افضل نے خودکشی کیوں کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 خودکشی کے پیچھے بہت سارے عوامل ہوتے ہیں جن میں سماجی خاندانی حیاتیاتی معاشرتی اور نفسیاتی اس کیس میں ہمیں سب نظر آ رہے ہیں جنہوں نے افضل کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا کچھ لوگوں کا خیال کہ انسان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے خودکشی تو اس کا حل نہیں بلکہ فرار کی آخری کوشش خودکشی ہے کیونکہ جب انسان کے ذہن میں بار بار خیالات اور سوچ اسکو تنگ کر رہی ہو اور آگے اسکا حل نظر نہ آرہا ہو تو انسان کی خود کلامی  ہی اس کا سہارا ہوتی ہے جس سے وہ نتائج اخذ کرتا ہے۔

کالج انتظامیہ کے بے حسی کے بعد بیوی کا افضل کو چھوڑ کر چلے جانا اس کے ذہن میں کئی سوالات اٹھاتا ہوگا جن کے جوابات اس کو اور تنگ کرتے ہیں۔ البرٹ ایلس کے مطابق اگر ہم اپنے وقوفی انداز کو منطقی بنا لیں تو ہم کسی بھی صورتحال کا آسانی سے سامنے کر سکتے ہیں مگر بعض اوقات انسان سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے بعد اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہے تو اسکی منطقی سوچ غیر منطقی بن جاتی ہے اگر اسکو کوئی رازدان کونسلر یا رہنمائی والا میسر نہ ہو تو وہ اسکو انتہائی قدم کی طرف لے جاتے ہیں۔

کچھ سال پہلے بھکر میں خانسر چوک پر ایک لیڈی ڈاکٹر نے خودکشی کی۔ خودکشی سے پہلے اس نے تین لوگوں کو فون کیا بدقسمتی سے تینوں نے ارادی یا غیر ارادی اسکی کال نہیں سنی اور اس نے خود کشی کر لی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک اس کی بات سن لیتا تو شاید اسکا کتھارسز ہو جاتا۔ فرائیڈ نے جب اپنی تحلیل نفسی کی تکنیک شروع کی تو اسکے مشاہدہ میں یہ بات آئی کہ بہت ساری خواتین صرف سٹوری سنانے کے بعد ٹھیک ہوجاتی۔ چنانچہ وہ ان کی باتوں کو غور سے سنتا اور اس نے اظہار کے اس طریقے کو کتھارسز کا نام دیا

حیاتیاتی اعتبار سے اللہ پاک نے تناؤ اور دباؤ سے نمٹنے کیلئے ایک سسٹم رکھا ہے جسکو Fight or Flight کہتے ہیں جس میں دماغ کا حصہ لمبک سسٹم Amygdala نیروٹرانسمیٹر ،ہارمونز غدود کا سسٹم ہے جو کہ مستقل تناؤ اور دباؤ کے بعد کمزور ہو جاتا ہے نیرو ٹرانسمیٹرز کے بیلنس میں خرابی سے اندان کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے جس کو دوا کے ساتھ مدد اور تشفی کی ضرورت ہوتی ہے جو سب سے زیادہ فیملی سے ملتی ہے مگر افضل کی بیوی نے اس میں تعاون کے بجائے اس کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔

افضل نے خودکشی سے پہلے اس کو میسج کیے مگر اس نے اس کو جواب نہ دیا دیگر فیملی ممبرز میں نے نہ جانے کوئی اس طرح کا ہو جو یہاں پر کونسلر کا کام کرسکتا۔ افضل کے کالج میں پرنسپل نے انکوائری میں بے گناہ ہونے کے باوجود اس کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم نہیں کی جو قانونی طور پر اسکا حق تھا۔ باقی اس کی انکوائری آفیسر جس کو لیٹر کے لئے افضل نے کہا اس نے اس کے لیٹر کو صحیح پڑھا نہیں اور حالات۔کی سنگینی کا اندازہ اس کو بھی اب ہو رہا ہے اب باقی دوست رہ جاتے ہیں جنہوں نے کوشش کی ہوگئی مگر سوال ہے کہ ان کے ساتھ افضل کا رابطہ کس حد تک تھا کہ وہ اس کو اس کرب سے نجات دے سکتے معاشرتی حالات اور معاشی حالات نے بھی اسکو سہارا دینے کے بجائے ٹھوکر لگائی۔

اب اس ساری صورتحال میں بطور مسلمان ہی آپ اگر تقوی پر یقین رکھتے ہوں تو اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں مگر بعض اوقات یہ کہنا آسان ہوتا ہے یہ سارے عوامل آپ کو تقویٰ اختیار کرنے ہی نہیں دیتے یا اس سے پہلے آپ کو لپیٹ میں لے کر اپنا کام کر جاتے ہیں

جنسی ہراسمنٹ کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے جس میں قانون کے غلط استعمال اور الزام ثابت نہ کرنے والے کو بھی سزا ملنی چاہیے اس قانون کے تحت ہراسمنٹ کے واقعات میں ہو سکتا ہے کمی آئی ہو اور اس سے بہت سی خواتین کو تحفظ بھی ملا مگر یہ assume کر لینا کہ صرف ایک فریق ہی غلط ہو سکتا ہے یہ درست نہیں۔ اس میں توازن کی ضرورت ہے اس کے غلط استعمال والے کو بھی سزا دی جائے۔

 اب بہت سے بڑے کالجز میں بی ایس پروگرام شروع ہو رپے ہیں جن میں کو ایجوکیشن ہے اس طرح جیسے اس لڑکی نے اس قانون کا استعمال کیا ہے اس کو بہت زیادہ استعمال کیا جاسکتا ہے اس سے پہلے بہاولپور کے ایس سی کالج میں مذہبی کارڈ کا استعمال کرکے ایک پروفیسر کی جان لی گئی اور اس پر ارباب اختیار نے کچھ نہیں کیا۔ آنے والے وقت میں پھر طالب علموں کو استعمال کیا جا سکتا ہے

 دوسری طرف اگر کوئی ایشو ہو تو کالج انتظامیہ کو اسے بروقت دیکھنا چاہیے۔ یہ مسئلہ یا دیگر مسائل کی انکوائری جلدی اور شفاف کروائی جاۓ اور اس کی رپورٹ فریقین کو بھی دی جائے۔ اکثر دیکھنے میں آیا کہ پہلے تو انکوائری میں ذلیل کیا جاتا ہے کبھی بہت عجلت اور کبھی بہت دیر۔ کسی ایک فریق کو فائدہ اور کسی ایک کو نقصان ہوتا ہے۔ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد وہ انکوائری پرنسپل یا ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹر کے پاس جمع ہوتی ہے جو اگر ان کی پسند کی نہ ہو تو اسکو زیادہ چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے اگر ایک کمزور فریق ہو تو وہ اس چکر میں کہیں نہ کہیں معافی کا راستہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ سسٹم اسٹیس کو کو سپورٹ کرتا ہے۔ اب ضرورت اس امر ہے کہ کالج کے مسائل کو HED غیر سنجیدہ سمجھنے کے بجائے ان پر بروقت کاروائی کرے اور کمیونٹی کو بھی اپنی مخالفت کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے جہاں واپسی کا راستہ موت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •