ہمارے زرد بچے دھرنا دے دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

یہ بچہ اتنا زرد کیوں لگ رہا ہے۔ شاید خون کی کمی ہے۔ اسے کچھ کھلاتے کیوں نہیں ہو؟۔ ” ہم اس قسم کے جملے بار بار سنتے ہیں۔ اگر بچے کی قسمت خراب ہے تو ماں باپ بھی توجہ نہیں دیں گے۔ اگر وہ خوش قسمت ہے تو اس کی خوراک کچھ بہتر کریں گے یا کسی ڈاکٹر کو دکھا کر اسے دوائی دیں گے۔ لیکن بہت کم والدین یہ جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے ملک کا المیہ بن چکا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ خون کی کمی کی سب سے بڑی وجہ آئرن[Iron] کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بہت کم والدین جانتے ہیں کہ اگر جسم میں آئرن کی کمی ہو جائے تو اس کا صرف یہ اثر نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجہ میں خون کم ہو جائے گا بلکہ اس کے بہت سے اور اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

 جس بچے میں آئرن ور خون کی کمی ہو جائے، اس کی رنگت زرد ہو سکتی ہے۔ ایسا بچہ تھکا تھکا رہے گا۔ نشو نما ٹھیک نہیں ہو گی۔ بھوک ختم ہو جائے گی۔ ذرا سے بھاگے دوڑے گا تو سانس پھول جائے گی۔ مزاج بھی چڑچڑا ہوجائے گا۔ بار بار جراثیم کا نشانہ بنے گا اور بیمار ہو جائے گا۔ اور عجیب عجیب چیزوں کو کھانا پسند کرے گا۔ کبھی مٹی چاٹے گا اور کبھی دیوار سے پینٹ اتار کر کھانے لگ جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا بچہ روتے روتے اپنا سانس روک لے اور نیلا پڑجائے یا شاید اسی حالت میں کچھ دیر کے لئے بیہوش ہو جائے۔ اگر بچے کو جسم میں آئرن کی کمی ہے لیکن ابھی خون کی کمی شروع نہیں ہوئِ تو بھی ان میں سے کئی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر کو دکھا کر ایسے بچے کے ٹسٹ کرائے جائیں۔ اور اگر اسے خون یا آئرن کی کمی ہے تو اس کو آئرن دینا بھی پڑے گا اور خوراک بھی ٹھیک کرنی پڑے گی۔ یہ مسئلہ ہر عمر کے افراد میں پایا جاتا ہے۔

 بھارت میں ہونے والی ایک تحقیق میں سیکنڈری سکول کی بچیوں میں جائزہ لیا گیا کہ خون اور آئرن کی کمی کا تعلیمی کارکردگی اور یاداشت وغیرہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن بچیوں میں خون اور آئرن کی سطح نارمل تھی، ریاضی کے ٹسٹ میں ان کے نمبر ان بچیوں سے خاطر خواہ زیادہ تھے جن میں خون یا آئرن کی کمی تھی۔ وہ بچیاں جن میں خون اور آئرن کی سطح بہتر تھی اپنی توجہ ان بچیوں کی نسبت زیادہ بہتر قائم رکھ سکتی تھیں جن میں ان دونوں میں سے کسی کی بھی کمی تھی۔ نارمل بچیوں میں زبانی یاداشت اور آئی کیو(IQ) بھی ان بچیوں سے بہتر تھی جن میں خون یا آئرن کی کمی تھی۔ [ Anemia vol. 2013 (2013): 819136 ]

  انڈونیشیا میں ہونے والے ایک تجربہ سے معلوم ہوا تھا کہ جن بچوں کو خون کی کمی ہو اگر انہیں آئرن کی دوائی دی جائے تو کچھ عرصہ بعد سکول کے امتحانات میں ان کے حاصل کئے ہوئے نمبر بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جن کو آئرن کی کمی ہو ان میں خون کی کمی بھی ہو۔ یہ بھی ممکن کہ ایک معاشرے میں خون کی کمی بہت کم افراد میں موجود ہو لیکن آئرن کی کمی بہت زیادہ افراد میں موجود ہو۔ عبد السلام ریسرچ فورم نے ضلع چنیوٹ میں چند سکول منتخب کئے اور ان میں پریپ کلاس میں داخل ہونے والے بچوں کے خون کا معائنہ کیا۔ ان میں سے صرف 18 فیصد بچوں میں خون کی کمی تھی اور یہ ایک خوش کن بات تھی کہ اتنے کم بچوں میں خون کی کمی پائی گئی۔ لیکن جب آئرن کی سطح چیک کی گئی تو معلوم ہوا کہ 82 فیصد بچوں میں آئرن کی کمی تھی۔ یہ بچے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کر رہے تھے اور یہ کمی ان کی ذہنی صلاحیتوں کو کم کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔ یہ پہلو بہت تشویشناک تھا۔ ان بچوں کے والدین کو بلا کر لیکچر دیئے گئے اور انہیں متاثرہ بچوں کے بارے میں ہدایات دی گئیں۔ اور صرف تھوڑی سی محنت سے ایک دو سال میں صورت ِ حال بدل گئی۔ کہاں 82 فیصد بچوں میں آئرن کی کمی تھی اور صرف اتنی سے محنت سے یہ شرح گر کے 18 فیصد رہ گئی۔ اس تحقیق کا پہلا حصہ ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع بھی ہو چکا ہے۔  (Anemia Volume 2018, Article ID 8906258)

 خون اور آئرن کی کمی ایک عالمی مسئلہ ہے اور 2015 میں لگائے گئے ایک اندازہ کے مطابق دنیا کے دو ارب افراد اس کمی کا شکار ہیں۔ صرف پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیا کا خطہ سب سے زیادہ اس سے متاثر ہے۔ سب سے زیادہ بچے خون اور آئرن کی کمی سے نقصان اُٹھاتے ہیں۔ اب یہ جائزہ لتے ہیں کہ پاکستانی بچے کس حد تک خون یا آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ 2018 میں پاکستان کے نیوٹرشنل سروے کے مطابق پاکستان میں 53.7فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ شرح تشویشناک ہے۔ اسی سروے کے مطابق دیہات میں رہنے والے شہر میں رہنے والوں سے زیادہ اس کمی سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور صرف یہی تشویش کا پہلو نہیں کہ پاکستان کے نصف بچے خون کی کمی کا شکار ہیں، اس سے بھی زیادہ قابل ِ شرم یہ بات ہے کہ یہ شرح بہتر ہونے کی بجائے پچھلی دو دہائیوں میں بگڑتی رہی ہے۔ چنانچہ 2001میں 50.9فیصد بچوں میں خون کی کمی تھی۔ 2011میں 61.9فیصد بچے خون کی کمی سے متاثر تھے اور گذشتہ سال یہ شرح 53.7فیصد تھی۔ ہم بیس سال سے کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے ایٹم بنا لیا، میزائل بنا لئے لیکن اپنے بچوں کی خون کی کمی کا علاج نہیں کر سکے۔

 اس کےعلاج سے بہتر یہ ہے کہ اس مسئلے کو شروع ہی نہ ہونے دیا جائے۔ اگر پہلے چھ ماہ میں بچے کو صرف ماں کا دودھ دیا جائے تو خون اور آئرن کی کمی سے بچنے کا امکان زیادہ ہے۔ اگر چھ ماہ کی عمر میں صحیح طریق پر بچے کو ٹھوس غذا شروع کرا دی جائے تو بہت کم امکان ہے کہ بچوں کو خون کی کمی ہو سکے۔ اگر ہرچھ ماہ کے بعد بچوں کو پیٹ کے کیڑوں کی دوائی دے دی جائے تو اس مسئلہ سے بچنے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ خوراک میں گوشت میں آئرن زیادہ ہوتا ہے اور اس کے مناسب مقدار میں کھانے سے خون کی کمی ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دالوں، سویا بین اور مٹر میں بھی آئرن پایا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں تو وہ آپ کے بچے کی عمر اور حالت کے مطابق ایسی غذا تجویز کر سکتا ہے جس کے استعمال سے خون کی کمی نہ ہو۔

 اس مسئلہ پر آگہی مہم کے ذریعہ ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔ آج کل والدین کی زیادہ تر تعداد شام کو ٹی وی کے سامنے وقت گذارنا پسند کرتی ہے۔ آج کل پاکستان میں ایک اور دھرنے کی آمد آمد ہے۔ امید ہے کہ اگلے کچھ ہفتے روزانہ کئی گھنٹے کی نشریات اس دھرنے کے لئے وقف رہیں گی۔ اگر ان میں سے روزانہ صرف دس پندرہ منٹ کا وقت خون اور آئرن کی کمی اور اس کے حل کے بارے میں آگاہ کرنے پر صرف کیا جائےتو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ورنہ پھر یہی حل ہے کہ اسلام آباد میں ایک طرف فضل الرحمن صاحب اور ان کے ہمنوا دھرنا دیں اور دوسری طرف پاکستان کے بچے دھرنا دے دیں کہ آپس میں بعد میں لڑلینا۔ ہماری خون کی کمی تو ٹھیک کرو۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •