دھام  سے شادی کرنے کے کچھ ہی مہینوں بعد دونوں ہی فریقین میں علحیدگی ہو جاتی ہے اور لڑکی دوبارہ ماں باپ کی دہلیز پہ آکے بیٹھ جاتی ہے۔ طلاق کی ایک بڑی وجہ بھی یہی نمود و نمائش ہے کیونکہ دونوں فریقین یہی امید کرتے ہیں کہ جس طرح پہ روپے پیسے کی فراوانی تھی۔ بالکل اسی طرح آگے کی زندگی بھی عیش و آرام میں گزرے گی۔ لڑکی سوچتی ہے کہ میرا شوہر تو بہت اچھا کماتا ہے مجھے عیش و عشرت میں رکھے گا اور لڑکا سوچتا ہے کہ اگر کبھی تنگی ہوئی تو سسرال والے تو ہیں ہی۔ اور اسی وجہ سے دونوں کی خوش فہمیاں اور امیدیں اس رشتے کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

آخر ہم کب تک خود کو ان روایات کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے ؟ کب لوگ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں گے؟ کب شادی صحیح معنوں میں شادی ہوگی؟ کب شادی کی اصل روح کو سمجھ کر اس کو باعث مسرت بنایا جائے گا؟

آخر کب؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سمیہ سلطان کی دیگر تحریریں
سمیہ سلطان کی دیگر تحریریں