کون ہو تم



برسات کے دن تھے۔آسمان سے گرتی بارش کی ہلکی بوندوں نے ہر چیز سر سبز و شاداب اور نم کر دی تھی۔ آسمان پر چاند بھی پورا تھا اور برسات کے اس موسم میں بارش کی بوندوں کے ساتھ مزید بڑا اور روشن ہو گیا تھا۔آہستہ آہستہ بارش کی یہ بوندیں تیز ہوئیں اور ہر چیز بھیگنے لگی۔

عطا الحق جو اپنے کمرے میں موجود کھڑکی پر کھڑا یہ سارامنظر دیکھ رہا تھا، وہ سوچنے لگا کہ اس پر بھی کوئی افسانہ لکھا جائے۔ آسمان سے برس کر درختوں کے پتوں پر گرتی بارش کی وہ بوندیں جس کے سبب درختوں کی ٹہنیوں سمیت پتے بھی چھم چھم ناچ رہے تھے، یہ سب کچھ عطا الحق کو خوب بھا رہا تھا۔ وہ دیر تک کھڑا اس منظر کو اپنی آنکھوں میں سموتا رہا، جسے وہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتارنا چاہتا تھا، مگر وہ لکھتا بھی تو کیا؟

خالی بارش، ناچتی یہ ٹہنیاں اور آسمان پر اپنی تمام تر روشنی کے ساتھ چمکتا وہ چاند، یہ سب منظر اس کے دل کو لبھا رہا تھا، مگر کچھ تو کمی تھی۔ اس کی آنکھوں میں لکھنے کی وہ پیاس تھی جسے وہ اس منظر سے بھی بجھا نہ پا رہا تھا۔ عطا الحق نے سوچا کہ یہ منظر خدا کی خوب صورت تخلیق عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ کاش کہ اس بارش میں اس کی آنکھوں کے سامنے کوئی دوشیزہ بھیک کر خوش ہو رہی ہوتی۔ اس کے جسم پر وہ گیلے کپڑے جن پر سے بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی ہوں۔ یہ سب منظر لا فانی ہوتا، مگر ایسا کچھ موجود نہیں تھا۔ یہ تو اس کی خام خیالی تھی، لہذا اس نے کھڑکی بند کی اور اپنا چہرہ کمرے کی طرف موڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے کمرے میں زمین پر پڑا ایک گدا، جس کے ساتھ اس کی وہی میز پڑی تھی جس پر بیٹھ کر وہ یہ سب منظر قید کیا کرتا تھا۔ اس میز پر پڑی سگریٹ کی ڈبی، چند ٹکرے کاغذوں کے اور ایک ٹیبل لیمپ جس کی مدہم روشنی عطا الحق کے آدھے چہرے پر پڑتے ہی، اس کی دائیں جانب والی دیوار پر اس کا ادھورا عکس تراش رہی تھی۔ عطا الحق نے دیوار پر بننے والے اپنے ادھورے سائے کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا کہ یہ عکس بھی اس دل فریب موسم کی طرح ادھورا ہے۔ اس منظر نے اسے مزید اداس کر دیا۔

وہ بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر لکھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ کمرے میں رکھی اس میز پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا لکھے؟ کیا لکھے؟ پیار محبت پر کچھ لکھے یا اس منظر پر، جس کا وہ ابھی ابھی گرویدہ ہوا تھا؟ اچانک اس کے دل میں خیال آیا، کیا ہو گیا ہے اُسے؟ یہ پیار دنیا کی سب سے بے مروت چیز ہے، جس سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوا، اور یہ منظر جس سے میں متاثر ہوا یہ فانی ہی تو ہے۔ ابھی سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔
عطا الحق اسی کشمکش میں تھا کہ اچانک اس کے موبائل فون پر ایک ٹیکسٹ میسج آیا، جس میں صرف اس کانام لکھا تھا۔ عطا الحق نے پوچھا:
’’کون ہو تم‘‘؟
جواب آیا: ’’نہیں جانتی‘‘۔
اس نے پو چھا: ’’کہاں سے آئی‘‘؟
جواب آیا: ’’خود ڈھونڈ لو‘‘۔
عطاء الحق نے اجازت چاہی کہ میں تمھیں جاننا چاہتا ہون۔ تم پر لکھنا چاہتا ہوں اور تمھیں سمجھنا چاہتا ہوں۔
جواب آیا: ’’نہ سمجھو، الجھ جاو گے‘‘۔

وہ اس افسانہ نویس کو ہاتھ تھامے، اپنے اند ر بسنے والی دھندلی مگر خود ساختہ یادوں اور درد کے گرد گھما رہی تھی۔ مگر اس دھند کو ہٹا کر آئینہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی، جس کے اندر وہ قید تھی۔
’’کیا محبت کر تی ہو مجھ سے‘‘؟
’’انسان ہوں، ہو بھی سکتی ہے‘‘۔
عطا الحق نے ٹئپ کیا: ’’محبت کے بدلے محبت نہیں دے سکتا۔ نہ کرو۔ اس سے تمھیں تکلیف پہنچے گی‘‘۔
جواب آیا: ’’مجھے خود سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں دے سکتا‘‘۔
’’آخر کو ن ہو تم‘‘؟

اس سوال کے بعد وہ بہت دیر تک جواب کا منتظر رہا، لیکن دوسری جانب سے کبھی کوئی جواب نہ آیا۔ عطا الحق نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا۔ کوئی تکلیف تو تھی اسے۔ دھندلی مگر پختہ، شاید وہ لڑکی ایک کردار تھی۔ گہرا نیز رومانی کردار۔ اس نے افسانہ نگار کے ذہن کو ماوف کر کے رکھ دیا تھا۔ اس کے قلم کی سیاہی اس چند لمحے کی گفتگو کے بعد، مزید سیاہ اور کاٹ دار ہوتی جا رہی تھی۔ یہی افسانہ نگار چاہتا تھا۔

Facebook Comments HS