میاں بیوی کے”مثالی” تعلقات اور عالمی سفارت کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک دوست نے اپنے جاننے والے کا ایک شاہکار واقعہ سنایا۔ ایک محفل میں گھریلو ماحول کی بہتری اور میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی۔ صاحب کا دعوی تھا کہ اس کے گھریلو تعلقات انتہائی مثالی ہیں۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ غصہ ناراضگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس ہم میاں بیوی ایک چھوٹے سے اصول پر عمل کرتے ہیں۔

ہر کوئی چونک کر رہ گیا۔ کان کھڑے ہو گئے یہ راز کون نہیں جاننا چاہتا۔ ہر دل کی یہ خواہش ہے اور تقریباً ہر گھر کا یہی دیرینہ مسئلہ ہے۔ روٹھنا، منانا، اونچی آواز میں باتیں، غصہ، ناراضگی۔ موڈ آف ہر کسی کو کسی نہ کسی صورت حال کا سامنا کرنا ہی پڑ جاتا ہے۔ سبھی ہمہ تن گوش تھے۔ سانس روکے وہ راز وہ چھوٹا سا اصول جاننا چاہتے تھے۔ صاحب نے لمبی سی سانس لی اور انتہائی اطمینان سے گویا ہوئے۔ “دراصل ہم نے گھر کے اندرونی و بیرونی کام بانٹ لئے ہیں۔ گھر کے چھوٹے مسائل میری بیوی دیکھ لیتی ہے اور میں باہر کے بڑے مسائل دیکھتا ہوں ہم ایک دوسرے کے اختیارات اور کاموں میں مداخلت نہیں کرتے”۔ مزید وضاحت درکار تھی۔ سب ہی دم سادھے مزید سننا چاہتے تھے۔ صاحب نے دوبارہ لمبی سانس لی اور فرمانے لگے۔ “گھر کے اندرونی چھوٹے چھوٹے مسائل مثلاً اخراجات رہن سہن، لباس، کھانا پکانا۔ کہیں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کسی رشتہ دار سے ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فیصلے وغیرہ میری بیوی کرتی ہے۔ میں اپنی پوری تنخواہ لا کر اسے دے دیتا ہوں اور اپنے اخراجات کی منظوری ملنے پر رقم اسی سے وصول کرتا ہوں۔ باقی کس کے لئے کیا خریدنا ہے۔ گھر میں کس چیز کی ضرورت ہے۔ کون گھر آ سکتا ہے، کسے اجازت نہیں حتی کہ میرے قریبی رشتہ دار بھی۔ ان کے بارے بیگم کا فیصلہ حتمی ہے۔ جو پکاتی ہے جیسا پکاتی ہے، جب چاہے پکائے یہ اس پر منحصر ہے۔ میں تو بس جب بھی مل جائے صبر شکر کرکے کھا لیتا ہوں۔ اسے کتنے سوٹ خریدنے ہیں جیولری کس قسم کی چاہیے کب شاپنگ پر جانا ہے سب فیصلے خود کرنا ہوتے ہیں۔

محفل میں موجود ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا۔ دنیا کا اہم ترین راز منکشف ہو رہا تھا اور اصول کی وضاحت ہو رہی تھی۔ اب سب کا سوال ایک ہی تھا کہ صاحب جی آپ کے کام کیا ہیں۔ اختیارات کی حد کیا اور آپ کن مسائل کو دیکھتے ہیں۔

صاحب نے مطمئن چہرے کیساتھ ایک بار پھر لمبی سی سانس لی۔ گویا ہوئے “جی میں بڑے مسائل کو دیکھتا ہوں” وہ کون سے جناب ؟

جب سب ہی سانس روکے سننے لگے تو صاحب خود ایک لمبی سانس لے کر گویا ہوئے۔

“دراصل میں بڑے عالمی مسائل دیکھتا ہوں۔ امریکہ کی فارن پالیسی کیا ہے؟ فلسطین میں کیا ہو رہا ہے؟ عالمی تجارت کس رخ جا رہی ہے؟ عالمی امن کو کونسے خطرات لاحق ہیں؟ خلائی مشن کب روانہ ہو رہے ہیں۔ عرب ایران تنازعہ کہاں تک پہنچا؟ امریکہ شمالی کوریا کی صلح ہوئی کہ نہیں۔

اور ایسے ہی دیگر بڑےبڑے عالمی و بیرونی مسائل دیکھنا میری ذمہ داری ہے۔ میری بیوی اس حوالے سے ہرگز مداخلت نہیں کرتی اور ان مسائل کے حل کرنے۔ ان کے بارے پریشان ہونے۔ سوچنے سمجھنے اور باقی دوستوں کے ساتھ ڈسکس کرنے میں آزاد ہوں۔ یہی وہ راز ہے اور چھوٹا سا اصول جس کی وجہ سے ہمارے گھریلو تعلقات ایک پیج پر ہیں اور کبھی بھی اختلاف نہیں ہوا۔ ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

اس میں پاکستانی قوم کے لئے بھی ایک بڑا سبق ہے۔ سنا ہے معیشت کا برا حال ہے۔ تاجر پریشان ہیں۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے بقول گورنر سٹیٹ بنک مزید جھٹکے لگیں گے۔ شہ رگ دشمن کے شکنجے میں ہے۔ اندرونی سیاست بحران کا شکار ہے۔ کوئی دھرنے کی تیاری کر رہا ہے تو کہیں تاجر ہڑتال پہ ہیں۔ ڈاکٹرز ڈنڈے کھا رہے ہیں۔ ٹیچرز سڑکوں پر ہیں۔ نابینا ملازمین کئی دنوں سے سڑکوں پہ سو رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات نہیں اور ڈینگی تباہی پھیلا رہا ہے لیکن ہماری سرکار دنیا کے بڑے بڑے عالمی مسائل حل کرنے کے مشن پر ہے۔ عرب ایران کے بعد ابھی امریکہ چین اور پھر امریکہ روس میں ثالثی کرانی ہیں۔ اپنے اپنے اختیارات ہیں جی۔ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •