چڑیاں دور سدھار گئیں اور ڈوب گئی تالاب میں چپ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری کتاب زندگی کا ایک گنگناتا ورق کچھ پرندوں کی مدھ بھری آوازوں سے بھرا ہے، اور وہ ہیں چڑیاں!

چڑیوں سے تعلق بہت بچپن میں ہی بن گیا تھا۔  پنجرے میں قید غلام رنگ برنگی چڑیوں سے نہیں، آزاد فضاؤں کی باسی لمبی اڈاریں بھرتی، اڑتی پھرتی، چوں چوں کرتی چڑیاں, آزاد روحیں!

ہمارے ابا ہر شام کو گھر کی چھت پہ جاتے، مٹھی بھر باجرا بکھیرتے اور تازہ پانی کا کٹورہ بھرتے۔  پھر ڈھلتی شام سمے چڑیوں کے جھنڈ کے جھنڈ چھت پہ اتر آتے۔  چڑیاں ادھر ادھر پھدکتی پھرتیں، دانہ چگتیں، پانی پیتیں اور پھر سے نیلے آسمان میں گم ہو جاتیں۔  ہم اکثر چڑیوں کے بہت پاس چلے جاتے۔  وہ کبھی خوفزدہ ہو کے پھر پھر نہ اڑتیں۔  ایک باہمی اعتماد کا رشتہ تھا جو برسوں پہ محیط تھا۔

یہ چڑیوں سے ہمارا پہلا تعارف تھا!

ہمارے گھرہر شام ریڈیو بہت بجتا تھا۔ ہم کہیں بھی بیٹھے ہیں، کچھ بھی کر رہے ہیں، پس منظر میں زندگی کی علامت ریڈیو کی آواز ہے۔ تجسس تو کوٹ کوٹ کے بھرا تھا سو کوئی بھی لفظ اور جملہ بچ کے جانے نہ پاتا۔  مسرت نذیر جب لہک لہک کے گاتی” ساڈھا چڑیاں دا چنبہ اے بابل اساں اڈھ جانڑا” یہاں دو تین سوال اٹھ کھڑے ہوتے۔  آخر یہ کن چڑیوں کی بات ہو رہی ہے اور انہوں نے کہاں اڑ کے چلے جانا ہے؟ ہماری اس وقت کی سمجھ کے مطابق تو چڑیا بنی ہی اڑنے کے لئے تھی اور اگر اڑے گی نہیں تو کیا کرے گی آخر ؟

یہ چڑیوں سے ہمارا دوسرا تعارف تھا!

درخت ہمیں ہمیشہ سے ہی مسحور کرتے ہیں۔  ایک عجیب سی شان اور دبدبے کے ساتھ زمین میں اپنی جڑیں پھیلائے، رنگ روپ اور سایہ بکھیرتے ہوئے۔  چڑیوں کو بھی درخت اچھے لگتے ہیں، وہی تو انہیں اپنی بانہوں میں گھر گھونسلا بنانے کی جگہ دیتے ہیں۔  ہم نے چڑیوں کو درختوں میں اپنا گھر بناتے دیکھا۔  پہلے ایک جوڑا آتا، درخت کا جائزہ لیا جاتا، کبھی اس ڈال کبھی اس ڈال۔  جونہی جگہ پسند آجاتی، دونوں کام میں جٹ جاتے۔  ننھی سی جانیں چھوٹے چھوٹے تنکے لاتیں، شاخ پہ جماتیں اور اگلے تنکے کی تلاش میں پھر سے اڑ جاتیں۔  ہم نے یہ منظر بارہا دیکھا، دو متوالوں کا تنکا تنکا جوڑ کے ایک گھر بنانے کی آرزو!

یہ چڑیوں سے ہمارا تیسرا تعارف تھا!

اور پھر بدلتے موسموں میں ایک اور منظر بھی دیکھا۔  گھونسلے کو ننھی ننھی روحوں سے آباد ہوتے دیکھا۔  ماں چڑیا کو اپنے منہ سے دانا دنکا کھلاتے دیکھا۔  ننھی چڑیوں کو جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے اور پھر لامحدود آسمان کی وسعتوں میں گم ہوتے دیکھا، اپنا جوڑا ڈھونڈنے اور نئے آشیانے کی تلاش میں۔

یہ چڑیوں سے ہمارا چوتھا تعارف تھا!

زندگی کے سفر میں آگے بڑھتے، کبھی دوڑتے، کبھی ٹھہرتے ، یونہی ایک دن انکشاف ہوا کہ ہمیں چڑیاں کیوں اچھی لگتی تھیں؟ ایسا کیا تھا جو ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو تکتے تھے اور چاہتے تھے۔

ابا کے انتہائی محبت کے بنائے ہوئے آشیانے کی چھت پہ ہی چڑیاں نہیں بلکہ آنگن میں بھی چڑیاں پائی جاتی تھیں ۔ دونوں ہی ابا کی محبت کا محور تھیں اور اسی لئے چھت کی چڑیاں آنگن کی چڑیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتی تھیں۔  جانتی تھیں ایک ہی محبت کے سمندر کا پھیلاؤ ہے۔

پھر وقت گزرا! ابا کے آنگن کی چڑیوں نے اپنے پر کھول لئے اور ابا نے بہت محبت سے دنیا کے افق پہ اپنے آنگن کی چڑیوں کو پرواز کرتے دیکھا، سر فخر سے بلند کیے اور نم آنکھوں کے ساتھ۔

پھر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ابا کی اس چڑیا نے بھی ان کی دعاؤں کے سائے میں اپنا گھونسلا بنایا، اور اس آشیانے کو کچھ ننھے منے پرندوں سے آباد کیا۔

زندگی دبے پاؤں سرکتی رہی۔  ننھے منوں کے پر نکلے۔  ابا کی چڑیا ابا کی مسند پہ فائز ہوئی، دانا دنکا کھلایا، سرد وگرم سے بچایا، آسمان کی تپش جھیلی، اور پھر پر کھلتے دیکھے۔  نحیف جانوں کو مضبوط بنتے دیکھا اور ایک دن، ایک دن اپنے آنگن کی بڑی چڑیا کو آسمان کی بے پناہ وسعتوں میں پرواز کے لئے اڑا دیا۔ ابا کی چڑیا اداس تھی لیکن فخر و انبساط کا وہی عالم تھا جو کبھی ابا کا تھا۔

زندگی اور آگے بڑھی اور اب چھوٹی چڑیا کے رخصت ہونے کی گھڑی تھی۔  ابا کی چڑیا کا دل بوجھل تھا، گھونسلا آہستہ آہستہ خالی ہو رہا تھا لیکن دل نہیں۔  دل تو گئے برسوں کی یادوں سے لبالب بھرا تھا۔ پھر چھوٹی چڑیا نے پہلی لمبی اڑان بھری اور دور دیس میں زندگی برتنے جا پہنچی۔

زندگی کا سفر جاری ہے، دن ڈھل رہا ہے، گھونسلے میں ابھی ایک پرندہ باقی ہے۔  وہ دن دور نہیں جب وہ نئ منزلوں کی جانب پرواز کے لئے اڑان بھرے گا اور ابا کی چڑیا فخر سے سر بلند کئے خداحافظ کہے گی نم اور اداس آنکھوں کے ساتھ۔

گھونسلے میں کچھ تصویریں ہوں گی، گزرے دنوں کی آوازیں ہوں گی، جدائی کا کرب ہو گا، انتظار کی گھڑیاں ہوں گی۔ لیکن زندگی کا یہی تو پھیر ہے جس میں سب کو گھومنا ہی ہوتا ہے۔ وہی جو محمد سلیم الرحمن نے لکھا ہے

ہم کہ جدائیوں کی فصل کاٹنے آئے ہیں یہاں

ہاتھ ہمارے شل ہوئے، پیروں میں دم نہیں رہا

فرصت ابھی ملی کہاں

اتنی پرانی یاد کو کیسے سنبھال کر رکھیں؟

پچھلے کسی ملال کو دل سے لگا کے کیا کریں؟

دنیا بہت بدل چکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •