آزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے وزارت داخلہ کا پلان سامنے آ گیا


وزارت داخلہ کی جانب سے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،صوبوں سے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کےلئے پلا ن تیار کر لیا ہے۔ 27 اکتوبر سے اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریڈ زون مکمل سیل کر کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کیے جائیں گے۔ اسلام آباد کے تمام داخلی راستے کنٹینرز لگا کر بند کیے جائیں گے۔ 27 اکتوبر سے موٹر ویز اور جی ٹی روڈ بند کر دیئے جائیں گے۔ آزادی مارچ کے دوران جی ٹی روڈ کو خیرآباد کے مقام پر بند کیا جائے گا۔ نوشہرہ میں خیر آباد کے مقام پر اٹک پل کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دھرنے سے قبل مولانا فضل الرحمان کو نظربند کرنے پر بھی غورجاری ہے۔ آزادی مارچ مہم چلانےوالے کارکنوں کی گرفتاریاں بھی شروع کی جائیں گی۔ اسلام آباد سمیت تمام اضلاع میں گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ کشمیر، پنجاب، بلوچستان حکومت سے اضافی پولیس نفری طلب کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اضافی نفری کے لئے دارالحکومت میں مختلف سرکاری عمارات کو خالی کرانے کیلئے احکامات جاری کیے گئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ سے نمٹنے کےلئے کنٹرول روم بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ کنٹرول روم سے پنجاب، وفاقی دارالحکومت اور خیبرپختونخوا کو کنٹرول کیا جائے گا۔ پنجاب، کے پی کے چیف سیکرٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کنٹرول روم سے رابطے میں رہیں گے۔ تینوں صوبوں کے آئی جیز بھی کنٹرول روم کے احکامات کو فالو کریں گے۔

Facebook Comments HS