مولانا فضل الرحمن: تری جانب سے دل میں وسوسے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں مولانا فضل الرحمان فرما رہے ہیں کہ اگر آمریت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو آزادی مارچ کا رُخ ادھر موڑ دیں گے جہاں سے امریت کا منبع پھوٹتا ہے۔

پتہ نہیں وہ یہ کہتے ہوئے اپنا ماضی کیوں بھول گئے؟ انسان لاکھ کوشش کرے، ماضی سے پیچھا نہیں چُھڑا سکتا۔ ماضی کی یادیں خوف پیدا کرتی ہیں۔ خوف موجودہ لمعے کا نہیں ہوتا۔ خوف صرف جانے یا آنے والے کا ہوتا ہے۔ گزرے ہوئے زمانے کا خوف زمانے کا خوف دراصل آنے والے زمانے کا خوف ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے ماضی کی ناخوشگوار یادیں باقی ہیں۔ اس لیے خوف ہے کہ کہیں سارا کھیل اُلٹ نہ جائے اور مولانا صاحب جمہوریت وغیرہ بھول کر باب الحیل کے راستے کہیں اور نکل جائیں۔

کسی بھی انسان کی گفتگو پُراثر اس وقت ہو گی جو وہ کہہ رہا ہے اس پر عمل کر رہا ہو۔

روایت ہے کہ صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے پاس ایک بڑھیا اپنے بچے کو لے کر آئی کہ آپ اسے منع کریں یہ شکر بہت کھاتا ہے بابا فرید نے بڑھیا سے کہا اسے کل میرے پاس لے آنا میں اسے نصحیت کروں گا بڑھیا دوسرے روز اپنے بچے کو لے کر بابا فرید کے پاس گئی بابا بچے سے مخاطب ہوئے اور اُسے کہا بیٹا شکر نہ کھایا کرو بڑھیا بولی یہ بات تو آپ کل بھی کہہ سکتے تھے بابا بولے میں کل کس طرح کہتا کیونکہ میں نے خود شکر کھائی ہوئی تھی۔

دور کی بات نہیں۔ مولانا مولانا فضل الرحمن مشرف آمریت کے سیاہ دور میں اُن کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اُس وقت کے صوبہ سرحد اور آج کے خیبر پختونخواہ میں ان کی حکومت تھی۔ خود موصوف مرکز میں بحثیت اپوزیشن لیڈر مزے کر رہے تھے۔ آمریت کے پروردہ آمریت کی مخالفت کریں تو ہنسی آتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایم ایم اے ٹوٹنے کی وجہ بھی مولانا موصوف ہی تھے۔ مشرف دور میں جماعت اسلامی کے امیر مرحوم قاضی حُسین احمد نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ مشرف کی وردی اتروانے کا واحد حل اسمبلیوں سے استعفیٰ دینا ہے۔ ہم کے پی کے اسمبلی سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ مولانا انھیں طُرح دے گئے اور اس طرح ایم ایم اے ٹوٹ گئی۔ اکتوبر 2007ء میں آپ نے جس مہارت سے پرویز مشرف کے دوبارہ عہدہ صدارت کو یقینی بنایا ، وہ آپ ہی کے دست معجز کا کرشمہ تھا، ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔

مولانا کہتے ہیں کہ عمران خان استعفیٰ دے اور جعلی اسمبلیوں کو ہم نہیں مانتے۔ مولانا صاحب کی جماعت کے لوگ بلوچستان اور قومی اسمبلی کے ممبرز ہیں بلکہ بیٹے کو مذہبی امور قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بنایا ہوا ہے۔ آپ بسم اللہ کریں، اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی سے پہلے استعفیٰ دلوائیں، پھر اوروں سے مستعفی ہونے کے لئے کہیں۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ ن لیگ اس وقت واضع طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے ایک دھڑا چاہتا ہے کہ مارچ میں شرکت کی جائے جبکہ دوسرا اُس کا مخالف، مسلم لیگ ن کا ماضی اتنا تابناک نہیں، ن لیگ کے کچھ راہنما اس وقت بھی پچ کے دونوں اطراف کھیل رہے ہیں۔ شبہاز شریف کا بھائی جب لندن سے آیا تھا تو اُس وقت اُن کی گاڑی بوجوہ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک میں پھنس گئی تھی اور وہ بھائی کو لینے ائیرپورٹ نہ جا سکے تھے حالانکہ اُس وقت وہ مکمل صحت یاب تھے اور آج کل تو اُن کی کمر میں درد ہے۔ اُن کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل یہ کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی اداروں سے نہیں بلکہ عمرانی فسطائیت سے ہے اس لیے کارکن اپنی ساری توجہ اُدھر ہی رکھیں۔

پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں سندھ حکومت ہے۔ پارٹی کی قیادت پس زنداں ہے۔ وہ لڑنے کے موڈ میں نہیں کیونکہ ماضی میں اُنھوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا ایک بیان دیا تھا، بیان دینے کے بعد وہ دیار غیر میں اکیلے اینٹیں بجاتے رہے، اُن کی کسی نے مدد نہیں کی۔ یار لوگ کہتے ہیں، آج کل پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے “کرسُو کرسُو ڈیل کرسُو سندھ نہ دیسو”

مولانا صاحب، ہر کسی کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں۔ خود آپ کے ماضی کو سامنے رکھا جائے تو خوف آتا ہے کہ شاید آپ یہ نہیں کر سکیں گے جس کی توقع آپ دوسروں سے کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 88 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui