حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں انتطامی رکاوٹیں ڈالنے کے لئے ہدایت نامہ جاری کر دیا
حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس کو بھی اہم ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔ اسلام آباد کے نئے ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز کی تعیناتی کے 24 گھنٹے کے بعد اسلام آباد پولیس نے سخت اقداما ت کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاج کیلئے آنے والوں کو کیٹرنگ کا سامان، ساونڈ سسٹم، ٹینٹ سروس، ہوٹل میں کمرے اور گیسٹ ہاﺅس میں رہائش کی جگہ دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کی حکومت کو گھربھیجنے کے لئے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے بھی فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کر دیاہے
اسلام آباد پولیس نے تحریری ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کرین آپریٹرز، جنریٹرز کرائے پر دینے والوں، ویلڈرز اور ہارڈ ویئر سٹورز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ احتجاج کیلئے آنے والوں کو کوئی خدمات یا اشیا فراہم نہیں کریں گے۔ یہ ہدایت نامہ اسلام آباد کے تمام 22 پولیس سٹیشنز کو بھیج دیا گیا ہے۔ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص احتجاجی مظاہرین کو کوئی اوزار یا چیزیں فراہم کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


