سیرل کی سٹوری انڈے بچے دیتی رہے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wisi-baba\"بھول جائیں شہباز شریف کون ہے۔ رضوان اختر کون ہیں۔ سیرل المیڈا کی خبر پڑھیں۔ وہاں سے جہاں سے مسئلہ بنا۔ وزیر اعلی پنجاب ڈی جی آئی ایس آئی سے کہتے ہیں۔ پولیس جب کالعدم تنظیموں کو پکڑنے کے لئے ایکشن کرتی ہے۔ انہیں آپ کا ادارہ چھڑا لیتا ہے۔

ڈی جی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے۔ ایکشن کرتے ہوئے بس اتنا خیال رکھیں کہ مقبوضہ کشمیر میں غلط پیغام نہ چلا جائے۔ وزیر اعظم مداخلت کرتے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کو منع کرتے ہیں۔ انہیں بتاتے ہیں کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ ریاستی فیصلے کے تحت ہوا۔ یعنی سول ملٹری شامل تھے۔ اس کا الزام اب کسی ادارے یا اس کے سربراہ کو نہ دیں۔

وزیر اعظم نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی ڈیوٹی لگاتے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ملک کا دورہ کریں۔ ہر جگہ جائیں۔ سول انتظامیہ کو اعتماد میں لیں اور حکمت عملی طے کریں۔

یہ وہ خبر ہے جس پر سیرل المیڈا کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔

سول ملٹری قیادت کا پیر کے دن ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم آرمی چیف موجود تھے۔ اس اجلاس کا اعلامیہ بہت صاف اور واضح ہے۔ شدت پسندی کے خلاف جاری لڑائی کی قیادت فوج اور ایجنسی کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ اس اعلامیے کی دم یہ ہے کہ سیرل کی خبر پر کو نامناسب، غیر ضروری اور صحافتی اخلاقیات کے منافی وغیرہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

مان لیا خبر غلط تھی۔ یہ بہت ہی اہم ڈویلپمنٹ تھی کہ ایک وزیراعلی سول اداروں کے استعمال کی بات کر رہا ہے۔ ہمارا تو کیس ہی یہ ہے کہ جو کام پولیس کے کرنے کا تھا وہ اب فوج کر رہی ہے۔ جو عدالت نے کرنا تھا وہ بھی فوج کر رہی ہے۔ خارجہ امور والے فارغ بیٹھے ہیں اور وزارت خارجہ بھی خیر سے فوج نے ہی سنبھال رکھی ہے۔

اسی خبر میں سیکرٹری خارجہ کا بیان بھی دلچسپ ہے۔ سادہ الفاظ میں انہوں نے یہی بتایا کہ دنیا ہمیں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا کہتی ہے۔ ہم نے ایسا نہ کیا تو دنیا بھر میں کوئی ہمیں منہ لگانے کو تیار نہیں۔ ہماری بات کوئی بھی کوئی وقعت دینے کو تیار نہیں۔

\"cyril-almeida-567x407\"اس سرکاری طور پر جھوٹی خبر میں جو کچھ سیکرٹری خارجہ نے کہا، وہی سب کچھ رانا افضل نے قومی اسمبلی میں عوامی زبان میں کہا۔ رانا صاحب کشمیر کا مقدمہ لڑنے فرانس گئے تھے۔ وہاں سے تازہ تازہ عزت کرا کے آئے تھے۔ اسی وجہ سے قومی اسمبلی میں ان کے جذبات بالکل پاٹ گئے۔ ان کا بیان میڈیا میں نمایاں ہوتا رہا جس میں انہوں نے پوچھا تھا۔ یہی کہ حافظ صاحب کونسے انڈے دیتے ہیں جس کے لئے انہیں رکھا ہوا۔

بہت اچھا موقع تھا ٹویٹاں والی سرکار ایک ٹویٹ جاری کرتی۔ وہ ٹویٹ بتاتی کہ خبر غلط ہے لیکن ہم ویلکم کرتے ہیں اگر سول ادارے اپنا کام کرنے کو آگے آنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ جو ہوا ہے وہ کسی کو سمجھ نہیں آیا۔ اس خبر کے بعد ایک بار پھر آپریشن کی قیادت فوج کے ہی حوالے کر دی گئی ہے۔ یہ اچھا فیصلہ ہے۔ بہترین اعلان ہے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔

سیاستدانوں نے بہت ہوشیاری سے بغیر ایک لفظ بولے بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ سمجھنے والے ساری دنیا میں سمجھ گئے ہیں۔ خبر سچی تھی یا جھوٹی اب ساری دنیا اسے سچ ہی مانے گی۔ کسی کو کوئی شک تھا تو وہ سیرل المیڈا کو ای سی ایل پر ڈال کر دور کر دیا گیا ہے۔

سول قیادت نے بہت آرام سے دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ معاملات ان کے قابو میں نہیں۔ وہ تو ایک خبر تک کا اثر نہیں سنبھال سکتے۔ مظلوم محض ہیں۔ اس مظلومیت کا فائدہ وہ اب کپتان کے دھرنے سے بھی اٹھائیں گے۔ کپتان کا دھرنا بھی اک جلیبی سازش قرار پا جائے گا۔

حافظ صاحب کے خلاف جو کارروائی کئے بغیر ہی سول والے شیر بن رہے تھے۔ اب وہ کاروائی فوج کو کرنی پڑے گی۔ وہ سارے تاثر دور کرنے کے لئے جو وہاں قائم ہو گئے ہیں جہاں سے دباؤ آتا ہے۔

رہ گئے سیرل المیڈا تو ان کا شکریہ۔ وہ اپنی اس سٹوری کے بعد جس طرح سامنے آئے ہیں۔ اس سے پاکستان کے ہے بارے بہت سے تاثرات دور ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ احساس گہرا ہوا ہے کہ میڈیا جو کہنا چاہے کہہ لیتا ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں اتنی بھی کمزور نہیں۔ ان سے متعلق لوگ اچھی جگہوں پر ہیں۔ اس قابل ہیں کہ طاقت کے مراکز کو چیلنج کریں۔ اس کے باوجود آزاد پھریں کہ بہرحال قانون بھی کوئی ہے ملک میں۔ عدالت کام کر رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 401 posts and counting.See all posts by wisi

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments