زوال پذ یر معیشت۔ خدا خیر کرئے!

تعلیم کا ایک نظریہ غیر رسمی تصور تعلیم کا ہے۔ یعنی وہ علم یا سوجھ بوجھ جو انسان درس گاہوں کی نصابی تعلیم سے ہٹ کر گھر، معاشرے، سماجی ماحول اور اپنے تجربات و مشاہدات سے حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غیر رسمی تعلیم، درس گاہوں کی نصابی تعلیم سے کہیں زیادہ گہرا نقش چھوڑتی اور بڑی دیر پا ہوتی ہے۔ آج کل میڈیا (بشمول سوشل میڈیا) اس غیر رسمی تعلیم کا نہایت ہی موثر آلہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ غیر رسمی تعلیم میں بھی کسی حد تک رسمی تعلیم کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔

Read more

کچھ اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں

دو روزہ اجلاس کے بعد ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بعض انتہائی اہم اور توجہ طلب باتیں کہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ 1۔ نیب اور پولیس کی طرف سے ملزموں کو ہتھکڑیاں پہنانا، پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ اس معاملے…

Read more

انتہا پسندی اور عدم برداشت

محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں دلیل کی قوت مر رہی ہے۔ رفتہ رفتہ مکالمے کی روایت کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو تسلیم کرنا تو درکنار، ہم اسے سننے اور سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ۔ ہمارے رویے کرخت اور مزاج ہٹ دھرم ہو چکے ہیں۔ اکثر و…

Read more

شعبہ تعلیم پر توجہ لازم ہے !

ہمارے ہاں شعبہ تعلیم سے متعلق معاملات اکثر زیر بحث آتے رہتے ہیں۔ مگر اس بار سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے اس جانب توجہ دلائی ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران جج صاحب کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بے تحاشا جامعات کھل…

Read more

ایک انسان کی خودکشی اور ”نیب“۔

پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر اسد منیر کی خود کشی نے، نیب کے حوالے سے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا یہ ادارہ بے لا گ اور غیر جانبدارانہ احتساب کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا اس کا کام محض لوگوں کی عزت نفس مجروع کرنا، الزامات لگانا اور پگڑیاں اچھالنا رہ گیا ہے۔ اس ادارے کو وجود میں آئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ دو دہائیوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسی روشن مثال ہو کہ اس ادارے نے واقعی کسی بڑی کرپشن کے خلاف کوئی ایسی موثر کارروائی کی جو ہر طرح کی سیاسی آلائش سے پاک تھی۔ حالیہ چند ماہ میں اعلیٰ عدلیہ بھی نیب کے بارے میں مسلسل منفی ریماکس دے رہی ہے۔ آئے روز اہل کاروں کی نا اہلیت کا رونا رویا جاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے لیکن حالات کار میں کوئی بہتری نہیں آرہی۔

Read more

پہل کون کرے؟

کیا ہر پاکستانی اب پوری طرح مطمئن ہے؟ کیا اب مستقبل کے بارے میں مایوسی اور بے یقینی ختم ہو گئی ہے؟ کیا معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو گئی ہے؟ کیا ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھل گئی ہیں؟ کیا روزگار کے مواقع عام ہو گئے ہیں؟ کیا سیاسی ماحول میں استحکام آگیا ہے؟ کیا پارلیمنٹ سمیت پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اپنے آئینی تقاضوں کے مطابق متحرک ہو گئے ہیں؟ کیا ہماری خارجہ پالیسی اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ ہمیں باہر سے کوئی سفارتی دباؤ نہیں رہا؟ کیا احتساب اب ہر طرح کے شکوک و شبہات سے پاک ہو گیا ہے؟ کیا قانون و انصاف کے بارے میں اب کسی سائل کو کوئی شکایت نہیں رہی؟ کیا مہنگائی کے عفریت کو لگام ڈال لی گئی ہے؟

Read more

صاحبان علم کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں

جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ کہ انہوں نے پروفیسر حضرات کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر از خود نوٹس لے کر کاروائی کا حکم دیا۔ چیف جسٹس صاحب نے ڈی ۔جی نیب کی اسقدر سرزنش کی کہ انکی آنکھیں بھر آئیں۔ڈی جی نیب نے چیف جسٹس سے معافی مانگی اور گرفتار اساتذہ سے…

Read more

حکومت کے شیریں اعلانات اور معیشت کے تلخ حقائق

 موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مالی امداد کی درخواست کر دی ہے۔ 1980ء کے بعد یہ چودہویں مرتبہ ہے کہ حکومت پاکستان آئی ۔ ایم ۔ایف کے پاس گئی ہے۔ قرض لے کر معیشت کی ڈوبتی نبضیں اور اکھڑتی سانسیں بحال رکھنا ہمارے ہاں معمول کا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ…

Read more

جھوٹ، الزام اور دشنام کی یلغار

  بلا شبہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ کسی بھی قسم کی معلومات درکار ہو، وہ ہمیں فوری طور پر دستیاب ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں…

Read more