جنسی ہراسانی کے ملزم لیکچرار نے خود کشی کی یا اسے قتل کیا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8  جولائی 2019 کو ایم اے او کالج کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ انگلش کے لیکچرار محمد افضل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتی ہے۔ کالج کی انتظامیہ نے انکوائری ٹیم بنا دی۔ تین مہینے کی انکوائری سے یہ ثابت ہو گیا کہ الزام جھوٹا تھا۔ لیکچرار پرنسپل کے نام درخواست میں مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں اس کیس سے بریت کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد انہیں زبانی کہہ دیا گیا کہ آپ پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ لیکچرار نے درخواست میں یہ بھی تحریر کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کی والدہ ناراض ہیں اور شریک حیات بھی انہیں بد کردار قرار دے کر انہیں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ اگلے دن انہوں نے ممکنہ طور پر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

ان کی ڈیڈ باڈی کے پاس ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک تحریر بھی ملی جس میں لکھا تھا کہ وہ اس معاملے کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ پولیس اس سلسلے میں تفتیش نہ کرے اور کسی کو تنگ نہ کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کالج کے پرنسپل کی طرف سے ان کی بریت کی تحریر انہیں بچا سکتی تھی؟ کیا کالج کے اربابِ اختیار ان کا مطالبہ مان لیتے کہ انکوائری دوبارہ کھولی جائے اور جھوٹا الزام لگانے والی طالبہ کو کالج سے خارج کیا جائے۔ ایسا ہو بھی جاتا تب بھی شاید محمد افضل کو وہ عزت دوبارہ نہ مل پاتی جو محض ایک دن میں کھو گئی تھی۔

انکوائری کمیٹی کی سربراہ پروفیسر عالیہ رحمان کے مطابق طالبہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ سر افضل لڑکیوں کو گھورتے ہیں۔ جب انہوں نے لڑکی سے بات کی تو اس نے کہا دراصل سر حاضری کم ہونے پر ہمارے نمبر کاٹتے ہیں۔ پروفیسر عالیہ نے کہا کہ اس بات کو سائیڈ پر کریں اور ان کے کریکٹر پر بات کریں اور بتائیں کہ سر افضل نے آپ کے ساتھ کبھی کوئی غیر اخلاقی حرکت کی یا بات کی تو الزام لگانے والی لڑکی نے کہا نہیں مجھے تو نہیں کہا لیکن کلاس کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ وہ ہمیں گھورتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو ٹیچر سختی کرے گا وہ ایسے ہی جھوٹے الزام کا شکار ہو سکتا ہے۔

ہمارے سماج میں ایک لڑکی کی طرف سے لگائے الزام کو غلط تصور کرنا تقریباً گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ادھر کسی لڑکی نے کہا کہ فلاں مجھے گھورتا ہے یا فلاں شخص نے مجھ سے ایسی بات کی ہے جو جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتی ہے تو اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا جاتا ہے۔ وہ شخص لاکھ کہے کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا مگر کوئی اس کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر زبان سے کہہ بھی دیں کہ ہمیں آپ پر یقین ہے تو بھی اس کی عدم موجودگی میں یہی کہتے ہیں کہ یقیناً اس شخص نے اس لڑکی کو ہراساں کیا ہو گا۔

یہ رویہ ہر لڑکے اور ہر مرد کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ ایک بار کسی لڑکی نے یہ الزام لگا دیا تو پھر وہ عمر بھر اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرتا رہے پھر بھی یہ داغ نہیں مٹتا۔ ہر شخص اس داغ کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس دنیا میں لیکچرار محمد افضل جیسے حساس نوجوان بھی ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اپنی جان دینی پڑتی ہے۔

جنسی ہراسانی کا شکار لکچرار جب کالج جاتا ہو گا تو اسے دیکھ کر بہت سے لوگ طنزیہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوں گے۔ طالبات آپس میں کھسر پھسر کرتی ہوں گی۔ محلے دار عورتیں اسے دیکھ کر راستا بدل لیتی ہوں گی اور مرد اس پر ہنستے ہوں گے۔ اس کی والدہ بھی اس بات پر ناراض تھیں اور اس کی بیوی نے تو اسے بد کردار قرار دیتے ہوئے گھر ہی چھوڑ دیا۔ ایسے میں وہ کس کس کو بتاتا کہ وہ بے قصور ہے۔ بتانے کے باوجود جب کسی نے یقین ہی نہیں کرنا تو کسی سرٹیفیکیٹ سے بھی وہ اس عزت کو دوبارہ نہیں پا سکتا تھا جو ایک جھوٹے الزام سے چھن چکی تھی۔

سماج کا یہ رویہ ہی اس کا قاتل ہے۔ اس نے ہرگز خود کشی نہیں کی۔ اسے اس معاشرے کے ایک ایک فرد نے مل کر مارا ہے۔ افسوس کہ اس کے قاتل سزا سے بچ جائیں گے کیوں کہ دنیا کی کسی عدالت میں یہ ثابت نہیں ہو سکے گا کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس رپورٹ بھی اسے خود کشی قرار دے گی مگر یہ معاشرہ اس کا قاتل ہے۔ آخر کیوں جنسی ہراسانی کے الزامات کو اس قدر سنجیدگی سے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کیا کوئی لڑکی جھوٹا الزام نہیں لگا سکتی؟

یہ تو آپ نے لڑکیوں کے ہاتھ میں ایک خطرناک ہتھیار تھما دیا ہے کہ وہ جب چاہیں کسی شخص پر جھوٹا الزام لگائیں اور سارا معاشرہ اس پر تھو تھو کرنے لگے گا۔ اگر ذرا فہم فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے کسی الزام پر تب تک کسی نفرت انگیز رویے کا اظہار نہ کیا جائے جب تک الزام ثابت نہیں ہو جاتا تو شاید جھوٹے الزامات میں بھی کمی آ جائے۔ “می ٹو” کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

کون سی بات کس نیت سے کی گئی ہے اور کون سا انداز جنسی ہراسانی کا تھا، یہ فیصلہ کرنا بھی تو لڑکی کے ہاتھ میں ہے۔ ہو سکتا ہے ایک بات جو کسی نوجوان کے نزدیک بے ضرر ہو وہی کسی لڑکی کے نزدیک جنسی ہراسانی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات تو موٹر سائیکل پر جاتی لڑکی کی توجہ ٹائر کی طرف جاتے اس کے لمبے دوپٹے کی طرف دلائی جائے تو وہ اسے بھی بات کرنے اور اسے دیکھنے کا بہانہ سمجھتی ہے۔ بعض لڑکیاں جو اپنے بچپن سے جوانی تک کسی مرد کے سائے تک سے بچ بچا کر پروان چڑھتی ہیں وہ کسی مرد کے سلام کرنے میں بھی جنسی ہراسانی ڈھونڈ سکتی ہیں۔

جب تک ان قاتل رویوں کو تبدیل نہ کیا گیا تب تک لیکچرار محمد افضل کی طرح بے قصور نوجوان اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لیتے رہیں گے اور انہیں اس کام پر اکسانے والا، ان کے ہاتھوں میں آلہ قتل دینے والا اور انہیں اس مقام تک جہاں خود کشی ہی آخری راستا ہو لانے والا، وہ قاتل سماج دور کھڑا تماشا دیکھتا رہے گا۔ لیکچرار محمد افضل کا قاتل میں ہوں، آپ ہیں، ہم سب ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •