ڈرائیوروں کی ہلاکتیں اور تحقیقات کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے سارے اداروں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب جو بھی فیصلے کرنے ہوں گے وہ خود ہی کرنے ہوں گے۔ اداروں کے آپس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق اب وہ زمانہ گیا جب گرفتاریاں عمل میں آیا کرتی تھیں، پھر ان کے خلاف چالان کاٹے جاتے تھے، پھر ملزموں کو عدالت کے رو برو پیش کیا جاتا تھا اور ملزمان کے خلاف پورے ٹھوس ثبوت و شواہد پیش کرکے ان کو ملزم سے مجرم قرار دلواکے قرارِ واقعی سزا کا مستحق بنایا جاتا تھا۔ اب تو پکڑو اور مار دو والی کہانی کرو، خود ہی پولیس بن جاؤ، خود ہی عدالت بن جاؤ، وکیل بھی خود ہی بنو اور جج بھی۔ کون اتنا تردد کرے کہ پکڑے، چالان کاٹے، جرم کی تحقیات کرے اور عدالتوں کے چکر لگائے۔

اگر میرے دل کی بات سنیں تو میرا دل بھی مجرموں کے لئے اسے قسم کے جذبات و خیالات رکھتا ہے۔ اب یہ سارے مجرمین اتنے بیباک و سفاک ہو گئے ہیں کہ کسی کی بھی جان لینے میں لمحہ نہیں لگا تے۔ کسی کو بھی گن پوائنٹ پر روکا اور لوٹ لیا۔ کسی نے فطری گھبراہٹ کی وجہ سے یا اپنے آپ کو لٹنے سے بچانے کے لئے ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، لوٹنے والوں نے بنا تامل گولی چلادی۔

کچھ وارداتیں کا جواب تو ایسا ہی ہونا چاہیے اور اب کہیں کہیں ایسا دیکھنے میں بھی آنے لگا ہے لیکن جہاں معاملہ چھینا جھپٹی یا لوٹ مار کا نہ ہو بلکہ کسی تنازع کا ہو، کسی ایجی ٹیشن کا ہو، کسی کو اس بات کا احساس ہو رہا ہو کہ کوئی بھی محکمہ یا ادارہ اس کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے یا وہ آئین و قانون کے مطابق اس کے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے اسے کسی امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہا ہے تو پھر کسی بھی لحاظ سے کسی بھی قانون نافذ کرنے یا امن امان کی صورت احوال کو قابو میں رکھنے والے ذمہ دار ادارے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ درندگی کا مظاہرہ کرنے پر اتر آئے اور انسانوں کو پرندوں اور جانوروں کی طرح شکار کرنے لگے۔

ایک افسوسناک خبر کے مطابق ”فوج کے زیر انتظام تعمیراتی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے درمیان جاری تنازع کے دوران کراچی میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ چند کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں“۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ”میڈیا سے بات کرتے ہوئے کراچی پولیس ضلع مشرقی کے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او اور ٹرک ڈرائیوروں کے درمیان ٹرکوں پر سامان لادنے یعنی لوڈنگ کے حوالے سے تنازع چل رہا تھا۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے اہلکار اعلیٰ عدالت کی جانب سے ٹرکوں کے لوڈنگ کے وزن کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کو نافذ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مطابق ٹرک ڈرائیوروں نے طیش میں آ کر ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق ایف ڈبلیو او کے حکام نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی مگر ایسا ممکن نہ ہوا تو اس کے بعد انھوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی ”۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ کوئی ڈکیتی یا لوٹ مار کا واقعہ نہیں تھا جہاں دوطرفہ فائرنگ کا یا مقابلے کا خدشہ موجود ہوتا اور کسی بھی بڑی واردات کے امکانات سے بچنے کے لئے انتہائی قدم اٹھانے کی صورت پیش آتی۔

بے شک پتھراؤ بھی کوئی آئینی اور قانونی قدم نہیں تھا لیکن جواب میں اس حد تک آگے بڑھ جانا کہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں یا شدید زخمی ہوکر ہمیشہ کے لئے معذوری کا شکار ہوجائیں، جیسے رد عمل کا سامنے آنا بھی کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ کہا جارہا ہے کہ ادارے نے ہوائی فائرنگ کری لیکن کیا ہوائی فائرنگ سے ہلاکتیں ہوجانا یا افراد کا زخمی ہوجانا بنتا ہے۔ جو بھی مظاہرین تھے وہ پرندے تو نہیں رہے ہوں گے کہ وہ آسمان پر پرواز کرنے کی وجہ سے“ ہوائی ”فائرنگ کی زد پر آکر ہلاک یا زخمی ہو گئے ہوں۔

جس قسم کا تنازع پیدا ہوا تھا وہ پاکستان میں کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ آئے دن پورے پاکستان میں اسی قسم کے تنازعات روز ہی جنم لیتے رہتے ہیں اور ان سب کا حل بات چیت سے نکال لیا جاتا ہے۔ پھر یہ کہ بات کسی ہنگامے کی صورت میں کوئی بہت اچانک نہیں پہنچ گئی تھی بلکہ اس بات کو بڑھ کر یہاں تک پہنچنے میں 4 دن لگے تھے۔ کیا یہ کوئی ایسا مسئلہ تھا جو چار دنوں میں بھی حل نہ ہو سکا۔ کیا ہر بات اور ہر اصول پاکستان میں پتھر کی لکیر بنا دیا گیا ہے اور بیچ کی کوئی راہ نکالی ہی نہیں جا سکتی۔

اچھا تو یہی ہے کہ جو اصول و قواعد وضع کر لئے جائیں ان سب پر سختی سے عمل ہونا چاہیے لیکن ہر دین، ہر مذہب اور دنیا کے ہر آئین و قانون میں مختلف صورت احوال کے پیش نظر نہ صرف انسانوں کے بنائے ہوئے اصول و قوانین میں لچک پیدا کردی جاتی ہے بلکہ خود اللہ کے بنائے ہوئے قوانین میں بھی بدلتی صورت حال کے مطابق بہت رعایات رکھی ہوئی ہیں۔ وضو ضروری ہے، مگر تیمم بھی کیا جاسکتا ہے، چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن تنگ دستی اور قحط کی صورت میں قانون نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے، مردار کھانا حرام ہے لیکن زندہ رہنے کے لئے ایسا کرنا پڑجائے تو اس کا کوئی حساب نہیں۔ جب اللہ کے قانون میں لچک ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وقت اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر ہم اپنے اصول و ضوابط پتھر پر کندہ کی ہوئی تحریر بن جائیں اور اس حد تک آگے بڑھ جائیں کہ ہمارے نزدیک انسان کی جان کی کوئی اہمیت ہی نہ رہے۔

اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بہت ہی اچھا کیا ہے، لیکن کیا وہ پاکستان میں کسی بھی واقعے کی تحقیقات کا سلیس اردو میں مطلب بتا سکتے ہیں۔ کیا وہ بتائیں گے کہ لیاقت علی خان سے لے کر بینظیر کی شہادت تک کی تحقات کو سلیس اردو میں کیا کہاجاتا ہے۔ 12 اکتوبر، حکیم سعید، صلاح الدین اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن تا ماڈل ٹاؤن لاہور کی تمام تحقیقات کے آسان اردو میں کیا معنیٰ ہوتے ہیں؟

اگر وزیر اعلیٰ کو اردو نہیں آتی تو ان کے لئے اتنا عرض ہے کہ جس واقعے کے مجرموں کو ان کے انجام تک نہیں پہنچانا ہوتا اسے ”تحقیقات“ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ویسے بائی دا وے، اس واقعے کی تحقیات وہی عطار کے لڑکے کریں گے، جن کے علاج سے ”میر“ بیمار ہوگئے تھے یا معالج کا انتخاب متاثرین کی صواب دید پر ہوگا؟

پاکستان نے اپنی جانب سے اور پاکستان کے تمام اداروں اور عوام کی جانب سے شاید یہ فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ اب اپنے اپنے زخموں کا علاج کسی بھی ”لونڈے“ سے نہیں کرایا جائے گا بلکہ جو کچھ بھی کرنا ہے از خود کرنا ہو گا۔ حکومتِ وقت کے تخت شاہی پر متمکن افراد ہوں، مقتدرہ ہو، انتظامیہ ہو، مقننہ ہو، قانون نافذ کرنے والے محکمہ جات ہوں یا عوام، اب سب کے سب یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ بزعم خود ایک پورا پاکستان ہیں اور وہ اپنی مرضی ہو منشا کے مطابق جو چاہیں گے سو کریں گے۔ سارے پاکستان، مکمل پاکستان ہیں اور ہر پاکستان نے اپنے ہی پاکستان سے ٹکرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ صورت احوال بہت ہی خطرناک ہے اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی ادارہ ہو، مذہبی گروہ یا سیاسی پارٹیاں ہوں، سب کو اپنی اپنی حدود میں رہنا ہوگا ورنہ حالات ہر آنے والے دن میں خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تحقیات کا حکم تو دے دیا ہے لیکن اب اس حکم میں اخلاص کتنا ہے، اس کا علم آنے والے چند ہفتوں کے اندر اندر ہو جائے گا۔ ہم تو بس اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ

ترے وعدوں پر کہاں تک مرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •