ہانگ کانگ، کشمیر اور آمریت بمقابلہ جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہانگ کانگ تقریبا 150 سالہ عرصہ بطور برطانوی کالونی رہنے کے بعد 1997 میں برطانیہ سے  چین کے حوالے کیا گیا۔ اور اس اشتراک کی شرط ہانگ کانگ کا خصوصی درجہ قائم رکھنا تھا جو کہ “ایک ملک – دو نظام” کے تحت ہانگ کانگ کو آنے والے پچاس سال کے لئے ماسوائے دفاع اور خارجہ تعلقات کے مکمل طور پر خود مختاری دیتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہانگ کانگ نے چین سے جداگانہ قوانین برائے شخصی آزادی مرتب کیے جو کہ چینی قوانین سے مختلف ہیں۔ اپریل 2019 میں ہانگ کانگ  نے ایکسٹراڈیشن بل کے نام سے نیا قانون متعارف کروایا۔ جس کے تحت ہانگ کانگ اور دوسرے ممالک جیسے چین، مکاؤ اور تائیوان وغیرہ کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا ضابطہ کار طے کیا جانا ہے۔ اگرچہ ہانگ کانگ میں جمہوری اصلاحات کے لئے 2014 سے امبریلا تحریک کے تحت احتجاج کیے جارہے ہیں لیکں حالیہ ایکسٹراڈیشن بل نے ہانگ کانگ کے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کیونکہ وہ اس بل کو ہانگ کانگ کی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہانگ کانگ میں پچھلے کئی مہینوں سے احتجاج جاری ہیں۔

دوسری طرف کشمیر کے مہاراجہ نے 1947 میں انڈیا کے ساتھ الحاق ان شرائط کے ساتھ کیا تھا کہ کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو قائم رکھا جائے گا اور کشمیر کا اپنا آیئن اور قانونی ڈھانچا ہو گا۔ بھارتی حکومت نے یہ شرائط مان کر آئین میں آرٹیکل 370 کو شامل کرتے ہوئے کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ یہاں یہ واضح رہے کی ہم صرف مسئلہ کشمیر کی خودمختاری بروئے بھارتی آئین کی شق نمبر370 کی حد تک بات کر رہے ہیں اور اس الحاق کی قانونی و تاریخی حیثیت زیر بحث نہ ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہو ئے کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کر دیا اور کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مزید بھارتی فوج تعینات کردی۔ لوگوں کو گھروں میں محصور کرتے ہوئے انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروسز معطل کردیں علاوہ ازیں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو بھی کشمیر میں جانے اور صورت حال کی رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اورتمام سیاسی و سماجی قائدین کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو قید کردیا گیا ۔ تاکہ بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف ممکنہ احتجاج کی لہر کو دبایا جاسکے۔

ہانگ کانگ میں تقریبا چار ماہ سے ایکسٹراڈیشن بل کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن چینی حکومت نے نہ ہی ہانگ کانگ میں کرفیو نافذ کیا ہے اور نہ ہے احتجاج کرنے والوں کو پکڑ کر جیل میں ڈالا جارہا ہے۔ بلکہ بینی تائی اور جوشوا وانگ  جو کہ سیاسی لیڈر ہیں کو احتجاج کے دوران جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ جب کہ کشمیری مظاہریں پر دنیا کی سب سی بڑی جمہوریت پیلٹ گنز استعمال کر رہی ہے اور کمیونیکیش کے تمام ذرائع بند کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کردیا گیا ہے تا کی دنیا کو اصل صورت احوال کا اندازہ نہ ہو سکے۔ ہانگ کانگ میں ایک لمحے کے لئے بھی انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی جب کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئی ہیں۔ اور 2 ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو نافذ ہے جس وجہ سے کشمیر میں انسانی مصائب میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ اور شہری بنیادی حقوق تو ایک طرف، بنیادی ضروریات زندگی تک سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا جہاں کمشیر کو زمینی دوزخ اور جیل قرار دے رہا ہے وہی بھارتی میڈیا حکومت کے شدید دباؤ کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے اور کشمیر میں سب اچھا کا راگ الاپ کراپنی رہی سہی ساکھ بھی تباہ کرنے پر تلاہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کے اس تعصب اور حکومتی موقف کی ترویج کی وجہ سے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارتی ذرائع ابلاغ زوال پذیر ہو کر 140 ویں درجے پر پہنچ چکا ہے۔ جبکی ہانگ کانگ کی صورت احوال کو عالمی میڈیا پوری آزادی کے ساتھ دکھا رہا ہے اور صحافیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ ہے۔

بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے۔ انھوں نے کشمیر میں عملا مارشل لا نافذ کیا ہوا ہے جب کہ ہانگ کانگ کی عوام کو  جمہوریت نہ ہو نے کے باوجود تمام جمہوری حقوق کا تحفظ حاصل ہے۔ بھارتی جمہوریت دراصل فاشزم اور آمریت کی ایک شکل ہے۔ اور جمہوریت کی آڑ میں فاشزم کے تمام تر ہتھکنڈے کشمیریوں پر آزمائے جارہے ہیں۔ عالمی برادری کی کشمیر کی شدید سنگین صورت احوال پر مسلسل خاموشی بہت بڑے انسانی المیہ کو جنم دینے جارہی ہے۔ اور جس طرح ہانگ کانگ کے عوام کی خودمختاری اور حقوق کی تحفظ کے لیے امریکا اور یورپ کوششیں کر رہے ہیں ویسے کی کشمیر کے لیے بھی کرنی چاہیے۔ کیوں کہ کمشیر کا مسئلہ ہانگ کانگ سے زیادہ نازک اور خطرناک ہے۔ جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔

بھارتی جمہوریت سے چینی آمریت ہزار گنا بہتر ہے جہاں انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے عوام کو آزادی رائے اظہار کا حق دیا گیا ہے جب کہ بھارتی جمہوریت کی اصل تصویر کشی بھارتی لکھاری سوزانا اروندتی رائے کے مطابق کچھ اس طرح ہے:
’’بھارتی جمہوریت ایک مذاق ہے اور اگر آپ قصاب ہیں یا مسلمانوں کی نسل کشی کر سکتے ہیں تو آپ کے انتحابات جیتنے کے واضح امکانات ہیں‘‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •