پاکستانی پاسپورٹ صومالیہ کے ہم پلہ۔ مگر ہمیں اس سے کیا غرض؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو چار دن پہلے ایک عالمی تحقیقی ادارے گلوبل پاسپورٹ پاور رینکنگ نے 2019 کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ ہر سال شائع کی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کسی ملک کا پاسپورٹ عالمی سطح پر کیا قدر و قیمت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر و قیمت کے یقین کے لئے بڑے سائنٹیفک پیمانے وضعکیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس ملک کا پاسپورٹ کتنا معتبر ہے۔ اس رپورٹ میں سب سے مضبوط پاسپورٹ سنگاپور کا قرار دیا گیا ہے۔  جس کا شہری دنیا کے 190 ممالک میں ویزے کے بغیر جا سکتا ہے۔

ایک سو سات ممالک کی اس فہرست میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نمبر 104 ہے۔ صرف تین ممالک ایسے ہیں جن کا پاسپورٹ ہم سے بھی زیادہ گیا گزرا ہے۔ ہم سے نیچے 105 نمبر پر شام، 106 نمبر پر عراق اور آخری یعنی 107 نمبرپر افغانستان ہے۔ یہ تینوں ممالک جنگوں اور خانہ جنگیوں کی چکی میں پس رہے ہیں، عدم استحکام کا شکار ہیں اور قتل و غارت گری کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔

 ان تینوں ممالک کے بارے میں دنیا کا تاثر یہ بھی ہے کہ یہاں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی پناہ گاہیں ہیں، جو ساری دنیا میں وارداتیں کرتے ہیں۔ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے بڑی حد تک دہشت گردی پر قابو پا چکا ہے۔ ہمارے پاس ایک طاقتور اور پیشہ وارانہ لحاظ سے بڑی مضبوط فوج ہے۔ ہمارے ہاں جیسا تیسا ایک جمہوری سیٹ اپ بھی ہے۔ ہم بائیس کروڑ آبادی رکھنے والا ایک بڑا ملک ہیں۔ ہمارا شمار دنیاکی سات ایٹمی طاقتوں میں ہوتا ہے۔

چند سال پیچھے چلے جائیں تو ہم دنیا کے بیشتر ممالک میں بغیر ویزہ چلے جاتے تھے اور ائیر پورٹ پر ہی اجازت نامہ مل جایا کرتا تھا۔ جبکہ اب یہ حال ہے کہ یورپ اور امریکہ تو رہے ایک طرف، خود اسلامی ممالک میں بھی ہمارا پاسپورٹ بے وقعت خیال کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہمارے نہایت ہی عزیز اور دیرینہ دوست، سعودی عرب نے چالیس سے زائد ممالک کو سہولت دی ہے کہ وہ آن۔ لائن ویزہ حاصل کر کے ”وزٹ“ کی غرض سے سعودی عرب آ سکتے ہیں۔ لیکن اس فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔

گلوبل پاسپورٹ رینکنگ کے لئے یقینا کوئی فارمولہ یا خصوصی پیمانہ وضع کیا گیا ہو گا۔ رپورٹ کی تفصیلات میں اس کا بھی ذکر ہو گا۔ لیکن ہمارے لئے سوچ کا سامان یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اتنا بڑا ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی ہم افغانستان، شام اور عراق کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے ساتھ 104 نمبر پر ہی ایک اور ملک بھی ہے، جس کا نام ہے صومالیہ۔ Henley and Partners Passport Index کے مطابق پاکستان اور صومالیہ کا پاسپورٹ رکھنے والے شہری دنیا کے صرف 31 ممالک میں بغیر پیشگی ویزہ جا سکتے ہیں۔

 شام کے لوگ 29، عراق کے شہری 27 اور جنگ زدہ افغانستان کے افراد بھی 25 ملکوں میں ویزہ کے بغیر جا سکتے ہیں اور انہیں ائیر پورٹ پر ہی ویزہ مل جاتا ہے۔ ہمارا مقابلہ عام طور پر بھارت سے ہوتا ہے۔ جس کا نمبراس انڈیکس میں 82 ہے اور بھارتی شہری 59 ممالک میں بغیر ویزہ جا سکتے ہیں۔ انڈیکس میں ہمارا نام ”دنیا کے بدترین پاسپورٹس“ (worst passports to hold) کی فہرست میں آتا ہے۔

پاسپورٹ صرف دوسرے ملک میں جانے کا اجازت نامہ یا دستاویز سفر ہی نہیں، کسی شہری کا اعزاز بھی ہوتا ہے۔ یہ اس کی شہرت کو ظاہر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دنیا اس کے وطن کو کیا مقام اور کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ہم نے معیشت، سرمایہ کاری، پرائیویٹائزیشن، کرپشن، منی لانڈرنگ، اثاثوں کی واپسی، ٹیکس اور جانے کن کن موضوعات پر بڑے بڑے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنا رکھی ہیں۔ لیکن شاید ہی کسی کو اس کی بھی فکر ہو کہ ہمارا پاسپورٹ اتنا کمزور کیوں ہے اور ا س کی تو قیر پست ترین سطح کو کیوں چھو رہی ہے۔

 شاید یہ مسئلہ ان لوگوں کے لئے اتنا سنجیدہ نہ ہو جو بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں اور جب سفر پر نکلتے ہیں تو انہیں ہوائی اڈوں پر پروٹوکول مل جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ویزا رکھنے کے با وجود یورپ اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر تلاشیاں کس طرح لی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیروں کی بھی توہین کی جاتی ہے۔ اسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے پاسپورٹ پر ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ بھاری فیسیں وصول کر لی جاتی ہے اور کسی نہ کسی وجہ پر ویزے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

 بعض اوقات تو یہ بھی ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ڈاکٹروں، انجینئروں، اور دوسرے شعبوں سے متعلق تعلیم یافتہ افراد کو بھی ویزے نہیں ملتے۔ حالانکہ ان کے پاس بیرونی جامعات یا تنظیموں کی طرف سے باضابطہ دعوت نامے بھی ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس ہمارے فارن مشن ویزے دینے میں بڑا کھلا دل رکھتے ہیں۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ”بلیک واٹر“ جیسی تنظیموں کے کارندے بھی یہاں دندناتے پھرتے ہیں۔

ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود احتسابی کی سوچ بھی نہیں رکھتے اور قدرت بھی نہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ ے عنی پاکستان اور پاکستانیوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ اگر اندازہ ہے بھی تو شاید یہ کوئی زیادہ سنگین مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری ہزار کوششوں، دلیلوں اور تقریروں کے با وجود یہ الزام ہمارے ماتھوں پہ چپکا ہوا ہے کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کا گڑھ ہیں۔ اب تو ہم نے اس بات کو کم از کم ماضی کی حد تک قبول کر لیا ہے۔

 دنیا کے لوگ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے مان لیا ہے کہ ایران میں بد امنی پھیلانے والے شر پسند پاکستان سے جاتے تھے۔ ہم نے مان لیا ہے کہ طالبان حتیٰ کہ ”القاعدہ“ کو بھی ہم نے تربیت دی۔ تو آج ہم ہزار دعووں کے با وجود اپنے اس ماضی سے تائب کیسے ہو گئے؟ ادھر ہمیں بھارت جیسے ملک سے پالا پڑا ہے۔ اس کی پروپیگنڈہ مشینری کا سب سے بڑا ہدف ہم ہیں۔ اس کے اندر بیسیوں تحریکیں اپنے حقوق اور آزادی کے لئے چل رہی ہیں۔

 کشمیری مسلسل آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ نوجوان نسل مزاحمت کی تحریک بن چکی ہے۔ لیکن بھارت اپنے ہاں ہونے والی ہر واردات کا الزام آنکھیں بند کر کے پاکستان پر لگادیتا ہے۔ اور دنیا ہمارے موقف کو اہمیت دینے کے بجائے اس الزام کو سچ مان لیتی ہے۔ ہم ابھی تک پوری طرح اس تاثر کو ختم نہیں کر سکے کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اب یہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ ہم نے پتہ نہیں کیا کیا کچھ کر لیا ہے۔

 دنیا کو مطمین کرنے کے لئے اپنے شہریوں پر کیا کیاپابندیاں لگا دیں لیکن فاٹف(FATF) کی تلوار اب تک ہم پر لٹکی ہوئی ہے۔ ہمیں یقین دلربا رہا تھا کہ اس بار ہم گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آجائیں گے۔ لیکن عالمی پریس اندیشہ ظاہر کر رہا ہے کہ ہم شاید بلیک قرار دے دیے جائیں۔ ان حالات میں اب ہماری وزارت خارجہ کی کوششیں وائٹ ہونے کے بجائے اس پر پرمرکوز ہو رہی ہیں کہ ہم ”گرے“ ہی رہیں اور بلیک قرار نہ دیے جائیں۔

ہمارا یہی تاثر ہمارے پاسپورٹ کی بے توقیری کا سبب ہے۔ ہمارے آتے جاتے حکمران کیا کیا دعوے نہیں کرتے لیکن دنیا میں ہماری عزت میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ کچھ عرصہ پہلے تک دنیا کی نظروں میں ہم انتہا پسند، دہشت گرد، اور فسادی تھے۔ اب اس فہرست میں یہ بھی شامل ہو گیا ہے کہ ہم زمانے بھر کے کرپٹ، بد عنوان، رشوت خود، منی لانڈر اور جرائم پیشہ ہیں۔ ایسے میں ہمارے پاسپورٹ کا افغانستان، عراق اور شام کے بعد صومالیہ کے ہم پلہ 104 نمبر پر کھڑے ہونا دکھ کی بات تو ضرور ہے، حیرت کی نہیں۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •