سیاستدان تو غلام احمد بلور بھی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس عہد ستم کا المیہ دیکھیں کہ جب بے ضمیر کرداروں، بازاری زبانوں اور کذب بیانی کے ماہر ٹولے سیاسی بساط پر ایک بے حیا تاریخ کو بُن رہے ہیں، وہیں نا پید ہوتے عہد کا ایک ایسا سیاستدان اب بھی باقی ہے جو نہ صرف شرافت، وفا شعاری اور جمہوری جدوجہد کا ایک تابندہ کردار ہے بلکہ کبھی سیاست میں قربانیوں کی تاریخ کھلی تو بلاشبہ میر قافلہ بھی وہی ٹھرے گا۔  شاید یہ بات تو ایک دُنیا جانتی ہے کہ اس گھر سے روز روز لہولہان لاشیں اُٹھتیں اور اس کے آنگن کو تسلسل کے ساتھ ویران اور مغموم کرتی رہیں لیکن دُنیا شاید یہ نہیں جانتی کہ مدتوں پہلے سیاست اور دکھ اکھٹے ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے (آگے اس کا ذکر آئے گا) اور ابھی تک وہاں آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں۔ یعنی اس بڑھاپے میں بھی جب ان کی عمراسّی سال سے اُوپر ہونے کو ہے اور وہ عصا کے سہارے چل پھر رہے ہیں اسی طرح متحرک اور فعال ہیں جس طرح وہ عشروں پہلے تھے۔ اپنے حلقے میں تو کیا دور دراز کے علاقوں میں کوئی جنازہ تو درکنار، کوئی بیمار پرسی تک نہیں چھوڑتے کہ وضع داری عمر بھر کا اثاثہ ہے۔ ان کے گھر کا وہی آنگن لوگوں سے اب بھی بھرا رہتا ہے جس آنگن سے وہ اپنے پیاروں کی لہولہا ن لاشیں اُٹھاتے رہے۔ اس بوڑھے لیکن وفا شعار اور دلیر سیاستدان کا نام غلام احمد بلور ہے۔

یہ نصف صدی پہلے کی بات ہے جب پشاور کے ایک امیر بزنس مین کے چار بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے غلام احمد بلور نے ولی باغ کا رُخ کیا اور پھر وہ دن اور آج کا دن نہ ولی باغ سے عقیدت ٹوٹی نہ عہد وپیماں پر حرف آنے دیا۔ پس منظر میں جھانکنے والے بوڑھے بلور کے گہرے دکھوں اور گھاؤ کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اس باب وفاداری میں وہ کونسی اذیت تھی جو اس نے اور اس کے خاندان نے نہیں سہی اور کونسی قربانی تھی جس کا اس نے اپنے خاندان سمیت سامنا نہ کیا۔

1974 میں نوجوان بلور پارٹی کا صوبائی صدر بنا اور اس کے ایک سال بعد سینٹ کا ممبر بنا تو زیرک اور دور اندیش بھٹو کی نظروں میں آیا۔ چند دنوں بعد پیپلز پارٹی میں آنے کے ساتھ ساتھ ایک تگڑی وزارت کی آفر بھی دے دی لیکن غلام احمد بلور کا سیاسی کعبہ ولی باغ ہی رہا، لاڑکانہ نہیں بنا۔

چند دنوں بعد گورنر سرحد حیات محمد خان شیرپاؤ کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت ہوئی تو غلام بلور کو حکم عدولی کی سزا ملنی شروع ہوئی اور وہ اپنے تینوں بھائیوں سمیت گرفتار کر لئے گئے (غلام بلور کے تینوں بھائیوں کا اس وقت سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا)۔ پشاور ڈی آئی خان، ہری پور اور اڈیالہ جیلوں میں چاروں بھائی الگ الگ پابند سلاسل تھے۔ ایسے میں غلام بلور کو جیل میں خبر ہوئی کہ والد کے بنائے ہوئے مشترکہ گھر پر ایف ایس ایف (فیڈرل سیکیورٹی فورس ) نے قبضہ کر لیا ہے اور بچوں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے جبکہ کاروباری مرکز کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

نوجوان بلور نے تاریک کوٹھڑی میں پیام بر سے صرف اتنا کہا تھا کہ سیاست کریں گے تو قربانیاں تو دینی پڑیں گی۔ تب انہیں کیا معلوم تھا کہ قربانیوں کی تاریخ طویل بھی ہوگی اور خونچکاں بھی۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد نیشنل عوامی پارٹی پر حیدرآباد ٹریبونل کی صورت میں بھٹو نے ایک اور قیامت ڈھا دی اور نیشنل عوامی پارٹی کی تمام قیادت مع ولی خان، افضل خان لالا، ارباب سکندر حیات، بزنجو، خیر بخش مری اور میر گل خان نصیر گرفتارکر لئے گئے تو نوجوان غلام احمد بلور بھی قافلہ طوق و سلاسل کا حصہ بنے تھے۔

ایک بار میرے گال پر شوخی کے ساتھ چٹکی لیتے ہوئے بوڑھے بلور نے کہا تھا کہ صرف پینتیس سال کی عمر میں میرے پاؤں میں ایک طرف بھٹو کی طاقت ور وزارت پڑی تھی اور دوسری طرف میرے گلے کے سامنے حیدرآباد ٹریبونل میں پھانسی کا پھندا لہرا رہا تھا لیکن نوجوان دیکھو کہ میں نے انتخاب کس کا کیا تھا؟ میں نے شدید حیرت کے ساتھ پوچھا کہ پھانسی؟

فورًاسنجیدہ ہو کر کہا کہ ہاں جنرل ضیاء، بھٹو کا تختہ نہ اُلٹتا تو ہم تیرہ لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا ہی تھا جن میں ولی خان بھی شامل تھے۔

خان عبدالغفار خان اور ولی خان کو غلام احمد بلور آج بھی اپنی سیاسی عقیدت سمجھتے ہیں لیکن نوابزادہ نصراللہ خان، مفتی محمود اور غوث بخش بزنجو کا ذکر کرتے ان کی آنکھیں تک بھیگ جاتی ہیں۔ 1990 کے الیکشن میں ایک طوفانی کیمپین چل رہی تھی کیونکہ بے نظیر بھٹو بذات خود بلور کے مقابل تھیں اور جب الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو بلور نے انہیں شکست دی تھی۔ پوری دُنیا کا میڈیا بلور کو گھیرے ہوئے تھا لیکن پوری مہم اور تاریخی جیت کے باوجود بھی ایک کمزور لفظ تک اس کے منہ سے نہیں نکلا کیونکہ بے نظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری اس کے قریب ترین دوستوں میں سے تھے اور اس وجہ سے آصف علی زرداری کو آج بھی اس گھر میں بھتیجے کا سٹیٹس حاصل ہے۔

حد درجہ دین دار غلام بلور بظاہر ایک سادہ مزاج آدمی ہیں لیکن سیاسی داؤ پیچ کے ایسے ماہر کہ باید و شاید۔ تبھی تو ان کے خاندان نے سترہ الیکشن لڑے اور کامیابی کا تناسب اسی فیصد رہا۔ اُنیس سو نوے میں وہ نواز شریف حکومت میں وفاقی وزیر ریلوے تھے اس دوران بے نظیر بھٹو نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو نواز شریف پر وہی کپکپی طاری ہوئی جو آج کل عمران خان پر طاری ہے، غلام احمد بلور اس دن پشاور میں تھے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا پیغام ملا کہ فوری طور پر اسلام آباد پہنچیں۔

شام کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس شروع ہوا تو وزیرداخلہ چودھری شجاعت حسین، اعظم ہوتی اور چودھری نثار سمیت تمام وزرا نے مشورہ دیا کہ لانگ مارچ نہیں کرنے دیا جائے لیکن نواز شریف نے سب کی بات سننے کے بعد خاموش بیٹھے بلور کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ بلور صاحب آپ کی کیا رائے ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میاں صاحب میری رائے ان سے مختلف ہے اور میں لانگ مارچ روکنے کے حق میں نہیں۔ سب نے مڑ کر حیرت کے ساتھ ان کی طرف دیکھا تو وزیراعظم نے بات واضح کرنے کو کہا۔ غلام احمد بلورنے وضاحت کردی کہ بے نظیر بھٹو کراچی سے نکلے گی لیکن وہاں سیاسی پلڑا ایم کیو ایم کا بھاری ہے اور وہ ہماری حلیف ہے۔ اس لئے ٹرین شام کو حیدرآباد پہنچے گی تو کچھ ہلا گلا ضرور ہوگا لیکن وہاں سے روانہ ہوگی تو اندرون سندھ سفر رات کے وقت ہوگا اس لئے دیہاتی سندھ میں رات کو بڑے مجمعے کا امکان کم ہے۔

 ٹرین اگلے دن صبح کے وقت پنجاب میں داخل ہوگی اور وہاں حکومت آپ ہی کی ہے۔ تاہم ملتان میں پیپلزپارٹی مجمع لگا سکتی ہے لیکن وہاں پہنچ کر میں خود ہینڈل کر لوں گا۔ وزیر اعظم نے غلام احمد بلور کی تجویز کی منظوری دے دی۔ مقررہ دن وزیر ریلوے غلام بلور بذات خود ملتان سٹیشن پر ریلوے کے مقامی دفتر میں موجود تھے اور ریلوے حکام کو ہدایات دیں کہ ٹرین کو چند منٹ تک روک کر فورًا آگے کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ کسی نے سوال اُٹھایا کہ کہیں کارکن طیش میں آکر ٹرین پر فائرنگ نہ کر دیں۔ بلور نے جواب دیا کہ یہ ناممکن بات ہے کیونکہ ٹرین میں ان کی لیڈر بیٹھی ہوئی ہے اور پھر ٹرین پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی اسلام آباد کی طرف بڑھتی رہی اور لانگ مارچ کمزور پڑتی رہی۔

بلور بھی ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتا اور اپنا سیاسی منصوبہ بروئے کار لاتا رہا حتٰی کہ کمزور پڑتے احتجاج سے مایوس بے نظیر بھٹو لالہ موسی میں ٹرین سے اتر کر جیپ میں اسلام آباد چلی گئیں اور ٹرین مارچ بغیر کسی خطرے کے اختتام کو پہنچا۔ دو دن بعد وزیراعظم نے کا بینہ کے بھرے اجلاس میں تمام ارکان سے کہا کہ بلور صاحب کی بصیرت اور تجربہ مشکل وقت میں ہمیں بہت فائدہ دے گیا۔ گویا سیاست، تجربے اور پختگی کی محتاج ہوتی ہے۔ زبان درازی اور دشنام طرازی کی نہیں۔

لیکن المیہ دیکھیں کہ زمانہ حال میں مؤخرالذکر ہی حاوی ہیں لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تاریخ میں ایسے لوگ تعفن اور بدبو کے سوا چھوڑیں گے بھی کیا؟ رہے غلام احمد بلور جیسے وضعداری، شرافت اور قربانی کے پیکر لوگ تو مستقبل میں مؤرخ کس شان سے لکھے گا کہ یہ وفاداری اور قربانیاں بھی سیاست کے اس عہد جہالت میں روشنی بکھیرتی رہیں جب سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھی ہوئی تھی۔

اورہاں ایک بات اور اگر سیاست کو بد نام کرنے کی خاطر سیاسدانوں کی کردار کشی ہی مطلوب ہے تو بے شک آپ اپنی کوشش کرتے رہیں لیکن اب لوگ ایک تعفن زدہ ٹاؤٹ اور سیاستدان کے فرق کو ایسی ہی وضاحت کے ساتھ سمجھنے لگے ہیں جس وضاحت کے ساتھ شیخ رشید اور غلام احمد بلور کی شخصیت اور سیاست کے فرق کو سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •