لکھنا بھی ہے اور احتیاط بھی لازم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے جب میں اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کی سبب گمشدگی کے لبادے میں ملبوس ایک ایسے شخص کے پاس بیٹھا ھوا تھا جن کی پروفیشنلزم، خلوص اور خیر کی تمنّا پر مجھے تو کیا شاید تاریخ کے کسی لمحے کو بھی شبہ تک نہ ہو کیونکہ ناسازگار رتوں اورخون آشام بلاؤں کو ایک مہارت اور دلیری کے ساتھ ملیامیٹ کرنے کا سہرا انہیں کے سرہے۔ لیکن ھم لکھنے والوں کے سروں پر ہمیشہ دوھرا عذاب ہی ہوتا ہے کبھی وہ وقت آتا ہے کہ ہم کسی مظلوم کی حمایت میں لکھتے ہوئے اپنے آپ پر اذیتوں کے دروازے وا کر دیتے ہیں، تو کبھی وہ لمحہ آتا ہے کہ بعض حقائق تک رسائی اور ان خوشنما حالات کے اس تخلیق کار کا ذکر تک نہیں کر سکتے جن کی بدولت ایک آتشین فضا، مہربان صبحوں اور سرمئ شاموں کی طرف بڑھتی نظر آئے۔

میں جانتا ہوں اور ایک صحافی کے حیثیت سے بہت سی معلومات کی بنیاد پر جانتا ہوں کہ خون آشام رُتوں میں معاملات اتنے سادہ بھی نہ تھے اور اتنے واضح بھی نہیں کہ بغیر کسی بصیرت، وژن اور منصوبے کے اتنی آسانی کے ساتھ قابو آتے۔ اندازہ کر لیجئے کہ ان خوش کن حقائق کا منظرنامہ آپ کے سامنے مسرت اور شادمانی بکھیر دیتا ہے اور جو آپ کے لئے نہ صرف اساطیری کہانیوں کی مانند ایک جیتا جاگتا ہیرو تراش دیتا ہے بلکہ آپ کے تفاخر کے احساس کو بھی بڑھا دیتا ہے لیکن آپ اس منظرنامے کے آرکیٹیکٹ کا ذکر تک نہیں کر سکتے اور آپ اس خیال سے خود کو تسلی دینے لگتے ہیں کہ اپنے آنے والی کتاب میں تمام تفصیلات لکھ دونگا لیکن تب وقت بھی شاید مناسب ہوگا۔

سو کہنے کا مطلب ہے کہ ایک لکھاری کو مختلف سمتوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے صرف مخالف سمت میں لکھنے پر نہیں۔ جبکہ مختلف الخیال تمام طبقات آپ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہماری سوچ کی ترجمانی ہی کرتے رہیں اور جب آپ حقائق کی کھوج میں نکل کر قلم کو متضاد سمت میں موڑ دیتے ہیں تو پھر بہت ساری گالیاں، بہتان طرازی، الزامات اور مرغوب لفظ لفافہ کی سنگ باری ہوتی رہے گی۔

کچھ دن پہلے گلالئی اسماعیل کے فرار اور ڈرامے پر کالم لکھا تو جہاں اس تحریر کو مبالغہ آمیز پزیرائی ملی وہاں بات کو سمجھے بغیر الزامات اور نایاب گالیوں کی بوچھاڑ نے کم از کم میرے علم میں یہ اضافہ تو کر ہی دیا کہ اس مملکت خداداد میں اخلاقی گراوٹ کے درجہ اوّل پر کونسا گروہ فائز ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ہمیں اپنی بات کہنے سے روک پائیں گے یا با الفاظ دیگر ہم ان کی راہ جاہیلیت کا رُخ کریں گے کیونکہ اس صورتحال کو ہم پہلے بھی کہیں بار بھگت چکے ہیں خصوصا اس وقت جب عمران خان ایک جذباتی اور احمقانہ بیانیہ لے کر اُٹھے تھے اور اس سلسلے میں انہیں نہ صرف نسلِ نو کی توانا حمایت حاصل تھی بلکہ ان دیکھی قوتیں اور ھانپتا ہوا میڈیا بھی اس کے عقب میں کھڑے تھے۔

ان مشکل شب وروز میں وہ آزاد لکھاری ہی تھے جنھوں نے حرص و کرم اور خوف خمیازہ سے بے نیاز ہوکر اس سازشی اور بے بنیاد بیانیے کا تعاقب کیا اور آج کے موجودہ حالات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ اس وقت ایک غول سے “لفافہ صحافیوں “ کا خطاب پانے والے اس ملک اور عوام کے ساتھ مخلص تھے یا وہ صحافی جو کنٹینر پر چڑھنےاور اس غول کے سامنے ھیرو بن کر ہاتھ ھلانے سے بھی نہ چوکتے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ کنٹینر صحافی آج کل عمران خان کے بارے میں وہی رویہ اور لہجہ اپنائے ہوئے ہیں جو کل نواز شریف کے بارے میں اپنایا ہوا تھا لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ اس وقت بد تہذیبی اور الزامات کے طوفان بلا خیز میں آئے جینوئن اور آزاد لکھاریوں کے قلم سے خلوص اور پختگی کھبی پھسلی؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صحافت سے وابستہ ایک لکھاری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی رائے سازی میں اپنی بصیرت اور قلم کے بل بوتے پر جذبات اور رائج رائے عامہ کی پرواہ کئے بغیر لکھے اور خیر کی تلاش میں اپنا کردار ادا کرے نہ کہ وہ اپنے قلم اور زبان کو مقبولیت (یا ذاتی فوائد) کی خاطر طعن و دشنام کا ہتھیار بنائے خواہ اس سے شر اور بربادی کا پہلو ھی کیوں نہ نکلے۔

اس شعبے (صحافت) میں دیانت کا تقاضا ہوتا ہے کہ بعض اوقات آپ رائج سوچوں کی متضاد سمت کا رُخ کرتے ہیں اور بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنی مبنی برحق بات پر ڈٹ جاتے ہیں تو کبھی اپنے دوستوں کو ناراض کر جاتے ہیں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ مخالف صفوں میں کھڑے اس حریف کی تعریف میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے جو اپنے کردار یا کارکردگی سے آپ کو متاثر کرے۔ یعنی اگر صحافت پیغمبرانہ پیشہ ہی ہے تو پھر اس سُنّت کی ادائیگی سے محروم کرنا کہاں کی دیانت ہے۔ اور اگر بالفرض کوئی جبرًا ایسا کرے بھی تو اس سنّت کی روشن روایتوں میں سے ایک روایت ڈٹنا بھی تو ہے، تاہم بعض حساس معاملات پر گریز لازم ہے کیونکہ ضروری تو نہیں کہ بلا سوچے سمجھے وہ تمام معلومات آپ بانٹتے پھریں جو اجتماعی یا انفرادی سطح پر مسائل کھڑے کریں اور بعض معاملات میں یہ ذمہ داری رضاکارانہ طور پر ہمیں خود پر لاگو کرنا چاہئے کیونکہ یہی تو پیشہ ورانہ اور اعلٰی صحافتی کردار کا معیار ھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •