دوستی کا حسن برقرار رہنے دیجیے

دوست وہ جو مصیبت کے وقت کام آئے، سچا دوست خون کے رشتوں سے بھی بڑا ہوتا ہے، Brother from another mother، سچا دوست ہیرے کی مانند ہے جس کا اجالا زندگی کو روشن کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور ایسے بہت سے اقوال زریں ہم اپنے بچپن سے دیکھتے اور سنتے آئے ہیں اور ان اقوال کو نہ صرف سنا ہے بلکہ مشاہدہ کے ساتھ ساتھ جیا بھی ہے۔ حالانکہ اب زندگی کسی اور ہی ڈگر پر چل پڑی

Read more

ہم سفر کے سنگ خوبصورت سفر

”سنو عمرہ کرنے چلو گی؟“ ہمارے شوہر محترم نے آئینے میں بالوں کو برش کرتے ہوئے، ہم سے پوچھا، تو کچھ لمحے ہم حیرانی سے ان کی شکل ہی تکتے رہے۔ اپنی سماعتوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر حیرت اور خوشی کے سمندر سے ابھر کر ہم نے کہا، ”واقعی؟“

”ہاں نا! دیکھو، بات تو کی ہے ٹریول ایجنٹ سے۔ پہلے ہم ابو ظہبی اور دبئی جائیں گے، پھر چار دن وہاں رک کر ان شا اللہ مکہ جائیں گے۔ بس دعا کرو ویزا لگ جائے۔

اصل میں ان کا بچپن ابو ظہبی میں گزرا ہے۔ اور جہاں بچپن گزرا ہو وہاں کی یاد اکثر و بیش تر انسان کو ستاتی رہتی ہے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ہمیں بھی ایک دفعہ ضرور وہاں لے کر جائیں اور ہمیں بھی ان گلی محلوں کی سیر کروائیں، جہاں بچپن میں وہ کھیلا کرتے تھے۔ سوری محلے تو نہیں وہاں تو بلڈنگ اور فلیٹس سسٹم ہے۔ یہ محلے وغیرہ تو ہمارے دیسی علاقوں میں ہوتے ہیں۔

Read more

آپ اپنے ہی دام میں

”برخوردار کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو!“

”ارے میرے پیارے دادا جی، ہمارا سارا وقت صرف آپ کے لئے ہی تو ہے۔“ ثاقب جو بیڈ پر نیم دراز موبائل فون پہ چیٹنگ میں مصروف تھا، ایک دم ہی دادا جی کے دھاوا بولنے پر اچھل کر کھڑا ہوا۔ پھر شرارتی انداز میں آنکھ مارتے ہوئے (جلال الدین صاحب یعنی) اپنے ”پیارے دادا جی“ کو جواب دیا، جنہوں نے اس وقت واقعی جلالی انداز میں ثاقب کے لتے لینے شروع کر دیے تھے۔

”لاحول ولا قوۃ۔ اب یہ چھچھورے انداز، تم ہمیں بھی دکھاؤ گے؟“ دادا جی مزید غضب ناک ہو کر بولے، تو ثاقب دروازے سے ان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لایا۔ پھر بیڈ پر بٹھا کر، لاڈ سے ان کے کندھے پر سر ٹکا کر، گانا گانے لگا۔

Read more

آزادی: دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے

مومن کا وہ اندازباکمال کھو گیا اقبالؔ تیری قوم کا اقبال کھو گیا علامہ محمد اقبال ؒ بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں اس ایک لفظ کے بارے میں۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان ’آزاد‘ ہوا، ہم ایک ’آزاد‘ مملکت کے شہری ہیں، ’آزادی‘ ایک نعمت ہے۔ ۔ ۔ مگر سالہا سال سے پڑھنے اور سننے کے باوجود بھی آج تک اس لفظ کی روح سے شناسائی نہیں ہو پائی۔ کیونکہ کتابوں، ملی نغموں، تقریروں اور یوم آزادی کے حوالے سے

Read more

کالی بلی راستہ کاٹ گئی۔ ۔ ۔

”یار کہاں رہ گئیں تم؟ کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں تمھارا۔ ۔ ۔“ نائلہ نے کال ملتے ہی جھنجھلا کر پوچھا۔ ”آ رہی ہوں، بس تم دروازہ کھولو میں پہنچنے والی ہوں“ ماہا نے پھولی ہوئی سانس میں جواب دیا اور کال کاٹ دی۔ نائلہ نے تیز نظروں سے موبائل کو گھورا جیسے اس میں سے ہی ماہا کو کچا چبا جائے گی اور موبائل پٹخ کر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی۔ ” بیٹھ جاؤ آرام سے بس

Read more

بچھڑنا مقدر تھا

” بیٹا تم ایک بار پھر سوچ لو اس بارے میں۔“ ”امی، جب مجھے اتنی جلدی شادی کرنی ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی دور جانا ہے تو پھر آپ کیوں زور دے رہی ہیں؟“ اریبہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ ” جلدی تو نہیں ہے خیر صحیح عمر ہے بیٹا یہ۔ گریجویشن بھی مکمل ہو گیا ہے اور ماسٹرز تو تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو۔ بلکہ جو بھی کرنا چاہو وہ کر سکتی ہو،

Read more

دوہرا معیار : معاشرتی نظام کے زوال کا ایک بڑا سبب

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک غیر مسلم چودہ سالہ لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ حاملہ ہوگئی۔ ایک چودہ سالہ لڑکی نے جب پریگننسی کی خبر اپنے بوائے فرینڈ کو سنائی تو وہ اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ مگر پھر بیٹے کے پیدا ہونے کے بعد اس لڑکی کو ایک نیا بوئے فرینڈ مل گیا۔ اور سترہ سال کی عمر میں وہ دوبارہ ماں بن گئی۔ آج کل وہ لڑکی اپنے بوئے

Read more

مجبوریوں کا سودا: سب سے منافع بخش کاروبار

”سر پلیز یہ جاب میری مجبوری ہے مجھے یہ جاب دے دیں۔ “ لڑکے نے منت بھرے لہجے میں سامنے بیٹھے باس سے کہا۔ ”معاف کیجئے گا آپ اس پوسٹ کے لئے اہل نہیں ہیں۔ صرف تعلیم اور مجبوریوں کی بناء پر اگر ہم جاب دینے لگیں تو یہاں پر ہر دوسرا شخص برسر روزگار ہوجائے۔ تعلیم کی علاوہ تجربہ اور قابلیت بھی اہم ہے اور ویسے بھی دوسرے امیدوار آپ سے زیادہ تجربہ کار اور قابل ہیں۔ آپ جائیں

Read more

ہم تو دودھ کے دھلے ہیں

آدمی کو خدا نہ دکھلائے آدمی کا کبھی خدا ہونا۔ (احمد فراز) دیکھو فلاں تو ایسا نہیں ہے وہ تو بہت اچھا بچہ ہے فلاں کو دیکھو کتنے اچھے نمبروں سے پاس ہوتا ہے۔ ہم تو ایسے نہیں تھے بہت ادب آداب والے بچے تھے۔ آج کل تو کوئی لحاظ مروت ہی نہیں ہے۔ ہمارا دور تو بہت اچھا تھاتم لوگ پتہ نہیں کیسے اپنی زندگی گزاروگے۔ اُس کے بچے کو دیکھو کتنے اخلاق والا ہے۔ دل خوش ہو تا

Read more

میاں اور بیوی: ایک گاڑی، دو پہیئے

انسانی معاشرے کی بنیاد شوہر اور بیوی ہیں۔ دنیا میں پہلا قائم ہونے والا رشتہ اور خاندانوں کے پائیدار ملاپ کی ضمانت بھی یہی رشتہ ہے۔ عموماً یہی رشتہ سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ کیونکہ آج تک اکژیت یہ ہی سمجھ نہیں سکی کہ اس رشتے کی بنیاد کیا ہے، عزت، بھروسا، محبت، وفاشعاری یا اخلاص؟ ویسے اگر تمام اجزاء کو ہم وزن کرکے ازدواجی زندگی کی دیگ میں پکایا جائے تو نتیجہ خاطر خواہ برآمد

Read more

شادی کو غیر ضروری رسموں سے آزاد کرنا چاہئے

شادی یوں تو زندگی کا ایک بہت حسین پہلو ہے اور فطرت انسانی ہے۔ شادی نام ہے مسرت کا۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کا گھر بس جائے اور وہ خوش و خرم رہے۔ مگر کچھ ہمارے اندر کے احساس کمتری نے اور کچھ معاشرے کی روش نے اس خوبصورت فریضے کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ نکاح ماں با پ کا اپنی اولاد کے لئے ایک اہم فریضہ اور سنت چاہے کوئی سی بھی

Read more

لڑکی سے خاتون تک

”لڑکی کتنی ہی سمجھ دار کیوں نہ ہو، سسرال جا کے اسے پتا چلتا ہے کہ وہاں پر تو اس سے بھی زیادہ سمجھ دار لوگ موجود ہیں۔ “ ارے ارے آپ لوگ بالکل بھی یہ نہیں سمجھیے گا کہ خدانخواستہ میں خوش نہیں ہوں یا مجھ بیچاری پر بہت ظلم ہوتا ہے۔ الحمدللہ ہم اپنی سسرال میں بہت خوش ہیں۔ مگر وہ کیا ہے نہ کہ جناب سسرال تو سسرال ہوتی ہے، کچھ فرق تو اتا ہی ہے۔ شادی

Read more

شعور محتاج نہیں ڈگری کا

​علم اور شعور کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ علم اگر سمندر ہے تو شعور اس میں چھپے موتی کی طرح ہے۔ انسان جیسے جیسے اس سمندر میں اترتا ہے شعور کے موتی چننے لگتا ہے اور اپنا دامن بیش بہا انمول موتیوں سے بھر لیتا ہے۔ مگر جیسے جیسے وقت اور زمانہ بدل رہا ہے یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی متضاد ہوتی جارہی

Read more