جلاؤ، گھیراؤ اور حکومت گراؤ سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی مجموعی سیاست سیاسی المیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس سیاست میں کوئی بھی جماعت کسی کا سیاسی مینڈیٹ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ جو بھی سیاسی جماعت انتخابات جیتتی ہے اس کے نزدیک انتخابات شفافیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ہر ہارنے والی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ اسے ایک سازش کے تحت پس پردہ قوتوں نے ہرایا ہے۔ اسی طرح اگر اسٹیبلیشمنٹ کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کرتی ہے توسب اچھا ہوتا ہے اور یہ ہی اسٹیبلیشمنٹ اگر ان کے خلاف کھیل کا حصہ بن جائے تو سب خراب ہوجاتا ہے۔ جہاں تک اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل کا تعلق ہے تو ا س کی کوئی بھی حمایت نہیں کرسکتا، لیکن اس اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل کو کمزور کرنے یا ختم کرنے میں جو کردار اہل سیاست کا بنتا ہے اس کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔

یہ جو سیاسی تماشہ پاکستان کی سیاست میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اس نے ملک میں نہ تو سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کیا اور نہ ہی جمہوری قدریں اور اقدار یہاں پنپ سکیں۔ ایک سوچ اور فکر جو اہل سیاست میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ ہم ہر آنے والی حکومت کو سازشی تھےوریوں کی مدد سے گرانا چاہتے ہیں۔ حکومتوں کو گرانے کے لیے اگر حزب اختلاف کی قوتوں کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت ملے تو وہ اس حمایت کے حصول میں فوری طو رپر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ سیاسی قوتوں کا گٹھ جوڑ ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ سیاسی کردار بدل جاتے ہیں جبکہ ایجنڈا حکومتوں، سیاست اور جمہوریت کو عملی طور پر مستحکم کرنے کی بجائے کمزور کرنا ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن دیگر حزب اختلاف کی قوتوں کی مدد سے اسلام آباد میں سیاسی چڑھائی کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ان کے بقول حکومت کو ہر صورت میں ختم کرنا ہے۔ ان کی شرائط میں وزیر اعظم کا استعفی اور پارلیمنٹ توڑ کر نئے سیاسی انتخابات کا اعلان ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ وہ اسلام آباد سے حکومت کے خاتمہ تک نہیں جائیں گے اور حکومت گرانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے چاہے اس کے لیے کسی بڑی قربانی دینی پڑے۔ مولانا کے کندھوں پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اس کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے مقابلے میں نواز شریف عملی طو رپر مولانا کے ساتھ آخری حد تک جانے کی حمایت کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے جتھہ بردار کی مدد سے ریاست اور حکومت کے لیے بھی ایک نئی پریشانی پیدا کی ہے۔

ایک برس کے بعد ایک سیاسی حکومت کو زبردستی، ڈنڈے یا طاقت کے زور پر گھر بھیجنے کی سیاست پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ ماضی میں اس طرز کے سیاسی ڈرامے ناکامی اور کامیابی کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی دھرنے کی مدد سے طاقت کے زو رپر حکومت گرانے کا سیاسی کھےل ماضی میں سجاچکے ہیں۔ شکر کریں عمران خان کو سیاسی دھرنے کی مدد سے حکومت گرانے میں ناکامی ہوئی اور حکومت نے اپنا مینڈیٹ پانچ برس تک پورا کیا۔ وگرنہ اگر عمران خان کامیاب ہوجاتے ہیں تو ایک غلط سیاسی روایت پڑتی اور اس کو بنیاد بنا کر آنے والی حکومتوں کو بھی گرایا جاتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادتیں ماضی کے غلط تجربات یا غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ان ہی پرانی غلطیوں کو اور زیادہ بگاڑ کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جمہوریت اور سیاست میں سیاسی اجتجاج ایک بنیادی حق ہے اور اس حق کو ہر سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ حق بھی ایک سیاسی اور قانونی دائرہ کار میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی سیاسی حدود کو قانونی دائرہ کار نکل کر استعمال کرتے ہیں تو ریاستی رٹ چیلنج ہوتی ہے اور قانو ن حرکت میں آتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس ایسی کیا سیاسی طاقت ہے کہ وہ طاقت کے زور پر حکومت کوگراسکتے ہیں، کیا واقعی ان کو پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل ہے اور واقعی طاقت کے مراکز حکومت کو گراکر کوئی متبادل سیاسی یا انتظامی نظام لانا چاہتے ہیں۔ حقایق یہ ہیں کہ ہمےں لگتا ہے کہ مولانا اپنا سیاسی دباو بڑھا کر حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو دباو میں لاکر اپنے سیاسی کردار کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مولانا ماضی میں بالخصوص عمران خان کے دھرنے میں سڑکوں پر جلاو، گھیراو اور  ڈنڈے کے زور پر حکومت گرانے کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کی کہی باتیں پارلیمنٹ میں تقریروں کی صور ت میں موجود ہے۔ لیکن سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفاد کی بنیاد پر اپنے ہی سابقہ موقف کی نفی کرکے تضادات کی کو فروغ دیتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے سیاسی مطالبات کیا ہیں یہ بھی واضح نہیں۔ وہ صرف دو یک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ موجود ہیں کہ حکومت کا ہرصورت میں خاتمہ کرنا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان مزاکرات کا عمل بھی کمزور نظر آتا ہے۔ کیونکہ مولانا فضل حتمی طور پر حکومت کے لیے ایک بڑے انتشار اور عدم استحکام کی سیاست کو پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یقینی طور پر مولانا فضل الرحمن نے سیاسی ماحول میں خود کو نمایاں کرلیا ہے اور ساری حکومت مخالف جماعتیںان کی حمایت سے بھی گریز نہیں کررہی۔ لیکن کیا سیاسی حکومتیں ایسے دھرنوں یا مظاہروں سے اپنی ہی حکومت کو ختم کرسکتی ہیں تو جواب نفی میں ہوگا۔ اگر حکومت گرتی ہے تو وہ کسی سازی تھےوری کی مدد سے ہی گرسکتی ہے، مگر اس کے بعد کیا ہوگا اس کا کون جوا ب دے گا۔ کیامولانا فضل الرحمن نئے انتخابی نتائج کو قبول کرلیں گے اگر وہ دوبار ہ ہارتے ہیں تو اس کے بعد ان کا ردعمل کیا ہوگا۔ اسی طرح آج کی موجودہ حکومت انتخاب ہارتی ہے تو وہ کیونکر ان نتائج کو قبول کرے گی۔ مولانا فضل الرحمن کا مجموعی ایجنڈا ایک بڑے سیاسی انتشار کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

اگر دھرنا یا آآزادی مارچ ناکام ہوتا ہے اور اگر حکومت نہیں کرتی تو حزب اختلاف کی جماعتیں کہاں کھڑی ہونگی اور ان کے پاس اس آخری آپشن کے بعد سیاسی محاذ پر کیا کچھ بچے گا۔ اگر حکومت واقعی گرتی ہے تو یہ عمل جمہوریت کو اور زیادہ کمزو رکرنے کاسبب بنے گا اور ہم ایک بڑے سیاسی بحران کا شکار ہونگے۔ اگر مولانا کا آزادی مارچ میں کوئی تشدد ہوتا ہے یا حکومتی سطح سے اسے طاقت کے زور پر روکا گیا اور  اس کا نتیجہ پرتشدد ہوتا ہے تو ہم کہاں کھڑے ہونگے۔ پاکستان کی ریاست اور حکومت عالمی دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ ہم نے اپنے عملی اقدامات سے انتہا پسند اور دہشت گروہو ں، جتھہ برادر یا مسلح گروہ کو ختم کردیا ہے اور ایسے میں مولانا فضل الرحمن نے اپنا جتھہ اور مذہبی کارڈ پیش کرکے ریاستی اور حکومتی مشکلات کو بھی بڑھادیا ہے اور یہ عمل خود نیشنل ایکشن پلان کے بھی خلاف ہے۔

پاکستان میں وہ طبقہ جو واقعی جمہوریت کا حامی ہے اسے ہر صور ت میں مولانا فضل الرحمن کے سیاسی عزائم سے اپنا دامن بچانا ہوگا۔ مولانا ایک ہی وقت میں اسلام اور جمہوریت کو بطو رہتھیار استعمال کرکے اسٹیبلیشمنٹ سے اپنے معاملات طے کرنے کا سیاسی ہنر جانتے ہیں اور جو لوگ مولانا کی تحریک سے جمہوریت کے بھلا کا سوچ رہے ہیں وہ واقعی معصوم ہیں یا سیاسی تعصب کا شکار ہیں۔ مولانا عملی طور پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کو سیاسی ڈھال بنا کر اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کررہے ہیں اور اگر اس کے حصول کے لیے ان کو ان دونوں بڑی جماعتوں کو قربانی کا بکرا بھی بنانا پڑا تو وہ لمحہ کی دیر نہیں لگائیں گے۔

جب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور جے یو آئی سمجھتی ہیں کہ عمران خان کی حکومت ناکام ہوگئی ہے اور یہ سیاسی تاریخ کی بدترین حکومت ہے تو یہ تو ساری صورتحال سیاسی بنیادوں پر ان کے حق میں جاتی ہے۔ کیونکہ اگر عمران خان کی پاپولر سیاست کو بڑا خطرہ ہی اپنی ہی حکمرانی کے نظام سے ہے تو اس سے تو بہت جلد عمران خان کی حکومت کے سیاسی غبارے سے ہوا نکلے گی اور اگلی بار وہ انتخابی میدان میں سیاسی طور پر شکست خوردہ ہونگے۔ ایسی ناکا م حکومت کو دھرنوں سے گرانے کی بجائے اسے ووٹ کی مدد سے ہی نکالا جائے تو اس سے جمہوری عمل آگے بڑھے گا، وگرنہ جبر کی بنیاد پر کسی بھی حکومت کو گرانے سے وہ حکومت سیاسی مظلوم بن کر آج کی حزب اختلاف کے لیے اور زیادہ مشکلات پیدا کرے گی۔ اس لیے دھرنوں کی مدد سے حکومتوں کو ختم کرنا منفی سیاست ہے اور اس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •