کچھ باتیں جیل کے قیدی کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونان، 399 قبل مسیح۔ جیل کا ایک منظر۔ صبح کا وقت ہے، سقراط قید خانے میں سو رہا ہے، اچانک اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ سامنے اُس کا دولت مند دوست کریٹو (Crito)بیٹھا ہے، سقراط اُس پوچھتا ہے کہ تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا، کریٹو کہتاہے کہ تم گہری نیند میں تھے، میں نے سوچا کیوں تمہارے سکون کے لمحات کو برباد کروں، آخر بیدار ہو کر تم نے ایک ہولناک صورتحال کا سامنا ہی تو کرنا ہے۔ کریٹو اِس بات پر حیران ہے کہ سزائے موت سنائے جانے کے باوجود سقراط کے چہرے پر رتی برابر بھی خوف یا پشیمانی کے اثرات نہیں ہیں بلکہ وہ بالکل پُر سکون ہے۔

سقراط، کریٹو کے جذبات بھانپ لیتا ہے اور مسکرا کر کہتا ہے کہ اِس عمر میں موت سے خوفزدہ ہونا دانشمندی نہیں ہو سکتی اور پھر کریٹو کے آنے کا سبب پوچھتا ہے۔ کریٹو اسے بتاتا ہے کہ اُس نے جیل کے کچھ اہلکاروں کو رشوت کا لالچ دے کر سقراط کی رہائی کا بندوبست کر لیا ہے، وہ سقراط کی منت سماجت کرتا ہے کہ وہ جیل سے بھاگنے پر راضی ہو جائے ورنہ لوگ کہیں گے کہ کریٹو نے اپنے دوست کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سقراط جواب میں کہتا ہے کہ مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں کہ وہ کیا کہتے یا سوچتے ہیں، سچائی بالآخر آشکار ہو کر رہتی ہے، یہ ہماری غلطی ہے کہ عمومی رائے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں جبکہ عمومی رائے کبھی بھی کسی انسان کے کردار یا اُس کے اقدار کوتبدیل نہیں کر سکتی۔

سقراط کی باتیں سُن کر کریٹو کہتا ہے کہ کیا وہ محض اپنے دوستوں کو بچانے کی خاطر جیل سے فرار ہونے کو تیار نہیں، اگر یونان کے حکام کو اس بات کی بھنک بھی پڑ گئی کہ ہم لوگ تمہیں بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں تو وہ ہماری جائیدادیں ضبط کر لیں گے، سو خدا کے لیے مان جاؤ، جیل سے چھوٹنے کے بعد تم کہیں بھی جا سکتے ہو، تمہارے چاہنے والے تمہیں سر آنکھوں پہ بٹھائیں گے، یہ بات ہر گز قابل قبول نہیں کہ تمہاری زندگی یوں ختم ہو جائے، ابھی تم کچھ برس اور جی سکتے ہو اور لوگو ں کو دانائی کی تعلیم دے سکتے ہو، تمہیں چاہیے کہ اپنی یہ ذمہ داری نبھاؤ، یہی اُس تقوی کا تقاضا ہے جس کے بارے میں تم ساری زندگی تبلیغ کرتے رہے ہو۔

سقراط اطمینان سے کریٹو کی باتیں سنتا ہے اور پھر اُس سے سوال پوچھتا ہے کہ کیا یہ بات درست ہے کہ کچھ لوگوں کی رائے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہوتی ہے؟ کریٹو اِس بات کا جواب اثبات میں دیتا ہے۔ پھر سقراط کہتا ہے کہ عام لوگوں کے مقابلے میں ہم اپنے قابل اساتذہ کی رائے کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں کیونکہ عام لوگوں کے پاس وہ علم نہیں ہوتا جو استاد کے پاس ہوتا ہے، مثلاً اگر ہم کسی ایسے شخص کا مشورہ مانیں جو صحت اور خوشحال زندگی کے اصول جانتا ہو تو لا محالہ ہماری زندگی میں شادمانی بھر جائے گی، لیکن اگر ہم ویسی عادتیں اور خصائل اپنا لیں گے جیسی کسی جم غفیر میں لوگوں کی ہوتی ہیں تو پھر صحت مند زندگی کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی، اسی طرح جس شخص کی ذہنی اور اخلاقی قدریں پامال ہو چکی ہوں اس کے لیے زندگی بے معنی بن کے رہ جاتی ہے، اس بے معنی زندگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آفاقی اخلاقی معیار کے مطابق زندگی بسر کریں نہ کہ ہجوم کے نقش قدم پر چلیں چاہے اُن کے ہاتھ میں ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ ہی کیوں نہ ہو!

سقراط اور کریٹو کے درمیان یہ مکالمہ افلاطون نے قلم بند کیا ہے، یہ مکالمہ انصاف اور بے انصافی کے تصور کی تشریح کرتا ہے، کریٹو اور سقراط کی بحث اس نکتے پر ہے کہ کیا بے انصافی کا جواب قانون شکنی سے دینا درست ہے یا نہیں، سقراط کی نظر میں بے انصافی کے جواب میں قانون شکنی بے انصافی ہی کی دوسری شکل ہے جس کی توجیہ نہیں دی جا سکتی جبکہ کریٹو کا استدلال یہ تھا کہ زہر کا پیالہ پینے کی صورت میں سقراط ایک طرح سے بے عدل حکمرانوں کی خواہش پوری کرے گا۔

سقراط کا کہنا تھا کہ قوانین ایک اکائی کی شکل میں ہوتے ہیں، کسی ایک قانون کو توڑنے کا مطلب تمام قوانین کو توڑنا ہے، ہر شہری ریاست کے قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، بجائے اِ س کے کہ میں قانون توڑ کر جیل سے فرار ہو جاؤں مجھے چاہیے کہ میں قانون کو قائل کروں کہ مجھے رہا کرے، یہ قوانین ایک سوشل کنٹرکٹ کے تحت شہریوں کو اُن کی ذمہ داری نبھانے پر مجبور کرتے ہیں، یونان میں رہنا قبول کر کے شہریو ں نے اِن قوانین پر مہر ثبت کی ہے لہذا وہ اِن پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اور مجھ پر بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ میں اِن قوانین کا احترام کروں آخر میں نے ستّر برس تک یونان میں ایک خوشحال زندگی بسر کی ہے۔ سقراط کی دلیل یہ تھی کہ اگر وہ خود جیل توڑ کر قانون شکنی کرے گا تو پھر وہ کس منہ سے لوگوں کوسوشل کنٹرکٹ کی پاسداری کی تلقین کرے گا جو وہ تمام عمر کرتا آیا ہے سو وہ کریٹو کو قائل کر لیتا ہے کہ جیل سے بھاگنا درست فعل نہیں۔

یہ ایک طویل بحث ہے کہ کیا اُن قوانین کا احترام بھی کیا جانا چاہیے جو برے قوانین ہیں، مثلا ایک زمانے میں غلامی بھی قانونی تھی، نازی جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی بھی قانونی تھی، عورتوں کو کمتر رکھنا بھی قانونی تھا اور سیاہ فام لوگوں کو تیسرے درجے کا شہری بنانا بھی قانونی تھا۔ تو کیا سقراط کی تھیور ی کے مطابق ایسے تمام قوانین پر بھی سر جھکا کر عمل کرنا چاہیے یا ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا چاہیے؟ اِس تناظر میں افلاطون کے لیے یہ مکالمہ لکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا، ایک طرف اُس کے استاد کا نظریہ تھا کہ قانون توڑنا کسی صورت بھی درست نہیں اور دوسری طرف یونان کے حکمران تھے جو اُن قوانین کو لاگو کر کے سقراط کے ساتھ بے انصافی کر رہے تھے، سو مسئلہ یہ تھا کہ کیسے قوانین کے ایک مجموعے کو اُن لوگوں سے علیحدہ کرکے پرکھا جائے جن پرقوانین کو لاگو کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ریاست کے اہلکار چاہتے تھے کہ سقراط کو سزائے موت دی جائے، ایسے میں انہیں اُن قوانین کا سہارا بھی مل گیا جو اُن کی خواہش کی تکمیل کر سکیں۔ اب اگر قانون اور یونان کے حکمران دونوں نے مل کر یہ طے کر لیا کہ سقراط سزائے موت کا حقدار ہے تو پھرکیا یہ سمجھا جائے کہ قانون پر درست عمل ہوا؟ دراصل افلاطون اِس مکالمے میں ہمیں سقراط کے تصور قانون و انصاف سے روشناس کروا رہا ہے اور سمجھا رہا ہے کہ ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان ایک عہد نامہ ہوتا ہے جس کی پاسداری ہر حالت میں کی جانی چاہیے۔

مغرب نے اسے سوشل کنٹریکٹ کا نام دیا ہے، اِس سوشل کنٹریکٹ کو بعد میں جدید ریاست میں آئین کہا گیا اور اسے وہاں اتنا ہی احترام دیا گیا جتنا آسمانی صحیفوں کو دیا جاتا ہے۔ سقراط نے یہ بات زہر کا پیالہ پی کر آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے سمجھائی تھی، مغرب نے سمجھ لی، اسی لئے وہاں آئین اور قانون کے احترام کی وہ شکل آج موجود ہے جس پر ہم رشک کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے اٹھے بیٹھے سوال کرتے ہیں کہ وہ لوگ قانون پر اتنا عمل کیسے کروا لیتے ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ ہر چوک میں ایک پولیس والا بھی کھڑا کر دیں تو پہلا سوال یہ اٹھے گا کہ اُس پولیس والے سے قانون پر کون عمل کروائے گا!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 351 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada